بے روزگاری کا سلگتا الاؤ

پاکستان اِس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں بے روزگاری محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک ہمہ گیر سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بیروزگاری کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2018ء میں بے روزگاری کی شرح 6.9فیصد، 2021ء میں 6.3فیصد اور اب مختلف غیرسرکاری اندازوں کے مطابق یہ شرح 8فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے مگر ان مایوس کر دینے والے اعداد و شمار کے پیچھے چھپی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی تقریباً 54فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان آج سب سے زیادہ بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔

ایسے حالات میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے محکمہ سکول ایجوکیشن اور اس سے منسلک دفاتر میں گریڈ 1سے 16تک کی 30,391خالی آسامیوں کا خاتمہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ یہ محض چند ہزار نوکریوں کا خاتمہ نہیں بلکہ لاکھوں خوابوں کی تدفین ہے۔ وہ خواب جو والدین نے اپنی بنیادی ضروریات قربان کر کے اپنے بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کی صورت میں دیکھے تھے۔ غریب اور متوسط طبقے کسی سرکاری ملازمت کی آس میں اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے۔ اس حکومتی حوصلہ شکنی کے بعد یہ طبقہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ اپنے بچوں کو بچپن ہی میں مزدوری کروانی ہے، کسی مکینک کے پاس ہنر سکھانا ہے یا پڑھا لکھا کر بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا کرنا ہے۔ حکومت کے اس عمل سے ملک میں شرح خواندگی کا گراف مزید نیچے آئے گا جو پہلے ہی 60فیصد کے قریب ہے۔ یوں ہم ترقی پذیر سے پسماندگی کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ اس کے ذمہ دار عوام نہیں بلکہ ہماری حکومت اور اس کے نمائندے ہیں۔

حکومت کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا مگر سوال یہ ہے کہ کیا مالی بوجھ کم کرنے کا یہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف اخراجات کم کرنا ہے یا اپنے شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرنا بھی اس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے فیصلے وقتی طور پر مالی اعداد و شمار کو بہتر ضرور دکھا سکتے ہیں مگر طویل المدت بنیادوں پر یہ معیشت اور معاشرے دونوں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتے ہیں۔بیروزگاری کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو ذہنی دباؤ، احساسِ محرومی اور سماجی بے چینی کی طرف دھکیلتی ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 20لاکھ نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں جبکہ نئی ملازمتوں کے مواقع اس رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے۔ نتیجتاً یا تو نوجوان عارضی ملازمتوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں یا کم اجرت والے نجی شعبے کے استحصالی نظام کا شکار ہو جاتے ہیں، یا پھر ملک چھوڑنے کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ سرکاری نوکریاں ہمیشہ سے متوسط طبقے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی رہی ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف گھروں کے چولہے جلتے ہیں بلکہ ایک سماجی استحکام بھی قائم رہتا ہے۔ جب یہی سہارا ختم کر دیا جائے تو معاشرتی ناہمواری میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان میں دولت کی تقسیم پہلے ہی غیر متوازن ہے۔ چند فیصد اشرافیہ وسائل پر قابض ہے جبکہ اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہی ہے۔ ایسے میں روزگار کے مواقع کم کرنا گویا اس خلیج کو مزید گہرا کرنا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر بیروزگاری کی شرح میں صرف ایک فیصد اضافہ ہو تو جرائم کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں مشکل معاشی حالاؤت کے باوجود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جہاں موجود مواقع کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔ خالی آسامیوں کو ختم کرنے کے بجائے میرٹ پر مستقل بنیادوں پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو فروغ دے کر نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے تاکہ وہ نہ صرف ملکی معیشت کا حصہ بن سکیں بلکہ عالمی منڈی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان ایک متوازن شراکت داری قائم کی جائے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو سہولیات فراہم کی جائیں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے کیونکہ جب تک معیشت کا پہیہ تیزی سے نہیں گھومے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونا ممکن نہیں۔

ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر یہی سرمایہ مایوسی، بیروزگاری اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جائے تو ترقی کے خواب محض خواب ہی رہ جاتے ہیں۔ ایک مضبوط، خوشحال اور متوازن معاشرے کی بنیاد صرف اسی وقت رکھی جا سکتی ہے جب ریاست اپنے نوجوانوں کو باعزت اور پائیدار روزگار فراہم کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنائے ورنہ بے روزگاری کا یہ سلگتا ہوا الاؤ کسی بھی وقت شعلہ بن کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔