ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان وفد بھیجنے کا فی الحال کوئی پلان نہیں۔
ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں سفارتی پیش رفت پاکستان کی ثالثی میں کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات اور رابطوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت جوہری معاملے پر بات چیت نہیں کر رہا، جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک فریم ورک پر پہنچ گئے ہیں، لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ بالکل قریب ہے۔ ممکنہ ایم او یو میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے بارے میں کوئی خاص تفصیلات نہیں، آبنائے ہرمز کا انتظام ساحلی ممالک کا حق ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی جارحیت سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ممکنہ معاہدے کا حصہ ہو گا۔ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر ٹول نہیں لے گا لیکن سروس چارجز لینا عام بات ہے، خدمات کی فراہمی کی فیس لینے کو ٹول نہیں کہا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:
چینی صدر کی مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف
اسماعیل بقائی نے کہا کہ 14 نکاتی ایم او یو جنگ کے خاتمے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر مرکوز ہے، بدلے میں ایران ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ اگر مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی تو اس کی بعض تفصیلات اور دیگر موضوعات بشمول جوہری معاملے پر آئندہ 60 روز کے دوران مذاکرات کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ امریکی ویزا مسائل کے باعث نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

