دماغ میں خارش

عام خارش کا علاج بھی کافی مشکل ہوتا ہے لیکن دماغی خارش کا تو بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وقت امریکا اور ایران یہ مقابلہ کر رہے ہیں کہ کس کے دماغ میں زیادہ خارش ہے۔ کوئی لیب ہو کوئی ٹیسٹ ہو، کوئی پیمانہ ہو جہاں دماغی خارش کی تشخیص ہو سکتی ہو تو غالباً وہ سسٹم وہ مشینری وہ لیب، ٹیسٹ کا وہ نظام سب فیل ہو جائے کس کے دماغ میں زیادہ خارش ہے، یہ فیصلہ شاید نہ ہو کے دے سکے۔ ہندوستان اور اسرائیل کی دماغی خارش بھی انھیں اکسا رہی ہے پاکستان سے چھیڑ خانی کو، اسرائیل خود ہمت کرنے کی بجائے ہندوستان کو تھپکی دے رہا ہے اور ہندوستان بھی شیر کے منہ میں ہاتھ دینے کی بجائے ادھر ادھر سے آلہ کار اور ہتھکنڈوں کو سامنے لا لا ڈالتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کو الجھانا ہے۔ خود ٹکر لینے کی ہمت نہیں لیکن دماغی خارش چین بھی نہیں لینے دے رہی۔ کچھ ذرائع کا خیال ہے ہندوستان ایک بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ آلات و وسائل تو اس کے پاس پہلے بھی کم نہیں، کمی تو جگرے کی ہے۔ یہاں تو معاملہ ہے مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔ لیکن بے تیغ لڑنے کا جذبہ رکھنے کے ساتھ ضرورت کے مطابق وسائل ذرائع آلات بھی رکھنا حکم الٰہی ہے، اس لیے پاکستان اس معاملے میں بھی کسی سے کم نہیں۔
٭٭٭
کہنے کو امریکا بھی پاکستان کو ثالث مان رہا ہے۔ ایرانی طبیعت میں اچھا خاصا ابال ہے اور بار بار ابل ابل کر سامنے آرہا ہے لیکن باقی دنیا گھاس نہیں ڈال رہی (تو مجبوراً) پاکستان کو ثالث مان رہا ہے لیکن بیچ میں نخرے وخرے دکھانا بھی اپنا حق سمجھتا ہے۔ دونوں ثالث بھی مان رہے ہیں، اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں لیکن ایران اور امریکا دونوں ہی پاکستان کی رائے کی بجائے اپنی اپنی رائے پر زیادہ زور د ے رہے ہیں، یعنی دونوں اپنی اپنی بوئے سلطانی اور خوئے سلطانی کو زندہ و تابندہ رکھنا چاہتے ہیں اور گزشتہ دو تین روز سدھرتے حالات اب گزشتہ روز سے بگڑنا شروع ہو گئے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات دھرنے لگے ہیں۔ زبانی کلامی یہ تو تکار اور بگاڑ کہاں تک جائے گا اللہ جانے! کیا پتا ہلکی پھلکی چھیڑ خانی کب زور دار بھڑک بن جائے۔ حالات پہ نظر رکھنے والوں کا خیال ہے پاکستان کو جنگ میں گھسیٹنے کی سر توڑ کوششیں ہیں، پاکستان بچنا چاہ رہا ہے لیکن یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا اور شاید اسرائیل و ہندوستان کو ایسے ہی لمحات کا انتظار ہے۔
٭٭٭
کراچی میں اس بار گرمی ذرا دیر سے آئی ہے لیکن خوب پل پلا کے تیار ہوکر آئی ہے اور آتے ہی چھا گئی ہے، گزشتہ روز اس نے درجن بھر افراد کو اللہ کے حضور پہنچا دیا۔ باقی ملک میں موسم خوشگوار بتایا جا رہا ہے اور کراچی والے پنجاب، کے پی کی حالت سن سن کے آہیں بھرتے پائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دو روز تو خاصا کرارا موسم گزرا ہے۔ ابھی اور کرارے پن کا امکان موجود ہے۔ اللہ جانے کب تک یہ موسم رہتا ہے اور کب سمندری ہوائیں اس موسم کی تپش کو کم کرتی ہیں۔ کراچی میں دو روزہ گرمی نے سب کو ہی ہلا دیا ہے۔ ہاں البتہ کراچی کے موسم اور محبوب کے مزاج کا بھروسا نہیں کب کیا ہو جائے۔ کراچی کے موسم کے سامنے محکمہ موسمیات کی پیشین گوئیاں بھی منہ چھپاتی پھرتی ہیں۔
٭٭٭
کراچی کی زیر تعمیر اور زیر مرمت سڑکیں دہائی دے رہی ہیں، زبانِ حال سے منت سماجت کیے جا رہی ہیں کہ خدا کے لیے ہمیں بنا دو سنوار دو یا ہماری جان چھوڑ دو۔ یہ کیا کہ کھرچا جا رہا ہے اور بس کھرچا ہی جا رہا ہے لیکن سندھ سرکار بھی اپنے جیسی دنیا کی واحد حکومت ہے۔ اس کے کان ایسے سن ہیں کہ جوں کیا کھٹمل مچھر سبھی زور لگاتے رہیں، سرکار کی کیفیتِ استغراقی ویسی کی ویسی رہے گی۔ اوپر سے اس سرکار کے سرپرست اعلی جناب بلاول فرماتے ہیں سندھ حکومت کا مقابلہ پاکستان کے کسی شہر سے نہیں، دنیا سے ہے۔ موصوف نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کس دنیا سے ہے۔ یا شاید سندھ حکومت خود ہی وہ دنیا ہے جس سے اس کا مقابلہ ہے۔
٭٭٭
اہل کراچی کو پانی کی کمی کا سامنا ہے، انھیں بجلی کے بل گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ دگنے تگنے ہو کر مل رہے ہیں، گیس کی حالت بھی غیر معمولی پتلی ہے، یہ اس شہر کا حال ہے جو ملکی خزانے میں ٹیکسوں کی مد میں سب سے بڑا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اس شہر کے ساتھ ہر ایک نے سوتیلا پن دکھایا ہے اور شاید باقی سب ا یک طرف اور جیے بھٹو کا نعرہ لگانے والی بلاول کی سرداری میں چلنے والی پارٹی کی مہارت ایک طرف۔ پتا نہیں کس چیز کا بدلہ اس شہر سے لیا جا رہا ہے۔ کچھ اہل رائے مصر ہیں کہ مفاہمت کے نام پر مسٹر زرداری نے ساری قوم اور قومی رہ نماؤں کو الو بنایا ہے، 2008میں بی بی کے مظلومانہ قتل کا ووٹ تو مل گیا، وزارت عظمی پکے ہوئے پھل کی طرح گود میں گری لیکن جہاں دیدہ مسٹر زرداری نے بھانپ لیا تھا اپنی کارکردگی کو بھی اور اپنی مہارت کو بھی تو ایک طرف 18ویں ترمیم کا سبق پڑھا کر سب کو بہکایا اور دوسری طرف سندھ میں ایسا جال بچھایا کہ 2024میں چوتھی حکومت بھی اسی پارٹی کی ہوگئی۔ یعنی یہاں کام نہ کرنے کا اعزاز اور بدلہ حکومت کی شکل میں مل رہا ہے۔ آئے دن سندھ میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے رہ نما اٹھتے ہیں لیکن چند نعرے اور ایک دو جلسوں کے بعد نہ جانے کہا ں جا سوتے ہیں کہ ان کی کوئی خبر ہی نہیں ملتی۔