اسلام آباد مذاکرات اور لبنان

2 دنوں سے سب خبریں اسلام آباد امن مذاکرات کی آرہی ہیں۔ میری کئی صحافی دوستوں سے گپ شپ چل رہی ہے۔ اس اداس، نیم خوابیدہ شہر کے پرانی باسی بھی ایک عجب نئی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ہائی پروفائل سیکورٹی حصار، ریڈ زون کے بند راستے اور شہر میں وہ خاموشی جو بڑے طوفان سے پہلے ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 1989کے بعد پہلی بار امریکا اور ایران آمنے سامنے بیٹھنے جارہے ہیں، براہ راست۔

اسلام آباد ایک تاریخی سرگرمی کا گواہ بننے جارہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کم ہی ایسا ہوا ہے۔ دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ اہم عالمی حکمران وزیراعظم کو فون کر رہے ہیں، فیلڈ مارشل سے دنیا کے طاقتور ترین دارالحکومت رابطے میں ہیں۔ پاکستانی سول ملٹری لیڈرشپ اس وقت بہت اہم ہوچکی ہے۔ اس خطے کو آگ سے بچانے میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہوچکا۔ پاکستانی قیادت نے اب تک کرشمہ ہی کیا ہے، اب ایک اور بڑے کرشمے کی ان سے امید کی جارہی ہے۔

پاکستان کی اس اہمیت پر دل شاد، روح مسرور ہے۔ سیاسی اختلاف کسی سے بھی ہو سکتا ہے، مگر ملک کی سربلندی، نیک نامی اور اقوام عالم میں پذیرائی ہر ایک کو خوش کر دیتی ہے تاہم سچی بات یہ ہے کہ میرے اندر خوشی کے ساتھ فکر اور تشویش بھی موجود ہے۔ اس لیے نہیں کہ پاکستان کا کردار اہم نہیں۔ یہ بہت بڑا اور تاریخی کردار ہے۔ فکر اس لیے ہے کہ اسلام آباد کی میز پر جو فیصلہ ہونے والا ہے، اس کا انحصار اسلام آباد سے ہزاروں میل دور جنوبی لبنان کے ایک چھوٹے سے قصبے پر ہے۔

ایران 10شرائط لے کر آیا ہے: خلیج ہرمز پر ایرانی نگرانی، امریکی فوجوں کی واپسی اور مشرق وسطی سے اڈوں کا خاتمہ، ایران پر پابندیوں کا خاتمہ، جنگی نقصان کا ہرجانہ۔ دوسری طرف سپر پاور امریکا کا 15نکاتی مطالبہ ہے: ایران میں یورینیم افزودگی بالکل بند، افزودہ یورینیم حوالے کرو، میزائل پروگرام محدود کرو، علاقائی گروہ یعنی ایرانی پراکسیز ختم کرو وغیرہ۔ یہ دونوں فہرستیں پڑھ کر آدمی سر تھام لیتا ہے لیکن ان سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جو ابھی میز پر آیا ہی نہیں۔ وہ ہے لبنان، جہاں ایران کے سب سے اہم اور مضبوط اتحادی حزب اللہ اور اسرائیل میں خونی جنگ جاری ہے۔

جب امریکا اور ایران جنگ بندی پر راضی ہوئے، چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے 8اپریل کو لبنان پر اپنے سب سے بڑے حملے کیے۔ آپریشن ابدی تاریکی کے منحوس نام سے۔ 50اسرائیلی جنگی طیارے، 10منٹ، 100سے زیادہ مقامات۔ بیروت کے مصروف علاقوں میں بغیر کسی وارننگ کے بم گرائے گئے۔ ایران نے کہا: جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی، خلیج ہرمز دوبارہ بند۔ امریکا اور اسرائیل نے کہا: لبنان اس جنگ بندی میں شامل ہی نہیں تھا۔ ادھر پاکستان، جو یہ جنگ بندی کروانے والا تھا، اس نے کہا: لبنان معاہدے کا حصہ تھا۔ یوں اب 3فریق، 3الگ باتیں، ایک ہی میز پر۔

لبنان میں حزب اللہ تنظیم ایران کی سب سے اہم اور قابل اعتماد اتحادی ہے۔ جنوبی لبنان میں شیعہ آبادی زیادہ ہے اور وہ حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، حزب اللہ کا اثر شامی سرحد سے ملحقہ مشرقی لبنان میں بھی ہے اور لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقہ میں حزب کے دفاتر اور شہری اسٹرکچر موجود تھا، جسے پچھلے 2برسوں میں اسرائیل نے بہت شدید بمباری کا نشانہ بنایا۔ اب اسرائیل پورا زور لگاکر حزب اللہ کو جنوبی لبنان سے بے دخل کرنا چاہ رہا ہے۔ اسرائیل کا منصوبہ ہے کہ جنوبی لبنان میں 20، 30میل کا علاقہ اپنے قبضے میں کرکے لبنان کے مشہور دریائے لیطانی تک اسے بفرزون بنا دے۔ وہاں سے حزب اللہ کو بالکل ہی بے دخل کرکے تاکہ وہ اپنے چھوٹے میزائل اور راکٹ حملے اسرائیل پر نہ کر سکے۔

اسرائیلیوں نے پچھلے 2دنوں میں شدید ترین بمباری کرکے جنوبی لبنان کے کئی سرحدی قصبات اور چھوٹے شہروں کو بالکل تباہ کردیا ہے، تاکہ جنوبی لبنان کے مکین اپنے گھر چھوڑ کر چلے جائیں۔ اندازے کے مطابق 10لاکھ کے قریب لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل فضائی حملے تو کامیابی سے کرلیتا ہے مگربفرزون بنانے کے لیے اسے زمینی افواج بھیجنا پڑرہی ہے، وہاں پر اسے حزب اللہ کے گوریلوں کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ حزب کے جنگجو اسرائیلی ٹینکوں کو نقصان پہنچا رہے اور انہیں آگے بڑھنے نہیں دے رہے۔ دراصل یہان پر حزب نے پچھلے 20برسوں میں بہت بڑا اور وسیع زیر زمین سرنگوں کا جال بچھا رکھا ہے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب بنت جبیل کا قصبہ ہے۔ پہاڑی ٹیلے پر بنا، چاروں طرف وادیاں اور فوجی اعتبار سے انتہائی اہم۔ بنت جبیل اس علاقے میں واقع ہے جسے جنوبی لبنان کا دل کہا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کی سرحد سے صرف چند کلو میٹر دور ہے، جبکہ دریائے لیطانی وہ آخری حد ہے جسے اسرائیل ایک بفر زون کے طور پر دیکھتا ہے۔ بنت جبیل یعنی پہاڑ کی بیٹی ایک اہم شہر ہے، اسے حزب اللہ کا مرکز مانا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک بہت اونچے ٹیلے پر واقع ہے، اسی وجہ سے جس کا اس پر کنٹرول ہو جائے وہ آس پاس خاصے وسیع علاقے پر گرفت مضبوط کرلے گا۔ اسرائیل کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ بنت جبیل پر قبضہ کرکے وہ دریائے لیطانی تک کے پورے بیلٹ پر اپنی گرفت مضبوط کرلے، تاکہ حزب اللہ کو دریا کے شمالی کنارے تک محدود کر کے سرحد سے 20کلو میٹر دور رکھا جا سکے۔ اسرائیلی بمباری سے بنت جبیل شہر کھنڈر بن چکا ہے، مگر بہت سی سرنگیں اور پہاڑوں میں چھپنے کے خفیہ مقامات ہیں۔ حزب اللہ کے لوگ یہاں پر چھپے ہیں اور اسرائیلیوں کو اندر داخل نہیں ہونے دے رہے۔

اس تمام پس منظر کے ساتھ تادم تحریر مذاکرات چل رہے ہیں۔ یہ بات مگر یاد رکھیے کہ اسلام آباد میں جو بھی فیصلہ ہو، وہ تب تک مستقل اور دیرپا نہیں ہو سکتا جب تک لبنان کی جنگ رک نہ جائے۔ اللہ کرے کہ دونوں طرف عقل اور تدبر سے کام لیا جائے اور لاکھوں انسانوں کو ایک اور تباہی سے بچایا جا سکے۔