خصوصی رپورٹ: امتیاز احمد تارڑ
پاکستان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ بہت کچھ کہا گیا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ ملک چند سالوں کا مہمان ہے۔ کچھ نے نقشے پر انگلی رکھ کر کہا یہ سرحدیں پکی نہیں۔ کچھ نے دشمنی میں، کچھ نے لاعلمی میں اور کچھ نے حسد میں یہ فیصلہ سنایا کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا، بکھر جائے گا، مٹ جائے گا۔ مگر یہ ملک ہے کہ ہر بار ان سب کو غلط ثابت کر کے ان سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سینہ تان کر کھڑا ہوجاتا ہے، کیونکہ کچھ قومیں صرف جغرافیے سے نہیں ایمان سے جیتی ہیں اور پاکستان انہی قوموں میں سے ایک ہے۔
مئی 2025ء کی وہ رات جب دشمن نے ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا، شاید وہ بھول گیا تھا کہ یہ وہی قوم ہے جس نے 1965ء میں بھارتی فوج کو پلٹا دیا تھا۔ یہ وہی مٹی ہے جس نے اپنے سینے پر بم کھا کر بھی پرچم جھکنے نہیں دیا۔ دشمن نے میزائل چھوڑے، ڈرون بھیجے، سرحدوں کو للکارا اور سوچا شاید اب کی بار یہ ڈر جائیں گے۔ شاید اب کی بار یہ جھک جائیں گے۔ شاید اب کی بار یہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔دشمن نے جب بھی سمجھا کہ پاکستان کمزور پڑ گیا ہے پاکستان نے اُٹھ کر اسے ایسا جواب دیا جو نسلوں تک یاد رہا۔ یہ جواب الفاظ میں نہیں عمل میں تھا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے آسمان کو چیرا اور دشمن کو بتا دیا کہ یہ فضا ہماری ہے، یہ آسمان ہمارا ہے، جو اسے چھونے کی جرا¿ت کرے گا وہ واپس نہیں جائے گا۔ پاک فوج کے جوانوں نے زمین پر بتا دیا کہ ہماری سرحدیں محض لکیریں نہیں بلکہ ہمارے شہیدوں کے لہو سے کھینچی گئی ہیں اور ہم انہیں اپنی جانوں کی قیمت پر بھی محفوظ رکھیں گے۔ آپریشن ’بنیان مرصوص‘ یہ نام قرآن کریم کی اس آیت سے لیا گیا ہے جس کا مفہوم ہے ’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘ اور واقعی اس آپریشن میں پاکستان ایک ایسی دیوار بن کر کھڑا ہوا جسے دشمن کی کوئی طاقت نہ ہلاسکی۔ پاک فضائیہ نے جس درستگی اور مہارت سے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنایا جس برق رفتاری سے جوابی کارروائی ہوئی، جس حکمتِ عملی سے ہر قدم اٹھایا گیا، دنیا بھر کے فوجی ماہرین حیران رہ گئے۔ امریکا سے لے کر یورپ تک سب نے مانا کہ پاکستان کی فوجی قوت کا اندازہ لگانا غلطی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:
حجاز ریلوے، اِسلامی ممالک کو جوڑنے والے تاریخی منصوبے کا احیا
یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ یہ دہائیوں کی تیاری کا نتیجہ تھا۔ وہ جوان جنہوں نے برسوں تک ریگستانوں میں مشقیں کیں، پہاڑوں پر راتیں گزاریں، گھر والوں سے دور رہ کر اس لمحے کا انتظار کیا وہ جوان جب میدان میں اُترے تو انہوں نے ثابت کردیا کہ تیاری کبھی ضائع نہیں جاتی۔ پاک فضائیہ کے پائلٹوں نے آسمان میں وہ تاریخ لکھی جو آنے والی نسلیں فخر سے پڑھیں گی۔ اس معرکے میں صرف وردی والے نہیں لڑے۔ اس معرکے میں پوری قوم لڑی۔ وہ ماں جس نے اپنے بیٹے کو فوج میں بھیجا اور رات بھر جائے نماز پر بیٹھ کر دعائیں مانگتی رہی ،وہ بھی اس معرکے کی سپاہی تھی۔ وہ باپ جس نے اپنی آنکھوں میں آنسو چھپا کر بیٹے کو رخصت کیا اور کہا ’جا بیٹا! پاکستان کی حفاظت کر‘ وہ بھی اس فتح کا حصہ دار ہے۔ وہ بچہ جس نے سکول میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا، اس کا جذبہ بھی اس معرکے کا ایندھن تھا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ پاکستان ہمیشہ آزمائش میں اور نکھرا ہے۔ 1965ءکی جنگ میں جب بھارت نے لاہور پر حملہ کیا ،لاہور کے عام شہری سینہ تان کر سرحد پر آ گئے۔1971 ءکے زخموں کے باوجود یہ قوم ٹوٹی نہیں بلکہ اس نے ایٹمی طاقت حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیں۔ 1998ءمیں جب پوری دنیا نے دھمکیاں دیں، پابندیاں لگائیں، کہا کہ ایٹمی دھماکہ مت کرو ،پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں کو گواہ بنایا اور اعلان کیا: ہم غلام نہیں، ہم آزاد ہیں، ہم اپنی حفاظت آپ کریں گے۔
پاکستان کی تاریخ دراصل ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جو گرتی ہے، لڑکھڑاتی ہے مگر ہمیشہ اٹھ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ آج بھی وہی جذبہ، وہی جنون، وہی ایمان ہے، جب دشمن کے میزائل گرے تو پاکستانی عوام گھروں میں چھپے نہیں ،انہوں نے چھتوں پر آ کر اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھایا۔ جب افواہیں پھیلیں تو نوجوانوں نے سچ کو آگے بڑھایا۔ جب دشمن نے سوشل میڈیا پر جھوٹ کا طوفان اٹھایا تو پاکستانی ذہانت نے اسے زمین بوس کر دیا۔ یہ اکیسویں صدی کی جنگ تھی جسے پاکستان نے اسے ہر محاذ پر جیتا۔ آج جب میں اپنے ان شہیدوں کے بارے میں سوچتا ہوں جو اس معرکے میں ہم سے بچھڑ گئے ،تو سینے میں ایک درد اٹھتا ہے، آنکھیں بھاری ہوجاتی ہیں۔ وہ ماوں کے بیٹے تھے، بہنوں کے بھائی تھے، بچوں کے باپ تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا سودا اس لیے کیا کہ ہم آرام سے سو سکیں، ہمارے بچے محفوظ رہیں، ہمارا پرچم سربلند رہیں۔ ان کا قرض ہم پر ہے اور یہ قرض ہم صرف اسی طرح اُتار سکتے ہیں کہ اس ملک کو اتنا مضبوط بنائیں، اتنا باوقار بنائیں کہ دشمن دوبارہ آنکھ اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں:
کچھ لوگ پوچھتے ہیں اس ملک نے ہمیں کیا دیا؟ سوال غلط نہیں مگر جواب صرف اعداد و شمار میں نہیں ہے۔ اس ملک نے ہمیں ایک شناخت دی، ایک ایسی شناخت جس پر دنیا میں سر اٹھا کر چلا جاسکتا ہے۔ ’میں پاکستانی ہوں‘ یہ جملہ کہنے میں جو فخر ہے، جو عزت ہے، جو حرارت ہے ، وہ کوئی اور نہیں دے سکتا۔ اس شناخت کی حفاظت کے لیے ہمارے جوانوں نے جو قیمت ادا کی ہے، وہ ہمیں کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔ ’میں پاکستانی ہوں‘ یہ محض ایک جملہ نہیں یہ ایک عہد ہے، ایک ذمہ داری ہے، ایک فخر ہے۔ ہم نے اس سرزمین پاک کیلئے ہیرے جیسے علماءقربان کیے، شیخ الحدیث مولانا ادریس ؒجیسے بزرگوں کا لہو دیا۔ کراچی سے لیکر خیبر تک ہزاروں علماءکرام نے اس وطن پر خون نچھاور کیا تاکہ اس کی بنیادیں مضبوط ہوں: گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی…. سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی، پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے یہ اہل چمن….یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں!

