پولیس نظام۔ تبدیلی کی دستک

جب نظام بدلنے لگے تو امید جنم لیتی ہے اور امید ہی وہ پہلا قدم ہے جو انصاف تک لے جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انصاف کی راہ ہموار کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش پنجاب پولیس کے اس فیصلے میں نظر آ رہی ہے جس کے تحت اب تھانے میں ملزم، مدعی اور گواہ کی بایومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں پولیس نظام پر تنقید ایک پرانا اور تلخ موضوع رہا ہے۔ تھانوں کی دہلیز پر انصاف کی تلاش میں آنے والے شہری اکثر اس احساس کے ساتھ لوٹتے رہے کہ یہاں قانون سے زیادہ اثر و رسوخ، سفارش اور دباؤ کا عمل دخل ہے۔ یہ صرف احساس ہی نہیں تھا بلکہ شہریوں کا روزمرہ تجربہ اور مشاہدہ بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہمیشہ کمزور رہا۔ تاہم بدلتے حالات میں کچھ ایسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں جو اس جمود کو توڑنے کی نوید دے رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سے تھانوں میں بایومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دینا اسی سلسلے کی ایک اہم اور قابلِ توجہ پیشرفت ہے۔ یہ فیصلہ کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تدریجی اصلاحی عمل کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پولیس اہلکاروں کو شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے، ہر فرد کو باعزت انداز میں سر کہہ کر مخاطب کرنے اور باڈی کیمرے استعمال کرنے جیسے احکامات جاری کیے گئے۔ اگرچہ ان ہدایات پر عملدرآمد ابھی مکمل طور پر تسلی بخش نہیں، تاہم یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ادارہ اپنی سمت درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بایومیٹرک نظام کا نفاذ اسی سوچ کی عملی تعبیر ہے۔

نئے حکم کے تحت کسی بھی مدعی، ملزم یا گواہ کا اندراج بایومیٹرک تصدیق کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا اصول ”انگوٹھا نہیں، تو انٹری نہیں”کا نفاذ ہے لیکن اس کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جعلی مقدمات، فرضی گواہوں اور من گھڑت بیانات کا راستہ بڑی حد تک مسدود ہو جائے گا۔ ماضی میں ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں بے گناہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا یا جھوٹی گواہی کے ذریعے انصاف کا رخ موڑ دیا گیا۔ بایومیٹرک تصدیق کے بعد ہر اندراج ایک مستند اور ناقابلِ تردید شناخت کے ساتھ جڑا ہوگا جو انصاف کے عمل کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ مزید برآں یہ نظام پولیس کی تفتیشی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ جب ہر فرد کی شناخت قومی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگی تو تفتیش محض زبانی بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ڈیجیٹل شواہد، ڈیٹا اینالیسز اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر آگے بڑھے گی۔ یوں روایتی، فرسودہ اور اکثر غیر موثر طریقہ تفتیش کی جگہ ایک سائنسی اور مربوط نظام جنم لے گا۔

اس ضمن میں پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کو نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس انضمام سے نہ صرف شناخت کی فوری تصدیق ممکن ہوگی بلکہ اس کی مدد سے کسی بھی فرد کے مجرمانہ ریکارڈ تک فوری رسائی بھی حاصل ہو سکے گی۔ نتیجتاً نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شفافیت اور جوابدہی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا، تاہم ہر اصلاحی اقدام کی طرح اس نظام کو بھی چند عملی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات محدود ہیں، وہاں بایومیٹرک نظام کا مؤثر نفاذ ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پولیس اہلکاروں کی مناسب تربیت، جدید آلات کی فراہمی اور سسٹم کی بلا تعطل کارکردگی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ اگر ان بنیادی تقاضوں کو نظرانداز کیا گیا تو ایک اچھا اور نیک نیتی پر مبنی اقدام بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار محض اس کے اعلان پر نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ، مسلسل نگرانی اور احتساب کے نظام پر ہوتا ہے۔ ماضی کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ اچھے احکامات اکثر فائلوں کی زینت بن کر رہ جاتے ہیں۔ اگر اس بار بھی یہی روش برقرار رہی تو عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔ اگر سنجیدگی، دیانتداری اور تسلسل کے ساتھ اس نظام کو نافذ کیا گیا تو یہ پولیس کلچر میں ایک حقیقی اور دیرپا انقلاب لا سکتا ہے۔

پنجاب پولیس کا یہ اقدام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارہ بتدریج روایتی ڈھانچے سے نکل کر ایک جدید، شفاف اور جوابدہ نظام کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ بایومیٹرک تصدیق نہ صرف انصاف کے عمل کو مضبوط بنائے گی بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی خلیج کو بھی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تبدیلی کو محض ایک سرکاری حکم نامہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اسے ایک نئے طرزِ حکمرانی کی بنیاد کے طور پر قبول کیا جائے۔ ایسا نظام جہاں انصاف محض دعویٰ نہ رہے بلکہ ایک قابلِ تصدیق، قابلِ اعتماد اور ہر شہری کے لیے یکساں حقیقت بن جائے۔ ”جب نظام بدلنے لگے تو امید جنم لیتی ہے اور امید ہی وہ پہلا قدم ہے جو انصاف تک لے جاتا ہے۔ ”