اڑنگاپڑنگا

یو اے ای سخت غصے میں ہے اور ایران کو امن کے لیے خطرہ اور جارح قرار دے رہا ہے۔ یو اے ای کے اس غصے اور موقف کا پس منظر اور وجہ وہ حملے ہیں جو پیر اور منگل کو مسلسل دوروز مبینہ طور پر ایران کی طرف سے ہوئے ہیں۔ یو اے ای کے ا حتجاج کے بعد ایران نے (غیرآفیشلی) لب کھولے ہیں اور کہا ہے: ‘حملے اس کی طرف سے نہیں ہوئے۔ اگر وہ حملے کرتا تو اعلان کرتا’۔ حملے تو یقینا ہوئے ہیں یعنی یو اے ای تو اس بابت جھوٹ نہیں بول رہا۔ اگر ایران نے حملے نہیں کیے تو پھر کس نے کیے 21ویں صدی کے انتہائی ترقی یافتہ دور میں اس کی تحقیق مشکل نہیں ہونی چاہیے اور چوں کہ ایران پہلے بھی یہ حرکت کرچکا ہے اور ایک بار نہیں بار بار کرچکا ہے۔ چھیڑ خانی کے طور دوبارہ اس نے ایسا کیا ہو تو کوئی بعید نہیں۔ ایسا کہا جا سکتا ہے کہ ایران کو خلیجی ممالک پہ حملے کا چسکا لگ گیا ہے اور ایسا چسکا جلدی جلدی دور نہیں ہوتا۔ تمام حالات کے پیش نظر ممکنہ طور پر ایران کے انکار کو جھوٹ کہا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی ایران کے سرکاری مذہب میں جھوٹ بولنا کار ثواب ہونا بیان کیا جاتا ہے۔ کیا پتا ایران اس ثواب سے محروم رہنا پسند نہ کرتا ہو، حملے کر بھی رہا ہو اورحملے سے انکاری بھی ہو۔ یعنی مزے اور وہ بھی دو دو۔
خیر ایران تو جو کرے سو کرے ہے لیکن کیا یو اے ای حملے کے جواب میں صرف مذمتی بیان دے گا یا ایران کی مرمت کے بھی جذبات رکھتا ہے۔ اس بابت یو اے ای نے کچھ نہیں کہا۔ یہاں سوال ایک اور بھی ہے کہ یو اے ای کے پاس جواب دینے کی صلاحیت بھی ہے یا بس زبانی جمع خرچ ہی ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اماراتی صدر سے رابطہ کیا ہے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، حملے کی مذمت کی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم جناب چھوٹے میاں نے بھی یو اے ای سے دلی ہمدردی محبت کا اظہار کیا اور حملے کی مذمت کی ہے۔ فی الحال یو اے ای کی اپنی اور یہ دو مذمتیں کافی ہیں۔ ہوسکتا ہے قطر اور کچھ دوسرے ممالک بھی یو اے ای سے اظہار محبت اور حملوں پر مذمت کر دیں۔ اُمید ہے اتنی مذمتیں اور ہمدردیاں یو اے ای کا غصہ ٹھنڈا کر دیں گی۔
٭٭٭
اطلاعات کے مطابق رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے لالہ آباد اور سکھن سے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث لالو گروہ سے تعلق رکھنے والے 2ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے رینجرز کی جانب سے کراچی میں ایسی کارروائیا ں تسلسل کے ساتھ سامنے آرہی ہیں لیکن یہاں کا سابقہ ریکارڈ یہ رہا ہے کہ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ملزم جب پولیس کی تحویل میں جاتے ہیں اور دونوں جانب سے ہم تمہارے تم ہمارے کے اشارے ہوتے ہیں تو عدالت میں ایسا بودا کیس جاتا ہے کہ جلد ہی ملزمان ضمانت پر رہا یا باقاعدہ بری ہو جاتے ہیں اور پہلے سے زیادہ زور و شور سے لوٹ مار شروع کرتے ہیں۔ جان لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ سندھ پولیس میں جس طرز کے جتنے بڑے آپریشن کی ضرورت ہے جب تک وہ نہیں ہوگا یہ کھیل جاری رہے گا اور زندہ بھٹو کے دیس میں وہ آپریشن نہ ہونا زرداری و بلاول سائیں کی مجبوری اور بہت ضروری ہے۔ ایسا آپریشن ہوگیا تو ان سائیں لوگوں کے مزے ختم ہو جائیں گے۔
٭٭٭
کے پی میں بڑے خاں صاحب کی پارٹی کی حکومت ہے اور تیسرے پنج سالہ میں چل رہی ہے۔ وفاق سے پھڈا صوبائی حکومتوں کا چلتا ہی رہتا ہے حتی کہ وفاق اور صوبے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہو تب بھی ہلکا پھلکا اڑنگا پڑنگا چلتا رہتا ہے اور یہاں تو ن لیگ اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کی پیدائشی مخالف ہیں۔ کے پی کے موجودہ وزیر اعلیٰ جوان سال سہیل آفریدی جب سے تشریف لائے ہیں گلہ شکوہ کھل کھلا کر سامنے آنے لگا ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی میں قلم چھوڑ ہڑتال کروارہے ہیں پتا نہیں اس سے وفاق کو کتنا اور کیا نقصان ہوگا اور وفاق اس کے بدلے کتنی اور کیسے کرم نوازی کرے گا۔ تاہم وزیراعلیٰ کو اپنے ووٹروں پر اپنی جارح مزاجی ثابت کرنے کے لیے بہہہہہت کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔ اللہ کرے چھوٹے میاں صاحب ان کے سر پہ دست شفقت رکھیں، کچھ تھپکی وپکی دیں، شاید بچے کا غصہ دور ہو جائے۔