چکنی چپڑی، مکھن لگاتی باتوں کی سرشت

راقم الحروف کو سرکاری ملازمت سے پہلے (طالب علمی کے زمانے میں) ہی کچھ عرصے مختلف دکانوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ خریداروں کو چیزوں کی خریداری کے لیے کیسے پکار پکار کردکان میں آنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور کس طرح انہیں وہ اشیاء بھی فروخت کر دی جاتی ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے اکثر ہم نے دکانداروں کو اپنی قابل فروخت اشیاء کی شان میں اکثر قصیدہ خوانی کرتے دیکھا۔ وہ اپنے اس ہنر پر ناز کیا کرتے تھے۔ ذیل میں دیے گئے مکالمے کو ملاحظہ کریں جس میں دکاندار کی لفظی سحرانگیزیاں اور جھوٹی کہانیاں کس طرح خریدار کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے کے حربے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں:

گاہک: ”آپ کے ریٹ بہت زیادہ ہیں، انہیں کم کریں۔”
دکاندار: ”آپ فکر نہ کریں، ہمارے ریٹ مارکیٹ سے بہت کم ہیں۔ پھر بھی میں نے آپ کے لیے خاص طور پر پچاس روپے چھوڑ دیے ہیں۔”
گاہک: ”نہیں نہیں!ابھی بھی ریٹ زیادہ ہیں، قیمت میں پچاس روپے کی اور کمی کریں۔”
دکاندار: ”مجھے وارا نہیں کھا رہا، قسم سے اتنے میں میری خرید بھی نہیں۔ آپ ہمارے پرانے گاہک ہیں اس لیے چلیں پچیس روپے مزید کم کر دیتا ہوں۔”
خریدار: ”پرانا گاہک؟ میں تو آپ کے پاس پہلی بار آیا ہوں۔”
دکاندار: ”اللہ نے بہت سے لوگوں کو مشابہ بنایا ہے، اس لیے مغالطہ تو ہو سکتا ہے؟ ویسے بھی آپ پہلی بار آئے ہیں، اس لیے آپ کو گاہک بنانے والی بات کر رہا ہوں۔ قسم سے اس میں مجھے نقصان ہو رہا ہے۔”
خریدار واپس جانے لگا تو دکاندار نے آواز دی کہ ”آپ ہمارے بہت اچھے کسٹمر ہیں، اس لیے آپ مال لے جائیں۔”
یہ وہ کلمات ہیں جو روزانہ جھوٹ اور بیجا تعریف و تحسین پہ مبنی سننے کو ملتے ہیں۔

چرب زبانی کی عادت نے ہمارے معاشرے میں لوگوں کو متعدی مرض کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دوسروں کے منہ پر بے جا تعریفوں کے پھول برسانے والوں میں سے بیشتر افراد اس ناگوار سرشت کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ وہ چرب زبانی کرنے والوں کی سرگزشت سن کر ان سے اظہار نفرت بھی کرتے ہیں۔ وہ اس عمل کوانتہائی برا کہنے میں تامل نہیں برتتے لیکن افسوس موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ خود بھی اس ناپسندیدہ عادت میں مبتلا ہونے کا شوق پورا کرنے لگتے ہیں۔ شاید چرب زبانی کے ان خوگروں کو دوسروں کے منہ پر غیرضروری تعریف و توصیف کرنے میں وہی لطف اور مزا ملتا ہے جو کیف و سرورعموما دوسروں کی عیب جوئی اور غیبت کرنے والوں کے دل لبھاتا ہے۔ یہ نفسیاتی نشے کی ایک ایسی قسم ہے جو ہمیں بار بار اپنی سحرانگیزی میں گرفتار کرتی ہے۔ ایسا حربہ استعمال کرنے والے اپنا کوئی کام نکلوانے کے لیے متعلقہ فرد کی جھوٹی تعریف و ستائش میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور مطلب برآری کے لیے خوبصورت مگر پرفریب لفاظی کو کام میں لاتے ہوئے چرب زبانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ خود پسند افراد، جو اکثر اپنے سراپا کو آئینے میں دیکھ کر خوشی سے سرشار ہوتے ہیں، وہ دوسروں کے منہ سے اپنی تعریفیں سننے کو زندگی کا سرمایہ سمجھتے ہیں۔ وہ دوسروں کی جانب سے تعریفی جملے سن کر نہال ہو جاتے ہیں بلکہ تعریفیں کرنے والوں کے کندھے تھپتھپا کر کہتے ہیں کہ ‘تمہارے منہ میں گھی شکر’۔ شکر ہے کہ گھی، شکر کی قیمتیں اتنی اوپر چلی گئی ہیں کہ ان کا روز روز خریدنا بہت مشکل ہو گیا ہے ورنہ ممدوح حضرات تعریف کرنے والوں کے گھروں کو گھی اور شکر کے گوداموں میں تبدیل کر چکے ہوتے۔ بے شک اپنی تعریفیں سب کو بھلی لگتی ہیں لیکن بسا اوقات ہم اپنی تعریفیں سن کر غلط فہمی کا شکار ہو کر اس خوش گمانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں گویا ان کو سرخاب کے پر لگ گئے ہیں، وہ ترنگ میں آکر زیر لب گنگناتے پھرتے ہیں کہ ‘یہ محفل جو آج سجی ہے، اس محفل میں ہے کوئی ہم سا؟، ہم سا ہو تو سامنے آئے’۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کبھی کسی کی تعریف کے پل باندھے جا رہے ہوں تو جواب آں غزل کے طور پر وہ خود بھی تعریف کرنے والے کی شان میں قصیدوں کے ڈونگرے برسانے لگتا ہے۔ گویا ‘من تورا حاجی بگویم، تو مرا قاضی بگو’ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔

دوسروں کی شان میں رطب اللسان ہونے والوں کی یہ لت کسی نشے سے کم نہیں ہوتی۔ ہم چکنی چپڑی باتوں میں خود کو لت پت کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کھانے پینے میں تو ہم پائے، نہاری، روغنی نان اور مرغن کھانوں سے انگلیوں اور زبان کو چکنی تری سے تر رکھتے ہیں۔ اس کوشش میں ہم فیٹی لیور کے نہ صرف شکار ہو جاتے ہیں بلکہ چکنے گھڑے بھی بن جاتے ہیں۔ پھر ان پہ کسی بات کا اثر نہیں ہوتا بلکہ چربی والے چکنے کھانے کھاتے کھاتے ہم احتیاط کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ بات کہیں دور نکل گئی۔ ہم ذکر کر رہے تھے چکنی چپڑی باتیں کرکے دوسروں کو مکھن لگا نے اور دوسروں کے دل موہ لینے کی روغنی عادتوں کا۔ ہمیں کسی کے منہ پہ طعنے مارنے کا شوق ہوتا ہے یا منہ کھول کر تعریفیں کرنے کا۔ منہ کھولنے کی دیر ہوتی ہے کہ تعریفوں کے دریا کا دہانہ کھل جاتا ہے۔

بلاضرورت باتیں بگھارنا اور چاپلوسی کے ذریعے کسی دوسرے کو اپنی آنکھ کا تارہ بنانا ہمارے معاشرے میں عام سی بات ہے۔ دوسرے کی قابلیت، خوبصورتی، ذیانت، تعلیم، خاندان اور صلاحیتوں کے اعتراف میں مسکہ لگا کر اپنا دلدادہ بنانے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ ہماری سیاست اور سیاسی کارندوں میں یہ مرض عام ہے کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں کی جھوٹی سچی باتوں کی اس کثرت کے ساتھ تائید و ستائش کرتے ہیں کہ یوں لگتا ہے وہ فرشتہ صفت انسان ہوں جس سے نہ کبھی کوئی غلطی سر زد ہوئی ہو اور نہ آئندہ اس سے کسی قسم کی غلطی کا احتمال ہو۔ باتونی لوگوں کو کم لوگ پسند کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ زیادہ بولنے والا بلاسوچے سمجھے، انٹ شنٹ بولتا ہے۔ اس کی گفتگو عموماً نامعقول سمجھی جاتی ہے جبکہ کچھ حلقوں میں ایسوں کو پسند بھی کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو سنجیدہ منش خاموش رہتے ہیں اُن کو محض اس بنا پر میسنا یا گھنا سمجھتے ہیں کہ بقول ان کے وہ کم گو افراد افراط کے ساتھ گونگے کا گڑ کھائے رہتے ہیں۔ کم گوئی اگرچہ ایک اچھی صفت ہے لیکن انہیں گلشن میں گوارا نہ کرنے والے گنے چنے نہیں بلکہ زیادہ ہوتے ہیں جو انہیں چن چن کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔