توانائی بحران کا خدشہ،مالیاتی خسارہ بھی بڑھ گیا

اسلام آباد:مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے پاکستان کی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی، تیل گیس اور فرنس آئل کی کمی کی وجہ سے سے توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے 33گیگا واٹ شمسی صلاحیت کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے معروف معیشت دان اور پبلک فائنانشل مینجمنٹ ایکسپرٹ نے بتایا کہ ملک میں میکرو اکنامک صورت حال کیلئے چیزیں اچھی نہیں ہیں، انہوں نے کہاکہ مہنگائی ایک بڑا چیلنج ہے جو میکرو اکنامک فریم ورک کو متاثر کرے گا۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی بڑی مقدار آر ایل این جی اور فرنس آئل سے بنتی ہے جن کی سپلائی متاثر ہو چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ بھی یہی ہے کہ پیداوار متاثر ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں33 گیگاواٹ کے برابر سولر کپیسٹی موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 42 فیصد مہنگی ہوئیں۔ پیٹرولیم کا 80 فیصد استعمال ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک میں ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کے کچھ علاقوں میں اندرون شہر کرایوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بعض جگہوں پر اندرون شہر کرایوں میں 40 سے 50 فیصد کرایوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 60 فیصد برآمدات اب بھی ٹیکسٹائل پر مبنی ہیں تاہم فریٹ ریٹ میں اضافے کی وجہ سے ملکی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گیس فراہمی متاثر ہونے سے فرٹیلائزر سیکٹر بھی متاثر ہو سکتاہے۔اس موقع پروزیر مملکت برائے خزانہ بلا ل اظہر کیانی نے بتایا کہ موجودہ مالی مشکلات کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا ہے جس کو کم کرنے کیلئے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے ،کمیٹی نے مالیاتی خسارہ کم کرنے اور ملکی و غیر ملکی قرضوں سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔

چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025ء پر غور کیا گیا اس موقع پر اسٹیٹ بنک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانشل انڈسٹری کو اس قانون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے پر اس قانون کا اطلاق ہو گا۔رکن کمیٹی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان میں ابھی دیوالیہ پن کے قانون کا اطلاق نہیں ہوا ہے تو قانون کو کس طرح لایا جا رہا ہے۔جس پر حکام نے بتایا کہ نیٹنگ ایک علیحدہ عمل ہے اس کے تحت دو پارٹیوں کے درمیان مالی اختلاف کو حل کیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ اس سے مالی معاملات میں سیٹلمنٹ میں آسانی ہو سکے گی۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے ملکی قرضوں پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ قانون کے مطابق قرضوں کی حد جی ڈی پی کے 60 فیصد پر ہونی چاہیے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گذشتہ برس قرضوں کی حد جی ڈی پی کے 69.9 فیصد تھی، حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق قرضوں کی حد 63.4 فیصد تک ہو چکی ہے۔حکام نے بتایا کہ رواں سال ملکی قرضوں میں کمی کا امکان ہے۔

حکام نے بتایا کہ 2022ء میں مقامی قرضوں کی میچورٹی 2 سال 6 ماہ تھی۔حکام نے بتایا کہ اصلاحات سے قرضوں کی میچورٹی کی مدت کو بڑھایا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی ری پروفائلنگ کی گئی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ملک میں ہر روز قرضوں کی مقررہ حد کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ مالیاتی خسارہ بڑھنے کی وجہ سے قرضے بڑھ رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ قرضوں سے متعلق قانون پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ملکی قرضوں کی سہ ماہی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے۔اس موقع پرکمیٹی نے فسکل ریسپانسیبلٹی اینڈ ڈیبٹ لمٹیشین ترمیمی ایکٹ کی منظوری دے دی۔