یومِ عرفہ کیا ہے؟

نو ذی الحجہ کے دن کو یومِ عرفہ کہا جاتا ہے۔ یہ انتہائی مبارک دن ہے۔ یہ در حقیقت رحمتوں کے نزول، گناہوں کے دھو جانے اور اہلِ موقف کی عید کا دن ہے۔ یہی وہ دن ہے جس میں حاجیوں کے آنسو اور سسکیاں مل جاتی ہیں، مناجات طویل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان کے گناہ دنیا کے دنوں، بارش کے قطروں اور ریت کے ذروں کے برابر کیوں نہ ہو تب بھی میں ان کو معاف کرتا ہوں۔ چنانچہ شیطان رب کریم کے اس وسعتِ رحمت کو دیکھتے ہوئے ذلیل وخوار ہوکر سب سے چھوٹا ہو جاتا ہے ( طبرانی )

یومِ عرفہ اس اعتبار سے بھی نہایت مبارک ہے کہ اس میں حج کا سب سے بڑا رکن ”وقوف عرفہ” ادا ہوتا ہے، اور اس دن بے شمار لوگوں کی بخشش اور مغفرت کر دی جاتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اس دن کی برکات سے غیر حاجیوں کو بھی محروم نہیں فرمایا اور اس دن روزے کی عظیم الشان فضیلت مقرر کر کے سب کو اس دن کی فضیلت سے اپنی شان کے مطابق مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا ہے۔ یہی وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کی تکمیل فرمائی۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! تم ایک آیت قرآن مجید میں پڑھتے ہو، اگر وہ آیت ہم یہودیوں پرنازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بناتے۔ حضرت عمر فرمانے لگے وہ کون سی آیت ہے؟ جس پر اس یہودی نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 3 کے کچھ حصے کا حوالہ دیا۔ جس کا ترجمہ ہے: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لئے) پسند کرلیا۔ جواب میں حضرت عمر نے فرمایا: ہمیں اس دن اور جگہ کا بھی علم ہے، جب یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، وہ جمعہ کا دن تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن عرفہ میں تھے۔ اسی طرح حضرت عمربن الخطاب ہی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت (الیوم اکملت) جمعہ اورعرفہ والے دن نازل ہوئی اور یہ دونوں ہی ہمارے لیے عید کے دن ہیں۔

یہی وہ دن ہے جس پر بعض مفسرین کے مطابق قرآن کریم نے یومِ مشہود کا اطلاق کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیفرمایا: یوم موعود قیامت کا دن اور یوم مشہود عرفہ کا دن اور شاھد جمعہ کا دن ہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے مطابق اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تمام ذریت سے عہد میثاق لیا تھا چنانچہ فرماتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیا اور آدم علیہ السلام کی پشت سے ساری ذریت نکال کر ذروں کی مانند اپنے سامنے پھیلا دی اور ان سے آمنے سامنے بات کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں؟ ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تا کہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ تم تو اس سے محض بے خبر تھے یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم توان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، تو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟ (مسند احمد) (واضح رہے کہ اس حدیث میں یومِ عرفہ کے لئے نعمان کا لفظ استعمال ہوا ہے)

ذیل میں ہم اس عظیم دن (یومِ مشہود) کے متعلق چند اہم معلومات ذکر کرتے ہیں۔
(1) یوم عرفہ کو عرفہ یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب جبریل امین حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج بتاتے تو آپ علیہ السلام جواب میں فرماتے ”عَرَفتُ” یعنی میں نے پہچان لیا، یا میں سمجھ گیا، اور یا اس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم وحواء علیہما السلام کا یہاں تعارف ہوا تھا (کشف المشکل) (2) ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یومِ عرفہ کا روزہ یومِ عاشوراء سے افضل ہے کیونکہ یومِ عاشوراء کا روزہ حضرت موسی علیہ السلام کی طرف منسوب ہے جبکہ یومِ عرفہ کا روزہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے (فتح الباری) (3) یومِ عاشوراء کے روزہ سے ایک سال جبکہ یومِ عرفہ کے روزے سے دو سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ (1) یومِ عرفہ خود حرمت والے مہینے میں واقع ہے اس سے پہلے بھی حرمت والا مہینہ ہے اور بعد میں بھی جبکہ یومِ عاشوراء خود تو حرمت والے مہینے (محرم) میں آتا ہے لیکن اس کے بعد آنے والا مہینہ (صفر) حرمت والا نہیں ہے (2) یومِ عرفہ کا روزہ ہماری شریعت کی خصوصیات میں سے ہے بخلافِ عاشوراء کے روزے کے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے یومِ عرفہ کے روزے کے اجر کو بڑھا دیا گیا۔ (بدائع الفوائد) (4) یومِ عرفہ کے روزے سے آنے والے سال کے گناہ کیسے معاف ہوتے ہیں جبکہ وہ گناہ ابھی سرزد ہی نہیں ہوئے؟ اس کے جواب میں مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: (1) اللہ تعالی گناہوں سے اس کی حفاظت فرمائیں گے۔ (2) یا اتنا بے حساب اجر عطا فرمائیں گے کہ وہ آئندہ سال کے گناہوں کے لئے کفارہ بن جائے گا اگرچہ وہ گناہ ابھی ہوئے ہی نہ ہوں۔ (3) اگر واقع ہو بھی جائے تو قبل الوقوع ہی اُن گناہوں کا کفارہ ہو چکا ہوگا جیسا کہ کوئی قسم کا کفارہ پہلے دے اور حانث بعد میں ہو۔ (فیض القدیر)

(5) کیا کبیرہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں؟ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کے نزدیک مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ اگر کسی کے صغیرہ گناہ نہ ہوں تو کبیرہ گناہوں میں تخفیف کی قوی اُمید ہے۔ کبیرہ بھی نہ ہوں تو درجات بلند ہوں گے۔ (شرح صحیح مسلم) (6) رمضان کے مہینہ میں لیلة القدر کو اللہ تعالی نے بندوں سے پوشیدہ رکھا ہے چنانچہ یقین کے ساتھ کوئی نہیں جانتا کہ لیلة القدر کونسی ہے جبکہ ماہِ ذی الحجہ میں یومِ عرفہ کوسب جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ (7) یوم عرفہ میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے میدان عرفات میں موجود لوگوں پر فخر کرتے ہیں(مسنداحمد) (8) یوم عرفہ کا وقوف حج کا رکن اعظم ہے۔ (بخاری ومسلم) (9) یوم عرفہ کو اللہ تعالیٰ کثیر تعداد میں بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں۔ (صحیح مسلم) (10) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزہ کے بارہ میں فرمایا: یہ گزرے ہوئے اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (صحیح مسلم) (11) عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اتمامِ نعمت کرتے ہوئے دینِ اسلام کی تکمیل فرمائی اور اسلام کو اپنے بندوں کے لئے بطورِ دین پسند فرمایا۔ (سورہ مائدہ 3) (12) عرفہ کے دن اللہ آسمانِ دنیا پر اپنی شایانِ شان نزول فرماتے ہیں جبکہ باقی پورا سال ہر رات کے آخری حصہ میں اپنی شان کے مطابق نزول فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عظیم دن کی برکات سے بھرپور طریقے سے استفادہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔