فلوٹیلاپر پھر اسرائیلی دھاوا،175کارکن گرفتار،غزہ قبضے میں توسیع

تل ابیب /غزہ/لبنان :غزہ کی پٹی میں امدادی قافلوں کی روک تھام اور اسرائیلی کنٹرول میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ، لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے 20جہازوں سے 175کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ غزہ کا دو تہائی حصہ براہ راست اسرائیلی فوجی نگرانی کے دائرے میں آ چکا ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں مکمل جنگ سے گریز کی ہدایت کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تازہ حملوں میں 14 شہریوں کو قتل کر دیا ہے، جس کے جواب میں حزب اللہ کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت نے خطے کی صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے متعدد بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں گھیرے میں لے لیا، جس کے بعد 11 جہازوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق، اسرائیلی افواج نے 20جہازوں پر سوار تقریبا 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے جن کا ہدف غزہ کا محاصرہ توڑ کر وہاں امداد پہنچانا تھا۔

فلوٹیلا انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو جوابدہ بنائیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے محاصرے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دیتا ہے اور حراست میں لیے گئے کارکنان کویونان لے جایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے غزہ کے نئے نقشے جاری کیے ہیں جن میں نارنجی اور پیلی لائنوں کے ذریعے علاقے کی حدود کو واضح کیا گیا ہے اور اب غزہ کا دو تہائی حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول یا براہ راست نگرانی کے دائرے میں آ چکا ہے۔ مقامی فلسطینیوں اور امدادی تنظیموں میں اس بات کا شدید خوف ہے کہ اسرائیل ان علاقوں پر مستقل قبضہ قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیلی حکام اسے بفر زون قرار دیتے ہیں۔

ان کارروائیوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں کے اندر 2 فلسطینی شہید اور 8 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 824 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 72,601 فلسطینی شہید اور 1,72,419 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ حزب اللہ نے نبیطیہ کی فضائی حدود میں کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کا “ہرمیس 450” ڈرون مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی اسرائیل میں شومیرہ کے قریب حزب اللہ نے ایک آرٹلری پوزیشن کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں M548الفا نامی فوجی کارگو گاڑی میں آگ لگنے سے 12 اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ حملہ فائبر آپٹک گائیڈڈ ڈرون کے ذریعے کیا گیا تھا یا نہیں۔ اس سے قبل اسرائیل کے شمالی علاقے زرعیت، جو لبنان کی سرحد کے قریب ہے، میں میزائل کی نشاندہی کے بعد خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔حزب اللہ کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا۔

سفارتی اور سیاسی محاذ پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو میں تاکید کی ہے کہ وہ لبنان کے خلاف مکمل جنگ سے گریز کریں اور صرف سرجیکل حملوں تک محدود رہیں۔ نیتن یاہو نے عملی طور پر ٹرمپ کی بات نہ مانتے ہوئے لبنان میں تازہ حملوں میں 14شہری قتل کردیے۔