حجاز ریلوے، اِسلامی ممالک کو جوڑنے والے تاریخی منصوبے کا احیا

رپورٹ: علی ہلال
ترکیہ کی جانب سے گزشتہ برس ستمبر شام تک ریلوئے لائن بچھانے کے اعلان کے بعد اس منصوبے میں ایک نئی تبدیلی دیکھنے میں آگئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے بھی اس تاریخی منصوبے میں شامل ہونے کا اعلان سامنے آیا ہے جس پر مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کے تعلقات کی اُمید لگانے والے افراد غیرمعمولی خوشی محسوس کررہے ہیں۔
عرب دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کے جزیرہ نمائے عرب اور بلادِ شام کے ممالک کے باشندوں نے شوسل میڈیا پر اس منصوبے پر غیرمعمولی خوشی ظاہر کی ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ منصوبہ اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ سعودی عرب کے وزیر مواصلات اور اسٹرٹیجک اُمور کے وزیر صالح جاسر نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حجاز کی تاریخی ریلوے کی بحالی پر اتفاق ہوا ہے۔ سعودی پوسٹ کے مطابق سعودی عرب نے ایک اہم تاریخی منصوبے کی بحالی کے لیے پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق جدید حجاز ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی 2026ء کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے جبکہ مالی وسائل اور متعلقہ ممالک کے درمیان سیاسی اتفاقِ رائے کی صورت میں 2027ء تک عملی تعمیراتی کام شروع کیا جاسکتا ہے۔ یہ منصوبہ ترکیہ، شام، اُردن اور سعودی عرب کو ریل کے ذریعے جوڑنے کا ایک بڑا اقدام ہے جسے خطے میں ایک نئے لاجسٹک کوریڈور کے قیام کی کوشش قرار دیا جارہا ہے جو خلیج کو یورپ سے ملائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:

شام کے لاپتہ بچے اور معصوم جانوں کی خاموش نسل کشی کا نوحہ

رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکا اور ایران جنگ کے دوران جب آبنائے ہرمز کو بند کردیا گیا تو اس موقع پر سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی تیل اور گیس سپلائی متاثر ہوئی، جس پر پہلی بار خلیج کے دولت مند ممالک نے متبادل راستوں کی تلاش شروع کی۔ سعودی عرب اگرچہ 80 کی دہائی میں بچھائی گئی پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر پر واقع ینبع پورٹ کے ذریعے تیل سپلائی جاری رکھے ہوئے ہے تاہم متبادل راستوں کی تلاش کی سعودی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان راستوں میں ترکیہ اور سعودی ٹرانزٹ معاہدہ بھی اہم ہے جبکہ ریلوے لائن کا منصوبہ بھی اس میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پٹری ممکنہ طور پر سعودی عرب کے مشرقی علاقے ’دمام‘ سے شروع ہوگی جو مکہ مکرمہ سے ہوتے ہوئے تبوک اور اُردن تک بچھائی جائے گی۔ اُردن سے شام اور شام سے ترکیہ کے راستے یورپ تک بچھائی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی بحالی سے مقامی اور علاقائی سطح پر ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد ملے گی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔
عالمی سطح پر یہ ریلوے نیٹ ورک خلیجی ممالک کو یورپ سے جوڑ کر سامان کی ترسیل کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی لاسکتا ہے جو سمندری راستوں کے مقابلے میں زیادہ موثر ثابت ہوگا۔ یہ منصوبہ سعودی وژن 2030ء کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے جس کا مقصد مملکت کو ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک عالمی لاجسٹک مرکز بنانا ہے۔ سعودی وزیرِ ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس صالح الجاسر کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ اس منصوبے پر قریبی تعاون کررہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ترکیہ، شام اور اُردن کے درمیان ریلوے لائن کی بحالی اور تعمیر پر توجہ دی جائے گی جو اس منصوبے کی بنیاد ہوگی۔ بعدازاں اس نیٹ ورک کو جنوب کی جانب بڑھا کر سعودی ریلوے سسٹم سے جوڑا جائے گا جو بالآخر ریاض تک پہنچے گا۔ تینوں ممالک اُصولی طور پر اپنے ریلوے نیٹ ورکس کی بحالی اور باہمی ربط پر متفق ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھیںہرمز، ایک عظیم عرب مملکت کی کہانی جسے پرتگالیوں نے ختم کیا
اگرچہ منصوبہ اُمید افزا ہے لیکن اسے کئی تکنیکی اور لاجسٹک چیلنجز کا سامنا ہے۔ خاص طور پر شام میں طویل تنازعات کے باعث ریلوے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی بحالی کے لیے بھاری سرمایہ درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک میں ریلوے ٹریک کے معیار (گیج) میں فرق بھی ایک بڑا مسئلہ ہے؛ ترکیہ عالمی معیار (1435 ملی میٹر) استعمال کرتا ہے جبکہ تاریخی حجاز ریلوے کے بعض حصے تنگ گیج (1050 ملی میٹر) پر مبنی ہیں جس کے باعث یکسانیت پیدا کرنا ضروری ہوگا۔ ترکیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو نے اس منصوبے کو شمال سے جنوب تک ایک مسلسل تجارتی راہداری کے قیام کی طویل المدتی کوشش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ریلوے نیٹ ورک نہ صرف خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ سڑکوں پر ٹرک ٹرانسپورٹ کے دباو کو بھی کم کرے گا۔ اس سے سامان کی نقل و حرکت تیز اور موثر ہوگی جبکہ عالمی سپلائی چین میں بھی بہتری آئے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب منصوبے کے لیے مالیاتی اور انتظامی فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔
ترک پریس کے مطابق معروف مورخ ڈاکٹر علی محمد الصلابی نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے فرمانروا سلطان عبدالحمید ثانی نے مسلم دنیا کو قریب لانے کے لیے مذہبی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی، مالی امداد اور حرمین شریفین کی خدمت کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ بنایا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت انہوں نے عرب عوام کو بھی اپنے قریب کیا اور اہم شخصیات کو ریاستی اُمور میں شامل کیا جن میں ’عزت پاشا العابد‘ نمایاں تھے جنہوں نے حجاز ریلوے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مضمون کے مطابق دمشق سے مدینہ منورہ تک پھیلا یہ ریلوے منصوبہ محض ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں تھا بلکہ اسے خلافت کے استحکام اور مسلم اتحاد کے فروغ کا ذریعہ سمجھا گیا۔ موجودہ دور میں یہ منصوبہ دوبارہ توجہ حاصل کررہا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب سعودی عرب، ترکیہ، اُردن اور شام کو ریلوے کے ذریعے جوڑنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں جو خطے میں اقتصادی و جغرافیائی تبدیلیوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہیں۔ اس منصوبے کے تین بنیادی مقاصد تھے؛ ریاست کے دُوردراز علاقوں کو آپس میں جوڑنا، صوبوں کو مرکزی نظام کے تابع کرنا اور کسی بھی محاذ پر دفاعی کارروائی کے لیے فوج کی تیز رفتار نقل و حرکت کو ممکن بنانا۔
حجاز ریلوے کی تعمیر 1900 میں شروع ہوئی جس کا مقصد قافلوں اور سمندری راستوں کے مقابلے میں سفر کو آسان بنانا تھا۔ جہاں پہلے یہ سفر کئی ہفتوں میں مکمل ہوتا تھا وہیں ٹرین کے ذریعے اسے چند دنوں تک محدود کر دیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے پوری مسلم دنیا سے عطیات جمع کیے گئے جن میں ہندوستان، مصر اور ایران کے مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1908ء میں یہ ریلوے مدینہ منورہ تک پہنچ گئی تاہم مکہ مکرمہ تک اس کی توسیع مکمل نہ ہوسکی۔ بعدازاں پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانوی افواج اور ان کے اتحادیوں نے اس ریلوے کو نقصان پہنچایا جس کے بعد یہ طویل عرصے سے غیرفعال ہے۔ برطانوی سفیر نے 1907ء کی اپنی رپورٹ میں اس منصوبے کو سلطان کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جس کے ذریعے وہ خود کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے رہنما کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم یورپی طاقتیں اس منصوبے کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتی تھیں اور اسے ناکام بنانے کی کوششوں میں مصروف رہیں۔ ڈاکٹر الصلابی کے مطابق آج کے دور میں حجاز ریلوے کی بحالی صرف ایک تاریخی منصوبے کی واپسی نہیں بلکہ ایک نئی اسٹریٹجک ضرورت بھی بن چکی ہے۔ عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹوں اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث یہ منصوبہ خطے میں تجارت اور نقل و حمل کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر اس منصوبے کو جدید تقاضوں کے مطابق بحال کیا جائے تو یہ مسلم دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون اور علاقائی انضمام کو فروغ دے سکتا ہے۔ یوں حجاز ریلوے محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی ایک زندہ اور ممکنہ حقیقت کے طور پر سامنے آرہی ہے۔