اس جنگ کے توسط سے ہم پاکستانیوں کا جغرافیہ کم از کم ہرمز کے حوالے سے خاصا اچھا ہوگیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے یہ جانتے ہیں کہ یہ وہ آبنائے ہے جس سے دنیا کے تیل کی بیس فیصد سپلائی گزرتی ہے اور جو دو مارچ سے عملاً بند تھی۔ اب دوتین دن سے یہ امریکی بحری ناکہ بندی کی زد میں بھی آ چکی ہے، ہرمز سے لگنے والی تمام ایرانی بندرگاہوں پر صدر ٹرمپ نے ناکہ بندی نافذ کی ہے۔صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ایران کی تیز رفتار کشتیوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ناکہ بندی کے قریب آئیں تو فوری ختم کر دی جائیں گی۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ ایرانی افواج زیادہ سے زیادہ جنگی تیاری کی حالت میں ہیں۔ ایرانی سائیڈ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہیں غیر محفوظ ہوئیں تو پورا خلیجی علاقہ غیر محفوظ ہو جائے گا۔ دو طاقتیں آمنے سامنے ہیں، دونوں کے لہجے سخت ہیں، مگر شاید اصل کھیل الفاظ کے پیچھے کہیں اور کھیلا جا رہا ہے۔
فلیش بیک اسلام آباد
فلم، ڈرامے میں ایک تکنیک فلیش بیک کی استعمال کی جاتی ہے، زمانہ حال سے پیچھے جا کر ماضی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں تاکہ کہانی آگے بڑھ سکے۔ ہم بھی ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ گیارہ اور بارہ اپریل کی وہ تاریخی رات یاد کریں جب اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کے گرد دس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، شہر کی سڑکیں بند تھیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی پارلیمانی اسپیکر قالیباف کے ساتھ اکیس گھنٹے مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ امریکا اور ایران اس سطح پر آمنے سامنے بیٹھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے بعد میں لکھا کہ وہ اسلام آباد یادداشت کے ایک ایک لفظ کے قریب پہنچ گئے تھے، پھر امریکی طرف سے مطالبات بدلتے رہے، اہداف کھسکتے رہے اور ناکہ بندی کا اعلان آ گیا۔وینس نے جاتے ہوئے کہا کہ یہ برا نتیجہ ایران کے لیے امریکا سے زیادہ برا ہے۔ یہ جملہ دیکھنے میں تکبر لگتا ہے مگر اس میں ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ امریکا مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہا، بس قیمت بڑھا رہا ہے۔
اس کے بعد کے دوتین دنوں میں یہ واضح ہوگیا کہ دونوں فریق مذاکرات کے اگلے دور کے لیے تیار ہیں۔اس دوران پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کی خلیج پاٹنے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں جوکہ کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں اور اگلے چند روز میں ایک بار پھر ساری دنیا کی نگاہیں اسلام آباد پر مرکوز ہونے والی ہیں۔
بازار کی روایتی بارگیننگ
اس دوران دونوں فریقوں کے دوران روایتی بارگینگ جاری ہے۔معروف دفاعی، عسکری ویب سائٹ ایکسوز نے اپنے ایک علاقائی ذریعے کا اہم جملہ نقل کیا: ہم مکمل تعطل میں نہیں ہیں، دروازہ بند نہیں ہوا، دونوں طرف سودے بازی جاری ہے، یہ ایک بازار ہے۔ یہ بازار والی بات بہت گہری ہے۔ مشرق وسطی کی سیاست میں حتمی فیصلہ اکثر اسی طرح ہوتا ہے، ظاہر میں غصہ، اندر سے حساب کتاب۔ اس حوالے سے بعض اشارے مل رہے ہیں، اہم نیوز رپورٹس بھی کسی نہ کسی حد تک اسے کنفرم کررہی ہیں۔ممتاز اور بااثر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ فریقین نے خفیہ رابطوں کی لکیر بند نہیں کی جبکہ ابھی تک اسلام آباد میں موجود اطالوی صحافی گیبریلا کولارسو نے اسلام آباد کے ذرائع سے رپورٹ دی کہ ترکی اور مصر بھی اکیس اپریل سے پہلے دونوں کو دوبارہ میز پر لانے کی کوشش میں ہیں۔ سی این این نے خبر دی کہ اگلی نشست کے لیے جنیوا اور اسلام آباد پھر زیر غور ہیں۔ پیر کو ایک ایرانی نژاد امریکی صحافی ، مصنف کا ٹوئٹ گردش کرتا رہا جسے کے مطابق جمعرات کو مذاکرات کا اگلا رانڈ پھر سے اسلام آباد میں ہوگا۔ تاہم یہ ٹوئٹ بعد میں کنفرم نہ ہوسکا۔
بیس اپریل کا ٹائم بم
ایک بہت اہم پہلو کی طرف اپنے قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ وہ وقت کی کمی ہے۔ معروف فنانشل ادارے جے پی مورگن کا حساب ہے کہ دو مارچ کو آبنائے ہرمز کی باضابطہ بندش کے بعد جو آخری تیل بردار جہاز گزرا، وہ بیس اپریل تک اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ اس تاریخ کے بعد دنیا کے ذخائر سے جنگ سے پہلے کا تیل ختم ہو جائے گا۔ یعنی بیس اپریل کے بعد اصل بحران شروع ہوگا۔ پھر اکیس اپریل کو جنگ بندی بھی ختم ہوتی ہے۔ یہ دو تاریخیں ملا کر دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ اگلے سات دن دراصل اگلے کئی مہینوں کا فیصلہ کریں گے۔
ٹرمپ کا اصل تضاد
کئی اہم عالمی تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے میں صدر ٹرمپ ایک ایسی آگ میں پھنسے ہیں جو انہوں نے خود لگائی ہے۔ ایک طرف وہ ایران پر دبا بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف امریکی پیٹرول چار ڈالر بارہ سینٹ فی گیلن کے قریب پہنچ گیا ہے، امریکی صارف کا اعتماد تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہیں۔ ان مڈ ٹرم الیکشن میں اگر ٹرمپ کی جماعت ہاس ہار گئی اور اگر زیادہ ماڑی قسمت ہوئی سینیٹ میں بھی ان کی اکثریت ختم ہوگئی تو پھر سمجھ لیں کہ صدر ٹرمپ کے برے دن شروع۔ اگلے دو سال وہ اگر صدر رہے تب بھی ان کا ہر روز مشکلات اور الجھنوں سے نمٹتے گزرے گا۔اب ٹرمپ کے لیے چیلنج ایک طرف ایران کو دبانا اور دوسری طرف اپنے امریکی ووٹر کو مہنگائی سے بچانا ہے۔ یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ یہی تضاد آخرکار انہیں معاہدے کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ ایران بھی اتنی ہمت دکھائے۔ٹرمپ مخالفین کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک ایسی جنگ میں پھنسا لیا ہے جس سے نکلنا اب آسان نہیں، خاصا ٹِرکی ہوچکا۔ البتہ برطانوی جریدے اکنامسٹ کے مطابق ٹرمپ کو اندازہ ہوچکا کہ وہ غلط جنگ میں پھنسے ہیں، وہ اب دوبارہ سے بھرپور جنگ کی طرف نہیں جائیں گے اور ان کے سخت، جارحانہ بیانات محض ایران پر دباو ڈالنے کا حربہ ہے تاکہ مرضی اور پسند کی بارگیننگ مل جائے۔
چالیس ممالک کا اتحاد اور امریکا کی تنہائی
امریکا اور صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور پریشانی بھی سر اٹھا رہی ہے۔ ناکہ بندی کے چند گھنٹوں میں ہی ایک اور خبر آئی۔ برطانیہ نے باضابطہ اعلان کیا کہ وہ امریکی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ نیٹو کے ایک سینیئر عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ برطانیہ چالیس سے زیادہ ممالک پر مشتمل ایک الگ اتحاد کی قیادت کر رہا ہے جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہازرانی بحال کرنا چاہتا ہے، یہ اتحاد نہ ایران کی طرف ہے اور نہ امریکی ناکہ بندی کا حصہ ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے اس مشن کو سختی سے دفاعی اور غیر جانبدار قرار دیا۔ یعنی امریکا کے قریبی اتحادی اس مرتبہ ساتھ نہیں ہیں۔ یہ امریکی تنہائی کی علامت ہے اور یہی وہ دبا ہے جو ٹرمپ کو آخرکار لچک دکھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اکیس اپریل سے پہلے
تو اب نظریں اکیس اپریل پر ٹکی ہیں۔ یہ وہ تاریخ ہے جب جنگ بندی ختم ہونی ہے۔ پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالث اس سے پہلے کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا دورہ ایران انہی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ دونوں فریق مذاکراتی عمل جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خفیہ رابطوں کی تار ابھی ٹوٹی نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران سے مثبت اشارے ملنے کا انکشاف کرتے ہوئے حتمی معاہدے کے لیے خوداسلام آبادآنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان نے کہا: اگر امریکا آمریت ترک کر دے تو معاہدے کا راستہ ضرور نکلے گا۔ یہ جملہ سخت لہجے میں ہے مگر اس میں ایک دروازہ بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگوں کا خاتمہ بھی اکثر اسی طرح ہوتا ہے، عین اس وقت جب لگتا ہے کہ سب کچھ ٹوٹنے والا ہے، کوئی ایک خاموش لمحہ آتا ہے اور میز کے اوپر نہیں، نیچے سے ہاتھ ملتے ہیں۔اللہ تعالی اس خطے کے مظلوم عوام کو امن نصیب فرمائے، پاکستان کو حکمت اور وسعت رزق عطا کرے اور ان مذاکرات میں خیر کا راستہ کھولے۔ آمین!

