محققین کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں پندرہ سو سے زائد مذاہب موجود ہیں۔ آئے دن نت نئے مذاہب وجود میں آتے رہتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم ایسے مذاہب ہیں جنہیں شہرت نصیب ہوتی ہے۔ اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندو مت اور بدھ مت دنیا کے مشہور مذاہب ہیں۔ ان کے علاوہ زرتشت، سکھ مت، جین مت اور معنوی مذہب بھی دنیا میں رائج ہیں، لیکن ان مذاہب کو رقبے اور عددی لحاظ سے وہ کثرت حاصل نہیں جو بڑے مذاہب کو حاصل ہے، مثلاً بدھ مت صرف سری لنکا، برما اور انڈونیشیا کے بعض جزائر تک محدود ہے، جبکہ مشہور مذاہب اپنے رقبے اور تعداد کے لحاظ سے دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلام کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ پاکستان، انڈونیشیا، ملائشیا، ترکی، الجزائر، مراکش اور مصر سمیت دنیا کے ہر خطے میں پایا جاتا ہے۔
عیسائیت برطانیہ، یورپ، جنوبی افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکا میں پائی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والا مذہب عیسائیت ہے، جبکہ اسلام اس کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ لادین اور ملحد لوگ پائے جاتے ہیں اور چوتھے نمبر پر جو بڑا مذہب ہے وہ ہندو مت ہے۔ آج ہم عیسائیت کے حوالے سے گفتگو کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ عیسائیت کیا ہے، اور عیسائیت سے پہلے اور بعد کی صورتِ حال کیا رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے پہلے یہودی مذہب کے پیروکار دنیا میں موجود تھے، لیکن ان میں اتحاد و اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ کئی گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اس وقت یہودیت کے تین بڑے گروہ تھے: صدیقی، فریسی اور کاہنی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے کچھ پہلے لوگ مذہب کے ٹھیکے دار بن چکے تھے، جنہیں اخیار کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ جس چیز کو چاہتے حلال قرار دے دیتے اور جسے چاہتے حرام کر دیتے۔ یہودیت میں انہیں ”فقہائے یہود” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے جنت کی ٹھیکیداری بھی لے رکھی تھی، جسے چاہتے جنت کا پروانہ دے دیتے، بھاری نذرانے وصول کرتے اور لوگوں کی بخشش کے فیصلے کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں مشرکانہ رسومات بھی در آئی تھیں اور وہ اخلاقی جرائم میں بھی مبتلا تھے۔ چوری، جھوٹ، دھوکا، بغض و عناد اور کینہ و حسد ان کے ہاں اخلاقیات میں شامل ہو چکے تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پہلے یہودیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی اور سیاسی بحران سے گزر رہی تھی۔ 931قبل مسیح میں یہودی سلطنت فلسطین میں زوال کا شکار ہوگئی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پہلے ہی سکندر نے ان تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا جن میں ایران بھی شامل تھا۔ اس نے ایران کے تمام آتش کدے ختم کر دیے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد سے یہودیت جس تباہی کا شکار تھی، اس کی وجہ سے بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے لیے رو رو کر دعائیں کرتے تھے اور کہتے تھے: ”اے اللہ! حضرت داؤد علیہ السلام کی اولاد میں سے کوئی ایسا بادشاہ پیدا فرما دے جو یہودیوں کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دے اور یہودیوں کو عظمت دے۔” گویا بنی اسرائیل ایک نجات دہندہ یا نبی کے منتظر تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہی حالات میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش القدس کے قریب بیت اللحم میں ہوئی۔ آپ کی والدہ حضرت مریم بنت عمران تھیں، جو ایک نہایت نیک اور پارسا خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے معجزانہ طور پر پیدا فرمایا۔ آپ نے شیر خوارگی کے زمانے میں ہی لوگوں سے گفتگو کی اور بتایا کہ میں اللہ کا نبی ہوں، مجھے اللہ کتاب عطا فرمائے گا اور نبوت سے سرفراز کرے گا۔ وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے آئے تھے، جن کے لیے بنی اسرائیل دعائیں مانگتے تھے، جب نبی بن کر تشریف لائے تو یہی لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ لوگوں میں دو گروہ بن گئے۔ اکثریت نے یہ کہا کہ تورات کے علاوہ کوئی چیز قابلِ عمل نہیں، اس لیے انہوں نے انجیل کو مسترد کر دیا۔ یہ لوگ یہودی کہلائے۔ کچھ لوگوں نے آپ کی پیروی اختیار کی، وہ عیسائی اور نصاریٰ کہلائے۔
یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اجیرن بنا دی، آپ کی دعوت و تبلیغ پر پابندیاں لگائیں اور قتل کی کوشش کی، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھا کر لے گئے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ اپنے ایک مخبر کو آپ کا مشابہ پایا، اسے گرفتار کر کے صلیب پر لٹکا دیا۔ بعد میں پولس نامی ایک مسیحی مبلغ نے عیسائیت کی تجدید کرتے ہوئے یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ بات مشہور کر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا گیا تھا۔ اسی بدعقیدگی سے جدید عیسائیت کا آغاز ہوا۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میں عیسائیت کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ وہ مذہب جو اپنی اصل کو ناصرہ کے باشندے یسوع کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے خدا کا منتخب، یعنی مسیح مانتا ہے۔ جہاں تک عیسائیت میں خدا کے تصور کا تعلق ہے تو عیسائی مذہب میں خدا کا تصور دیگر مذاہب سے زیادہ مختلف نہیں۔ یہ مذہب خدا کو انہی صفات کے ساتھ مانتا ہے جو دوسرے مذاہب اس کے لیے بیان کرتے ہیں۔ مارس ریلٹن لکھتا ہے کہ عیسائیت کا خدا کے بارے میں یہی تصور ہے کہ وہ ایک زندہ و جاوید ہستی ہے جو تمام صفاتِ کمال سے متصف ہے۔ اسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن پوری طرح سمجھا نہیں جا سکتا، اسی لیے اس کی حقیقت کا مکمل تجزیہ انسانی عقل کی حدود سے باہر ہے۔ وہ فی نفسہ کیا ہے، ہمیں معلوم نہیں، صرف اتنا جانتے ہیں جو اس نے خود وحی کے ذریعے انسانوں کو بتایا ہے۔ اس کے ساتھ عیسائیت میں تثلیث کا عقیدہ بھی آ گیا، جس نے خدا کے تصور کو مزید الجھا دیا ہے۔
اس عقیدے کے مطابق خدا تین شخصیات کا مجموعہ ہے: باپ (خدا)، بیٹا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اور روح القدس۔ یہ عیسائیوں کے قدیم اور اکثریتی فرقے کیتھولک چرچ کا عقیدہ ہے۔ بعض فرقے روح القدس کی جگہ حضرت مریم کو تیسرا شخص مانتے ہیں۔ تثلیث کے اس عقیدے کی تعبیر و تشریح میں عیسائیوں کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ عیسائیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا بھی ہے اور خود خدا بھی۔ ایک ہی ذات باپ بھی ہے اور بیٹا بھی۔ ان کے مطابق خدا کچھ عرصے کے لیے انسان بنا، پھر دوبارہ خدا ہوگیا، اور اب وہ مستقل طور پر انسان بھی ہے اور خدا بھی۔ عیسائیت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا کے بیٹے کرائسٹ کو یہودیوں نے رومی حاکم کے حکم سے صلیب پر چڑھایا اور قتل کر دیا۔ عیسائیت میں حلول کا عقیدہ بھی پایا جاتا ہے، یعنی خدا کی صفتِ کلام حضرت مسیح کے جسم میں حلول کر گئی تھی اور یہ سب انسانوں کی بھلائی کے لیے ہوا۔ ان کا ایک عقیدہ دوسری زندگی کا بھی ہے کہ سولی پر چڑھائے جانے اور قبر میں رکھے جانے کے تین دن بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زندہ ہوئے اور آسمانوں پر چلے گئے۔ ان کے مطابق وہ خدا کے دائیں ہاتھ پر بیٹھے ہیں اور قربِ قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے۔
کفارہ کا عقیدہ بھی عیسائیت کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے گندم کا دانہ کھایا تو ان سے اصل گناہ صادر ہوا، جس کے نتیجے میں نوعِ انسانی میں نافرمانی کا عنصر پیدا ہو گیا اور نیکی کی قوتِ ارادی کمزور پڑ گئی۔ اس صورتِ حال میں اولادِ آدم اللہ کے ہاں سزا کی مستحق بن گئی، لیکن خدا نے بندوں کو سزا دینے کے بجائے خود اپنے بیٹے کی شکل میں زمین پر آ کر یہ سزا اپنے اوپر جاری کر دی۔ اس طرح ہر وہ انسان پیدائشی گناہ سے پاک ہو گیا جو یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا مانے اور اس کی قربانی پر ایمان لائے۔ اگر ہم عیسائیت کی مقدس کتاب کی بات کریں تو اسے بائبل کہا جاتا ہے۔ بائبل کئی کتابوں کا مجموعہ ہے اور اس کے دو حصے ہیں: ایک عہد نامہ قدیم اور دوسرا عہد نامہ جدید۔ عہد نامہ قدیم یعنی تورات، اور عہد نامہ جدید یعنی انجیل۔ ان دونوں کے مجموعے کو بائبل کہا جاتا ہے، اور عیسائیت ان دونوں پر ایمان رکھتی ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں مسلمان پیدا کیا۔ اس نعمت پر جنتا شکر کیا جائے، اتنا ہی کم ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو دین اسلام سے جوڑے رکھے اور اس خطے کو اسلام کا گہوارا بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین!

