اسرائیل عالمی عدالت کے وارنٹ پر برہم،غزہ میں حملے،3شہید

تل ابیب/روم/دوحہ/غزہ/نیویارک/بیروت:اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے عالمی فوجداری عدالت کے متوقع وارنٹِ گرفتاری کو اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے فلسطینی گاؤں کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ ابھی آئی سی سی نے باضابطہ طور پر اسرائیلی وزیر خزانہ کے خلاف الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع میں مرکزی کردار ادا کرنے پر اسموٹریچ کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی گئی ہے۔

یروشلم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کے خلاف گرفتاری وارنٹِ جاری کرنا اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔انھوں نے عالمی فوجداری عدالت کو متعصب ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے تاریخی، مذہبی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے الزام لگایا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی قیادت کے خلاف عالمی عدالت کو متحرک کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی حکومت کے خلاف ہر ممکن معاشی اور انتظامی کارروائی کریں گے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عالمی عدالت اسرائیلی وزیر خزانہ پر فلسطینی بستیوں کو مسمار کرکے یہودی آبادکاری کی کوششوں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کرسکتی ہے کیوں کہ یہ جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خزانہ اسموتریچ نے مغربی کنارے میں 103 نئی یہودی بستیوں کے قیام یا قانونی حیثیت دینے کو بڑی کامیابی قرار دیا۔اسرائیلی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے دور میں 160 زرعی آؤٹ پوسٹس بھی قائم کی گئی ہیں جن کے ذریعے تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار ایکڑ اراضی پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

یہ زرعی بستیاں تکنیکی طور پر غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں کیونکہ انہیں کابینہ کی باقاعدہ منظوری حاصل نہیں تاہم اسرائیلی وزارتیں اور دفاعی ادارے ان کی معاونت اور حفاظت کرتے ہیں۔

ادھراسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق فوجی سروس چھوڑنے والے اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور80 فیصد اہلکار ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے فوج چھوڑ رہے ہیں۔اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے مستقل اور ریزرو فوجیوں پر پڑنے والا بوجھ بڑھ رہا ہے۔

حکام نے کہا کہ اگر کوئی حقیقی حل نہ نکالا گیا تو فوج مستقبل میں جنگی اور معمول کی سکیورٹی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جائیگی۔ اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مہینوں پر محیط مسلسل لڑائی نے بھی شدید تھکن اور ذہنی دباؤ پیدا کیا ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک مستقل فوجیوں کو تقریباً بغیر وقفے کے خدمات انجام دینا پڑ رہی ہیں اور انہیں آرام یا تربیت کے لیے مناسب وقت نہیں مل رہا۔

فوج کے اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 80 ہزار اسرائیلی شہری فوجی بھرتی سے بچ رہے ہیں، جن میں سے 75 فیصد الٹرا آرتھوڈوکس یہودی ہیں۔

دریں اثنائاسرائیلی فورسز نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کی ایک اور امدادی کشتی کو روک لیا ہے۔ فلوٹیلا کے مطابق کشتی کو غزہ سے تقریباً 150 کلومیٹر دور سمندر میں تحویل میں لیا گیا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز نے اینڈروس نامی امدادی کشتی کو اس وقت روکا جب وہ غزہ کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی۔

فلوٹیلا کی ویب سائٹ پر موجود ٹریکر کے مطابق کشتی غزہ سے تقریباً 82 ناٹیکل میل، یعنی لگ بھگ 150 کلومیٹر کے فاصلے پر تھی جب اسرائیلی اہلکاروں نے کارروائی کی۔فلوٹیلا کی جانب سے نشر کی جانے والی لائیو اسٹریمنگ میں دیکھا گیا کہ اسرائیلی فورسز ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے اینڈروس کے قریب پہنچیں جب کہ کشتی پر موجود کارکنوں نے ہاتھ بلند کر رکھے تھے۔

کچھ دیر بعد نشریات اچانک بند ہوگئیں اور اسکرین پر پیغام ظاہر ہوا کہ کشتی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔گلوبل صمود فلوٹیلا کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک اسرائیلی فورسز 61 امدادی کشتیوں کو روک چکی ہیں جب کہ مزید 9 کشتیاں تاحال غزہ کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں غزہ کی پٹی میں جاری غاصب صہیونی دشمن کی اندھی نسل کشی کے خلاف اور محصورین کی داد رسی کے لیے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ساتھ والہانہ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے اٹلی میں ایک تاریخی اور بھرپور عام ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں مواصلات، تعلیم اور لاجسٹک سروسز کے شعبے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔

یہ ہڑتال مزدور تنظیموں کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ، معصوم فلسطینیوں کے قتلِ عام اور غزہ کی پٹی کا جابرانہ محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے بحری بیڑے پر غاصب دشمن کے حملے کے خلاف کی گئی۔اس احتجاجی ہڑتال کے دوران اٹلی کے متعدد بڑے شہروں میں ”سب کچھ روک دو” کے نعرے کے تحت عظیم الشان مظاہرے کیے گئے جن کی کال مزدور یونینوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دی تھی۔

مظاہرین نے جہاں روزمرہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں،عسکری پالیسیوںاور صحت و تعلیم کی قیمت پر جنگی بجٹ میں اضافے کے خلاف شدید نعرے بازی کی، وہیں انہوں نے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی فوری بندش اور امدادی بیڑے کی بحفاظت منزل تک رسائی کے حق میں آواز بلند کی۔

قطر نے غزہ جانے والے امدادی کشتیوں کے قافلے کو روکنے اور امدادی کارکنوں کو حراست میں لینے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کو روکنا بین الاقوامی قانون،انسانی اقداراور بحری سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام غزہ پر عائد غیر منصفانہ محاصرے کو مزید مضبوط کرتا ہے، فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں اور فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو ہراساں کرنا، غزہ میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہاہے۔

قطر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیل پر دبا ئوڈالے تاکہ غزہ کے سرحدی راستے کھولے جائیں، امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ترجمان نے عالمی برادری سے مزید مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور حراست میں لئے گئے تمام کارکنوں کو بلا شرط رہا کیا جائے۔

ادھرغزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کی طرف سے پٹی پر جاری وحشیانہ جارحیت اور سفاکیت کے نتیجے میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہسپتالوں میں تین شہدا کے جسد خاکی اور تین زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی اپ ڈیٹ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ان شہدا میں دو بالکل نئے کیسز شامل ہیں جبکہ ایک زخمی فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

وزارت نے اس ہولناک صورتحال کی طرف بھی اشارہ کیا کہ غاصبانہ حملوں کے متعدد دیگر مظلوم متاثرین اب بھی ملبے کے نیچے اور راستوں میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ فیلڈ کے سنگین حالات اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹوں کے باعث ایمبولینس اور شہری دفاع کی ٹیمیں اب تک ان تک پہنچنے سے بالکل قاصر ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق دس اکتوبر سے سیز فائر کے آغاز کے بعد سے اب تک شہید ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 880 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 2605 تک پہنچ گئی ہے اور ملبے کے نیچے سے اب تک 776 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

قابض اسرائیلی افواج نے منگل کے روز بھی غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی اپنی مسلسل خلاف ورزیوں کو جاری رکھا۔ غاصب دشمن نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی و توپ خانے سے وحشیانہ بمباری کی اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ برقرار رکھا۔

ایک مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس کے ساحل کے قریب قابض اسرائیلی جنگی کشتیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں النجار خاندان سے تعلق رکھنے والے دو ماہی گیر شدید زخمی ہو گئے۔

غاصب دشمن کے جنگی طیاروں نے علی الصبح خان یونس کے علاقے مواصی پر ہولناک بمباری کی، جو پناہ گزینوں کے خیموں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بمباری ان مظلوم پناہ گزینوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے فون کالز کے ذریعے دھمکیاں دینے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔

اسی وحشیانہ مہم کے دوران قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے خان یونس کے علاقے مواصی میں ہی واقع شارع الطینہ پر بھی ایک اورحملہ کیا۔دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے اور مسمار کرنے کی مجرمانہ کارروائیاں انجام دیں۔

فلسطینیوں کی نسل کشی پر بضد قابض دشمن کی افواج نے جبالیہ بلدہ کے مشرق میں روشنی کے بم پھینکے اور جبالیہ کیمپ کے مغرب میں واقع الفالوجا کے علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہولناک فضائی حملہ کیاجبکہ قابض اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر جارحانہ دھائوں اور چھاپہ مار کارروائیوں کی مہم چلائی۔

اس فاشسٹ مہم کے دوران فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور متعدد شہریوں کو اغوا و گرفتار کر لیا گیا۔دوسری طرف فلسطینی نوجوانوں پر وحشیانہ تشدد کیا گیا اور رام اللہ کے مشرق میں واقع فلسطینی زمینوں کو نذر آتش کر کے ہولناک آگ لگا دی گئی۔

مقامی نامہ نگاروں نے مطلع کیا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے الخلیل کے جنوب میں واقع علاقے واد الجوایا میں اسیر مراد النواجچہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں وحشیانہ توڑ پھوڑ مچاتے ہوئے اسیر کی اہلیہ عبیر اور ان کی بیٹی ریما کو گرفتار کر لیا۔

غاصب دشمن کی افواج نے نابلس شہر پر بھی دھاوا بولا اور مختلف محلوں میں کئی گھروں میں گھس کر شدید توڑ پھوڑ کی اور تین شہریوں کو گرفتار کر لیا، جن کے نام ایہم الاسدی (مخیم العین سے)، ام عزیز بشکار (فیصل اسٹریٹ سے) اور ہاشم مصلح (رفیدیا کے علاقے سے) ہیں۔

اسی طرح قابض اسرائیلی افواج نے عصیرہ الشمالیہ بلدہ پر بھی یلغار کی اور استانی مرفت ناصر سوالمہ حمادنہ کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا۔

مقامی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں المغیر میں فلسطینیوں کی زرعی اراضی پر قابض اسرائیلی افواج کی طرف سے پھینکے گئے آتش گیر بموں کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جبکہ دوسری طرف متعدد فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں میں دشمن کے یہ دھاوے مسلسل جاری رہے۔

قابض اسرائیلی افواج نے طولکرم کے مشرق میں واقع قفین گاؤں اور عنبتا بلدہ پر دھاوا بول کر متعدد گھروں کی تلاشی لی اور اس دوران عنبتا پر حملے کے وقت کئی فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لے کر ان پر شدید جسمانی تشدد کیاجبکہ اس پورے علاقے میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔

صوبہ نابلس میں قابض اسرائیلی افواج نے عصیرہ القبلیہ گاؤں اور عصیرہ الشمالیہ بلدہ پر یلغار کرنے کے ساتھ ساتھ در شرف چیک پوسٹ کے راستے نابلس شہر میں داخل ہو کر رفیدیا کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر چھاپہ مارا اور شہر کے مغرب میں واقع مخیم العین پر بھی دھاوا بول دیا۔

مغربی کنارے کے دیگر علاقے بھی دشمن کے ان بیک وقت ہونے والے حملوں سے نہ بچ سکے جن میں جنین کا جابریات محلہ، قلقلة کے مشرق میں کفر قدوم بلدہ، مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع عناتا بلدہ، اریحا کا عقبہ جبر کیمپ اور الخلیل کے جنوب میں واقع یطا شہر شامل ہیں۔

قابض اسرائیلی افواج نے گرفتاریوں کی اس وسیع مہم کے دوران قفین پر حملے کے وقت رہا ہونے والے اسیر ارقم ہرشہ، وسام ابو سلیم، تامر شقیر اور اسلام محمود ہرشہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا جبکہ کفر قدوم سے تین سگے بھائیوں اور سلواد سے ایک معصوم بچے احمد لطفی النجار کو بھی اغوا کر لیا۔

طوباس کے جنوب میں واقع الفارعا کیمپ میں دشمن کی پیادہ فوج کے دستے کیمپ کی گلیوں اور کوچوں میں پھیل گئے اور گھروں میں گھس کر بڑے پیمانے پر تلاشی اور گرفتاریوں کی مہم چلائی جس کے کئی گھنٹوں بعد وہ کیمپ سے پیچھے ہٹے۔

دوسری طرف قابض اسرائیلی افواج نے دہیشہ کیمپ سے نوجوان حسن الزغازی اور الخلیل کے شمال میں واقع العروب کیمپ پر حملے کے بعد دو نوجوانوں جمال رامی المغرب اور محمد نبیل دہمان کو گرفتار کر کے عقوبت خانوں کی طرف منتقل کردیا۔

ادھر طولکرم کیمپ کے مضافات میں قابض اسرائیل کی ظالم افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔اس دوران علاقے کا سخت ترین محاصرہ کیا گیا اور معصوم شہریوں کے مکانات پر زبردستی قبضہ کر کے ان کے باشندوں کو جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا تاکہ ان گھروں کو عسکری بیرکوں میں تبدیل کیا جا سکے جبکہ کسی بھی مظلوم شہری کو کیمپ کے اندر اپنے گھر تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مغرب میں واقع الحثرورہ بستی میں معصوم فلسطینی چرواہوں پر بزدلانہ حملہ کر دیا۔القدس گورنری نے تصدیق کی ہے کہ یہودی آباد کاروں کے ایک شرپسند گروہ نے بستی پر دھاوا بولا اور وہاں مویشی چرانے والے نہتے شہریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

ادھراقوامِ متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں جو کئی مواقع پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر ایسے حملے کیے جن میں ہزاروں فلسطینی شہری شہید ہو گئے جبکہ متعدد اموات غیر قانونی قرار دی گئیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ نسل کشی جیسے اقدامات روکے، بے گھر فلسطینیوں کو گھروں کو واپسی کی اجازت دے اور فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جبری نقل مکانی کی نئی وارننگ جاری کر دی جس کے بعد علاقے میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جنوبی لبنان کے شہر طائر کے علاقے میں نئی جبری انخلا کی دھمکی دی ہے۔

یہ نیا حکم اس کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جب اسی فوجی ترجمان نے برج شمالی کے رہائشیوں کو بھی فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔لبنان میں اب تک دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جس کے باعث ملک میں پہلے سے جاری انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

جنوبی لبنان پر قابض اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں6 افرادجاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔لبنانی نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے کفر صیر قصبے (النببطیہ ضلع) میں ایک نئی لرزہ خیز سفاکیت کا ارتکاب کیا ہے، جہاں اس کے جنگی طیاروں نے المحفرہ محلے میں رہنے والے شہری ابو نزقمیحہ کے گھر پر بمباری کر کے چار افراد کو جاں بحق اور دو کو زخمی کر دیا۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ اس وحشیانہ فضائی حملے کے نتیجے میں علی نز قمیحہ، ان کی والدہ صفیہ بدر الدین، ان کی پھوپھی نزیہہ حمزہ قمیحہ اور احمد سبلینی جاں بحق ہو گئے جبکہ احمد کی والدہ سہام حمزہ قمیحہ اور ان کے بھائی نزیہہ حمزہ قمیحہ (مکان کے مالک) زخمی ہو گئے۔

غاصب صہیونی ریاست کی معیشت پر جنگ کے تباہ کن اثرات کے باوجود قابض اسرائیل کی فوج 2026ء کے سیکورٹی بجٹ میں 40 سے 45 ارب شیکل کے خطیر اضافے کا مطالبہ کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے جبکہ اسرائیل کی وزارتِ مالیات کی طرف سے اس مطالبے کی شدید مخالفت متوقع ہے۔