امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں مبینہ طور پر حکومت کی تبدیلی کے لیے تیار کیے گئے ایک خفیہ منصوبے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا مقصد صرف تہران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر منصوبہ بھی موجود تھا، جس کے تحت ایرانی سیاسی نظام کو مفلوج کر کے متبادل قیادت سامنے لانے کی تیاری کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس خفیہ منصوبے کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا کر ملک میں سیاسی خلاء پیدا کرنا مقصود تھا تاکہ بعد ازاں ایک نئی حکومت قائم کی جا سکے۔
نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے ابتدائی مراحل میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیلی منصوبہ سازوں کو امید تھی کہ اس حملے کے بعد ایران کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہی کارروائیوں کے دوران تہران کے علاقے نارمک میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کے قریب بھی ایک خفیہ آپریشن کیا گیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے اس سیکیورٹی پوسٹ کو نشانہ بنایا جہاں پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار احمدی نژاد کی نگرانی کر رہے تھے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق حملے میں سیکیورٹی پوسٹ تباہ ہوگئی جبکہ احمدی نژاد کا گھر محفوظ رہا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق ایرانی صدر معمولی زخمی ہوئے تاہم محفوظ رہے۔
امریکی حکام اور احمدی نژاد کے ایک قریبی ساتھی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کارروائی کا مقصد دراصل احمدی نژاد کو ایرانی فورسز کی نگرانی سے نکالنا تھا تاکہ انہیں نئی سیاسی قیادت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
تاہم صورتحال توقعات کے برعکس نکلی اور ایران میں نہ تو کوئی بڑی عوامی بغاوت سامنے آئی اور نہ ہی ریاستی نظام مکمل طور پر ٹوٹ سکا۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد احمدی نژاد منظرِ عام سے غائب ہوگئے، جس کے باعث مبینہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی شروع دن سے واضح تھی اور امریکی کارروائیوں کا مقصد صرف ایران کے میزائل پروگرام، عسکری تنصیبات اور نیٹ ورک کو نشانہ بنانا تھا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی منصوبے میں کرد فورسز کو متحرک کرنا اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا کر عوام میں یہ تاثر پیدا کرنا بھی شامل تھا کہ حکومت اپنا کنٹرول کھو چکی ہے، تاہم ایرانی قیادت نے حالات پر قابو پا لیا اور مبینہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

