ٹرمپ کو ایران پر حملے کے نئے آپشنز کی بریفنگ،بحری ناکہ بندی ترجیح

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آج امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام کے کمانڈر براڈ کوپر ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی آپشنز پر اہم بریفنگ دیں گے۔ یہ انکشاف ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بریفنگ میں مختلف آپشنز زیر غور آئیں گے جن میں مختصر مگر شدید فوجی کارروائی، آبنائے ہرمز میں بحری کنٹرول مضبوط کرنا، اور ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز کے ممکنہ خفیہ مشنز شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بحری ناکہ بندی کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ تہران کو مذاکرات میں نرمی پر مجبور کیا جا سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مطلوبہ رعایتیں نہ دی گئیں تو امریکا مزید سخت فوجی اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق یہ تمام آپشنز خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں تیار کیے جا رہے ہیں، جہاں ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تیاریوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی تیل سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔