(یہ تحریر دراصل دورہ حدیث کی اُن پُرنور ساعتوں کا نچوڑ ہے جب درس و مطالعہ کے مختلف مراحل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت پر مشتمل احادیث سامنے آتی رہیں۔ راقمہ نے ان روح پرور واقعات کو نہایت ذوق و شوق سے یکجا کیا، انہیں دل کی حرارت سے سنبھال کر محفوظ رکھا اور پھر دورہ مکمل ہونے پر ان بکھرے موتیوں کو ایک خوبصورت لڑی میں پِرو دیا۔ یوں ایک طویل تعلیمی سفر کے آخری سال کی علمی کاوش جذباتِ محبت سے ہم آہنگ ہوکر ایسی دلنشیں تحریر بن گئی جو محبت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو بکھیرتی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت بھری یادوں کو تازہ کرتی ہے اور اُمید ہے قارئین کے دِلوں کو بھی نور و سُرور سے بھر دے گی۔ ’راقمہ: یکے اَز خدامِ ختم نبوت‘)
مضمون: سیدہ آمنہ محمد الیاس
یاحبیبی صلی اللہ علیہ وسلم! یہ دل اکثر تاریخ کے اُن سنہری اور نورانی دریچوں میں جھانکنے لگتا ہے جنہیں دیکھنے کا شرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نصیب ہوا۔ ہم ساڑھے چودہ سو سال بعد بیٹھے صرف اُن لمحوں کا تصور کرتے ہیں اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ سوچتے ہیں کاش ہم بھی اُس دن مدینہ کی گلیوں میں ہوتے جب آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا شرف عطا فرمایا تھا۔ جب پہلی مرتبہ ’اللہ اکبر‘کی صدا آسمانوں تک پہنچی ہوگی اور زمین و آسمان نے اُس مبارک آواز کو سنا ہوگا۔ کاش ہم بھی اُس محفل میں ہوتے جب آپ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر محبت سے ہاتھ رکھا ہوگا۔ وہ ہاتھ جو کائنات کے سب سے مقدس ہاتھ تھے، جن کی ٹھنڈک سے دلوں کو سکون مل جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ماضی کے دریچے سے جھانکتی یادیں
مدینہ کی وہ ہوائیں بھی کتنی خوش نصیب تھیں جو ہر روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو چھوتی تھیںاور یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب غارِ ثور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پیش کرتے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رغبت سے پیتا دیکھ کر خود سیراب ہوجاتے تھے۔ واللہ….!! وہ آنکھیں کتنی خوش قسمت تھیں جنہوں نے محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی زیارت کی اور وہ دل کس قدر بابرکت تھے جن میں حضورِ جان صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بسی ہوئی تھی اور وہ دماغ کتنے خوبصورت تھے جن میں ہر لمحہ خیالِ یار مہکتا رہتا تھا۔ سوچیں وہ کیسا دن ہوگا جب حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی ہوگی کہ ”جب بحرین کا مال آئے گا نا تو میں تمہیں بھی دوں گا“ اور پھر غزوہ خندق کے دن جب بھوک نے سب کو نڈھال کر دیا تھا اور آپ علیہ السلام نے مسکرا کر فرمایا ہوگا: ”چلو بھئی! آج جابر ؓکی دعوت ہے۔“ اور وہ تھوڑا سا کھانا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے پورے لشکر کے لیے کافی ہوگیا۔ یہ معجزہ نہیں تو اور کیا تھا؟ وہ لمحہ بھی کتنا حسین ہوگا، جب حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کبھی چاند کو دیکھتے اور کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو اور پھر کہتے: ”خدا کی قسم! حضور چاند سے بھی زیادہ حسین ہیں۔“
میں معترف تو ہوں تیرا مگر اے چاند معذرت
کہ ذکرِ حسن ِیار میں، تیری مثال مسترد
اور ابورمثہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں کیسی ٹھنڈی ہوئی ہوں گی جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سبز لباس میں ملبوس دیکھا ہوگا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو کیسی خوشی نصیب ہوئی ہوگی جب عام طور پر صحابہ ؓعرض کرتے تھے: ” فداک امی و ابی “لیکن غزوہ اُحد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:” ارمِ یاسعد! فداک ابی و امی “ ’اے سعد! تیر چلاو، میرے ماں باپ تم پر قربان‘۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کیسی کیفیت ہوتی ہوگی جب حضور علیہ السلام انہیں محبت سے ” یا بُنَیّ “کہہ کر پکارتے تھے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوں گے تو یقینا کلیوں میں جان پڑ جاتی ہوگی اور پھر حضرت عمر ؓعرض کرتے: ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے۔“ میں حیران ہوتی ہوں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خوشی کے مارے اُس رات کیسے سوئے ہوں گے جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ہوگا ”اے معاذ! اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“
مزید پڑھیں: پنجاب لائبریری کا دورہ اور’’ادھوری ملاقات“
اور غزوہ بدر کا وہ منظر، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے، گریہ و زاری کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے ڈھلک گئی تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر چادر اوڑھائی اور عرض کیا: ” کفاک مناشدتک ربک! “وہ بھی کیا لمحے ہوں گے جب حضرت اسامہؓ اور حضرت بلالؓ مدینہ کی گلیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھامے سر جھکائے محبت سے چلتے ہوں گے اور وہ صحابہ کیسی سعادت پا رہے ہوں گے جب حجة الوداع کے موقع پر سخت دھوپ میں آپ علیہ السلام پر کپڑا تانے کھڑے ہوں گے تاکہ سورج کی تپش آپ تک نہ پہنچے۔ لیکن دل کو سب سے زیادہ رُلا دینے والا منظروہ ہے جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مدینہ سے رخصت ہورہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اُنہیں الوداع کہنے کے لیے ساتھ چل رہے تھے۔ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا: ”اے معاذ! شاید اِس سال کے بعد تم مجھ سے دوبارہ نہ مل سکو۔“ یہ الفاظ سن کر معاذ رضی اللہ عنہ کا دل جیسے تھم سا گیا ہوگا۔ دنیا جیسے اندھیر ہوگئی ہوگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’شاید تم میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو اور مجھے نہ پاو۔“ ساڑھے چودہ سو سال گزر گئے…. مگر یہ الفاظ آج بھی دل کو زخمی کردیتے ہیں۔ سوچیں! اُس وقت معاذ رضی اللہ عنہ کی کیا حالت ہوگی؟ آنکھوں سے آنسو رواں ہوں گے، دل ٹوٹ رہا ہوگا اور وہ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ دیکھ کر رو رہے ہوں گے۔ قُرة اعیُننا صلی اللہ علیہ وسلم!
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ کو دیکھا نہیں، آپ کے صحابہ ؓکو دیکھا نہیں لیکن آپ کی آپ کے ایک ایک صحابی کی محبت ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور شاید جنت کا سب سے حسین لمحہ وہ ہوگا جب ہم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم دنیا میں آپ کو، آپ کے اصحاب کو، آپ کے زمانے کو بہت یاد کیا کرتے تھے….!!“

