(جامعہ اسلامیہ، کامونکی میں ”فتح مناظرة الکبریٰ سیمینار” منعقدہ 12اپریل 2026ء سے خطاب)
بعد الحمد والصلوٰة۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جب سے یہ کام کر رہے ہیں، مجھے بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہوا ہے اور میں حاضر ہوتا رہتا ہوں کہ شرکت ہو جاتی ہے اور حصہ پڑ جاتا ہے۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور ہماری شرکت و حاضری کے تسلسل کو قائم رکھیں۔ آج ایک خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں سے سنا کرتے ہیں کہ خیر اور نیکی کا کوئی کام اگر اگلی نسل سنبھال لے تو یہ پچھلے کام کی قبولیت کی علامت ہوتی ہے، ان کے ساتھ ان کے بیٹے مغیرہ اور اسامہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ وہ اپنے والد محترم کے کام کو سنبھال رہے ہیں۔ اس خوشی کے اظہار کے ساتھ، باتیں تو تقریباً ساری ہو چکی ہیں، وقت بھی اب کم ہے، اگر دس پندرہ منٹ کی گنجائش ہو تو حسبِ معمول دو باتیں کرنا چاہوں گا۔
پہلی بات یہ کہ ابھی حضرت مولانا سعد صدیقی صاحب اپنے انداز میں تثلیث اور توحید کی بات کر رہے تھے۔ میں ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہوں گا۔ سنہ 1990ء یا 1989ء کی بات ہے، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمة اللہ علیہ اور میں شکاگو (امریکا) گئے۔ ہمارے میزبان تھے ریاض وڑائچ صاحب، وہ بھی چنیوٹ کے تھے لیکن شکاگو میں کاروبار کرتے تھے۔ ہم وہاں گئے تو مجھے اطلاع ملی کہ شکاگو میں بہائیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ میری عادت ہے کہ جو کام بھی معلوم ہوتا ہے جہاں تک میری رسائی ہو خود پہنچ کر وہاں کے ماحول کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، سیکنڈری سورس پر میرا اعتماد کم ہوتا ہے۔ مندروں میں بھی جاتا ہوں، گوردواروں میں بھی جاتا ہوں۔میں نے مولانا چنیوٹی سے کہا کہ چلیں بہائیوں کا مرکز دیکھتے ہیں۔ بہائیوں کا وہ مرکز دنیا کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ”کون وژن دیسی؟” (وہاں کون جانے دے گا؟) میں نے کہا حضرت، اندر نہیں جانے دیں گے تو واپس آجائیں گے۔ خیر، میں نے تیار کر لیا۔ مولانا چنیوٹی رحمة اللہ علیہ، میں اور ریاض وڑائچ صاحب، ہم تین آدمی گئے کہ وہ لوگ جو کام کرتے ہیں ان کے کام کا انداز دیکھتے ہیں۔ ہم گیٹ پر تھے کہ ریسپشن تک جانے سے پہلے وہ ہمیں پہچان گئے کہ کون کون ہیں۔ خیر، انہوں نے پورے پروٹوکول کے ساتھ ہمیں ویلکم کہا۔ بہت بڑا ہال تھا اور ایک ہی چھت کے نیچے چھ عبادت خانے تھے۔
بہائیوں کا عقیدہ ہے یہ کہ سارے مذاہب ٹھیک ہیں، جیسے آج کل ”ابراہیم اکارڈ” کا تصور ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے انہوں نے دیا ہے۔ انہوں نے چھ مذہبوں کے عبادت خانے ایک ہال کے اندر بنائے ہوئے ہیں۔ ایک اس کونے میں، ایک اس کونے میں۔ ایک کونے میں مسجد ہے، بالکل مسجد کی طرز پر، چٹائیاں ہیں، منبر ہے، محراب ہے، خطیب صاحب کا ڈنڈا سا کھڑا ہے، قرآن پاک کی الماری ہے۔ اسی طرح گرجا ہے، اس میں جیسے بت ہوتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے۔ ایک طرف سینیگاگ ہے یہودیوں کا، ایک طرف مندر ہے ہندوؤں کا، درمیان میں گوردوارہ ہے سکھوں کا، اور ایک طرف بدھوں کا اسٹوپا یا پگوڈا ہے۔ چھ عبادت خانے ایک چار دیواری میں اور ایک چھت کے نیچے۔ ہمیں انہوں نے بتایا کہ یہ ہم نے بنا رکھے ہیں اور سارے مذہب اکٹھے کر رکھے ہیں۔ ہم صرف سروس مہیا کرتے ہیں، کسی مسلمان کا جی چاہے تو مسجد میں آ کر عبادت کرے، ہندو مندر میں کرے، عیسائی گرجے میں کرے، یہودی سینیگاگ میں کرے، چوبیس گھنٹے کھلا ہے، کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ہم صرف چائے پانی اور وقت پہ کھانا وانا یعنی سروس ہم مہیا کرتے ہیں۔ خیر، آدھ پون گھنٹہ ایک گھنٹہ ہم نے دیکھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے تاثر پوچھا کہ آپ نے کیا محسوس کیا ہے؟ انچارج جو تھے وہ انڈیا کے تھے۔ میں نے کہا، بات یہ ہے کہ آپ کی محنت کی داد تو دیتا ہوں کہ اتنا بڑا سلسلہ ہے، آپ کی محنت تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اُس کونے میں مسجد ہے مکہ کے رخ پر، دوسرے کونے میں گرجا ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہاں خدا ایک تھا، وہاں پہنچتے پہنچتے تین ہو گیا ہے، وہاں سے واپس آیا تو پھر ایک ہو گیا، درمیان میں ٹرننگ پوائنٹ کون سا ہے جہاں سے وہ عبور کرتا ہے تو ایک سے تین ہو جاتا ہے اور واپسی پر تین سے ایک ہو جاتا ہے؟ انہوں نے کہا مولوی صاحب، یہ فلسفے کے مسائل ہیں۔ میں نے کہا، نہیں۔ خدا کا ایک ہونا یا تین ہونا، یہ فلسفے کا مسئلہ نہیں ہے، عقیدے کا مسئلہ ہے، فلسفہ کہہ کر نہیں ٹالو۔
میں یہ عرض کروں گا کہ آج بھی یہی تناظر ہے، عقیدے کے مسائل کو فلسفے میں الجھایا جا رہا ہے۔ یہ الحاد کیا ہے، دہریت کیا ہے؟ بنیادی طور پر عقیدے کے مسائل کو وحی سے ہٹا کر فلسفے میں الجھا کر خراب کیا جا رہا ہے۔ ساری بات کے پیچھے یہی ہے۔ میں پھر دہرا کر اگلی بات کرتا ہوں کہ خدا کا ایک ہونا، دو ہونا، یہ فلسفے کا مسئلہ ہے یا عقیدے کا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا بھئی، فلسفے کے حوالے مت کرو ہمیں، یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور مجھے بتاؤ کہ کون سا ٹرننگ پوائنٹ ہے جہاں ایک سے تین ہو گئے تھے اور واپسی پر تین سے ایک ہو گئے، وہ جگہ مجھے نہیں مل رہی۔ خیر، یہ میرا واقعہ ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے واقعہ بیان کیا ہے تو میں نے کہا میں بھی عرض کر دوں۔
دوسری بات کہ اس سیمینار کے ذریعے حضرت مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب اور ان کے رفقاء آج کی دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ میں بھی ان کے رفقاء میں ہوں۔ ہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا ذکر کر رہے ہیں، مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا نام لے رہے ہیں، اور اُس دور کے اکابر کا نام لے رہے ہیں۔ میں اس میسج کو یوں تعبیر کروں گا کہ ہم آج کی دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مولانا قاسم نانوتوی تھے اور جہاں مولانا رحمت اللہ کیرانوی تھے۔ درمیان میں ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، ہم وہیں کھڑے ہیں۔ تھوڑی سی تشریح کروں گا اور اس پر ایک لطیفہ عرض کر دیتا ہوں۔
جس طرح ہم نے برطانیہ سے آزادی کی جنگ لڑی تھی، امریکا نے بھی لڑی تھی۔ اُس دور کی کہاوتوں میں ایک کہاوت میں نے کہیں پڑھی۔ ان کی تحریکِ آزادی کے کوئی لیڈر تھے، کسی ہال میں خطاب کر رہے تھے تو ان کو تقریر کے دوران گرفتار کر لیا گیا، اسٹیج سے پکڑا اور جیل میں لے گئے۔ ایک سال جیل میں رہے یا دو سال رہے، جب جیل سے رہا ہوئے تو سیدھے اُس ہال میں گئے، اسٹیج پر چڑھے، روسٹرم پہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: حضرات! جیسا کہ میں عرض کر رہا تھا، میں اپنی بات پوری کر رہا ہوں۔
ہم بھی آج کی دنیا کو یہ کہہ رہے ہیں کہ جیسا کہ ہم عرض کر رہے تھے، ہم وہیں سے بات شروع کرتے ہیں، ہم وہیں کھڑے ہیں۔ اور میں دو تین مثالیں دوں گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
(١)انگریز لوگ آئے تھے اور ہماری معیشت پر قبضہ کر لیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کیا تھی؟ اُس وقت کی آئی ایم ایف تھی۔ آئی ایم ایف کیا ہے؟ آج کی ایسٹ انڈیا کمپنی۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا، اشارہ کافی ہے۔ پھر تم نے ملک پر ہی قبضہ کر لیا تھا 1857ء میں۔ تم نے تین چار تبدیلیاں کرنا چاہی تھیں اور اپنی طرف سے کر دی تھیں۔ تم نے ہم سے آزادی سلب کر لی تھی اور فیصلوں کا اختیار سلب کر لیا تھا۔ آج دوست کہتے ہیں کہ ہم استعمار سے آزاد ہو گئے ہیں۔ ہم آزاد نہیں ہوئے۔ استعمار سے آزادی کا لیبل ہم پہ لگا دیا گیا جبکہ پون صدی سے زیادہ عرصے سے ہم ریموٹ کنٹرول غلامی میں ہیں۔ ہماری پالیسیاں پون صدی سے کون کنٹرول کر رہا ہے؟ کیا ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں؟ ہمیں کون کنٹرول کر رہا ہے؟ صرف تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ پہلے یہ غلامی ریموٹ کنٹرول تھی، آج یہ غلامی روبوٹ کنٹرول ہے۔ اور یہ تبدیلی نظر آ رہی ہے؟ پہلے غلامی ریموٹ کنٹرول ہوتی تھی کہ کسی کو نظر آتا تھا، کسی کو نہیں۔ آج کی تبدیلی اور آج کی غلامی ریڑھی والے کو بھی پتہ ہے، کسی بازار میں پھیری والے سے پوچھیں تو اس کو بھی پتہ ہے کہ کون چلا رہا ہے اور کون اس کے اشاروں پرچل رہا ہے۔
ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں اور اپنی آزادی بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں 1857ء میں ہمارے بزرگ کھڑے تھے۔ (جاری ہے)

