مذاکرات بے نتیجہ ختم، مشرقِ وسطیٰ میں اب کیا ہوگا؟

رپورٹ: علی ہلال
پاکستان کی میزبانی میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان منعقدہ مذاکراتی عمل کسی نتیجے پر پہنچے بغیر اختتام کو پہنچا ۔ دونوں ممالک کے وفود نے اپنے ممالک واپسی کرلی۔
8 اپریل کو پاکستان کی پُرزور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 28 فروری سے جاری جنگ میں عارضی جنگ بندی ہوئی۔ اڑتیس روز سے جاری اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی بمباری میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت چالیس سے زائد اعلیٰ سطحی ذمہ دار مارے گئے جبکہ ایران میں ساڑھے تین ہزار سے زائد انسان جان بحق اور بیس ہزار زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے ایران پر دس ہزار حملے کرتے ہوئے چار ہزار اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ دو مارچ سے لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے ایرانی حمایت میں اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ شروع کردیا، جس کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران اب تک دوہزار لبنانی باشندوں کے جاں بحق ہونے کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں جہاں اسرائیل کو نشانہ بنایا وہیں پڑوس کے خلیجی عرب ممالک پر بھی ڈرون طیاروں اور میزائل حملے جاری رکھے اور عرب میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر 38روز کے دوران ہونے والے حملوں کی تعداد چھ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو عالمی بحری ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ اِسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں منعقدہ مذاکرات اس جنگ کے مستقل طور پر بند ہونے کے حوالے سے آخری اُمید تھی، تاہم فی الحال یہ ناکامی سے دوچار ہوئے۔
آگے کیا ہوگا….؟
اِس حوالے سے تجزیہ کاروں اور ماہرین کی متضاد آرا ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دور 20 گھنٹوں سے زائد طویل اور سخت گفت و شنید کے بعد بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد صورتحال ایک غیریقینی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں کشیدگی میں اضافہ یا نازک نوعیت کی عارضی خاموشی کے دونوں امکانات موجود ہیں۔ مغربی رپورٹس نے اس صورتحال کو ’اسٹریٹیجک جمود‘ قرار دیا ہے۔ امریکی اور برطانوی اخبارات جن میں نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور ٹیلیگراف شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی غیرمتوقع نہیں تھی بلکہ دونوں فریق کے موقف میں گہری خلیج کا نتیجہ ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کے سکیورٹی انتظامات کے مستقبل کے حوالے سے۔ مذاکرات کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی جنہوں نے گفتگو کے اختتام پر اعتراف کیا کہ کوئی پیش رفت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے بقول: ’ہم ایسی صورتحال تک نہیں پہنچ سکے جہاں ایران ہمارے شرائط قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ ہم نے کافی لچک دکھائی، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوسکی‘۔
مزید پڑھیں: مذاکرات کے اسلام آباد میں انعقاد سے ملک کا وقار بلند ہوا،مولانا فضل الرحمان
اختلافات کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ واشنگٹن، صدر ڈونلڈٹرمپ کی حمایت سے ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے پر اِصرار کرتا رہا، جبکہ تہران نے یورینیم افزودگی کے اپنے حق اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔ مذاکرات میں دیگر اہم اُمور بھی زیرِ بحث آئے جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، جنگ سے متعلق معاوضے اور لبنان میں جنگ بندی شامل تھے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ’لے لو یا چھوڑ دو‘ کی پیشکش کی، جسے ایران نے مسترد کردیا، جو دونوں جانب سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال نے یہ اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟تجزیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اب محدود اور مشکل آپشنز رہ گئے ہیں، جن میں طویل اور پیچیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا، دوبارہ جنگ کی طرف جانا یا بغیر کسی حتمی حل کے بحران کو سنبھالنے کی کوشش شامل ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیشِ نظر جو تیل کی عالمی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ مذاکرات گزشتہ کئی دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کی اعلیٰ ترین سطح تھے تاہم اس کے باوجود کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوسکی۔ البتہ مستقبل میں مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا امکان موجود ہے۔ دوسری جانب برطانوی اخبار ’آئی پیپر‘ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی نہایت نازک ہے اور زمینی کشیدگی کے باعث کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے جو سفارتی کوششوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
ممکنہ تین منظرنامے
ٹیلیگراف کے مطابق آئندہ صورتحال تین ممکنہ رخ اختیار کرسکتی ہے۔ دباو کے تحت مذاکرات کی بحالی سرفہرست ہے۔ امریکی وفد کی واپسی ایک حکمتِ عملی ہوسکتی ہے تاکہ ایران کو بعد میں رعایتیں دینے پر مجبور کیا جاسکے، تاہم اس سے بحران طویل بھی ہوسکتا ہے۔ فوجی کشیدگی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس میں جنگ کا دوبارہ آغاز یا محدود فوجی کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں جس سے عالمی توانائی منڈی متاثر اور مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بغیر معاہدے کے جنگ کا خاتمہ بھی ایک آپشن ہے۔ امریکی صدر جنگی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں لیکن یہ قدم امریکی پسپائی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور بنیادی مسائل حل طلب رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت پیچیدہ ہے؛ امریکا طویل اور مہنگی جنگ نہیں چاہتا جبکہ ایران بنیادی رعایت دینے سے گریزاں ہے۔ ایسے میں مستقبل تین امکانات کے درمیان معلق ہے: طویل مذاکرات، خطرناک شدت یا ایک کمزور سمجھوتہ جبکہ پورا خطہ اور دنیا اس پیش رفت پر نظریں جمائے ہوئی ہے۔