نیویارک:صدر ٹرمپ کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی ایران کے خلاف نئے فوجی ااپریشنز کے تحت مختصر مگر طاقتور حملوں کے منصوبے کی بریفنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوگیا جس نے پچھلے 4 برسوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورت حال کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریبا 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔تیل کی قیمتوں میں تقریبا 6 فیصد اضافہ ہوا۔ دن بھر میں ایک موقع ایسا بھی آیا جب فی بیرل تیل کی قیمت 126 ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی تاہم بعد میں کم ہو کر تقریبا 114 ڈالر تک آ گئی۔
علاوہ ازیں ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس بھی منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئیں جہاں جاپان کا Nikkei 225 آج 1.1 فیصد نیچے آیا جبکہ جنوبی کوریا کا Kospi بھی 1.4 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
اس کے برعکس یورپ کی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ لندن کا FTSE 100 صرف 1.6 فیصد بڑھا جب کہ جرمنی کا DAX بھی 1 فیصد اوپر گیا اور فرانس کے CAC 40 کے قیمت میں صرف 0.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کھاد کی قیمتیں بھی بڑھنے لگی ہیں جس سے مستقبل میں خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اگر تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل کے قریب رہتی ہے تو یہ کاروباری اداروں اور حکومتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔

