ابلاغ کے ذرائع، دعوت کا اُسلوب اور اِسلامی نظام کی بنیادیں

خطابت ہمیشہ سے ابلاغ کے ذرائع میں ایک موثر ذریعہ رہا ہے۔ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات بھی خطابت میں صفِ اول کے بزرگ تھے۔ ان کی خطابت کا جو لوگ مقابلہ نہ کر سکے انہوں اسے جادو سے تعبیر کیا، لیکن بہرحال وہ جادو تو نہیں تھا۔ میں ایک بات کہا کرتا ہوں کہ قرآن پاک کے بارے میں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ خطاب کے حوالے سے مشرکین نے یہ کہا تھا کہ جادو ہے۔ قرآن پاک نے اس کی تردید کی وما ھو بقول شاعر (الحاقہ)اور ولا بقول کاھن (الحاقہ) یہ جادو تو نہیں تھا لیکن محاورے کی زبان میں ان کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا کہ اس کا کسی کے پاس مقابلہ نہیں ہوتا تھا، کسی کے پاس جواب نہیں ہوتا تھا اور وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس کو جادو سے تعبیر کیا کرتے تھے۔خطابت و شاعری کے بعد قلم آیا ہے، قلم کے بعد آج کا میڈیا، جو نیٹ میڈیا ہے اور آن لائن میڈیا ہے، یہ ابلاغ کے ذرائع میں موثر ترین ذرائع ہیں۔ ان میں مہارت حاصل کرنا، ان کا اسلوب سیکھنا اور ان کی تکنیک کو معلوم کر کے اپنے دین کی دعوت دینا۔ دعوت کا میدان بھی، اصلاح کا میدان بھی، دفاع کا میدان بھی:

٭دعوت کی ضرورت بھی ہے کہ قرآن پاک، سنتِ رسول، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم دنیا تک پہنچائیں۔ ٭ امت کی اصلاح کا دائرہ بھی ہے کہ امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کریں اور ان کا حل تجویز کریں۔٭اور دین کا دفاع بھی ہے کہ دین پر، عقائد پر، عبادات پر، اسلامی قوانین پر، اخلاقیات پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ہوتے آ رہے ہیں، ان کا دفاع کرنا۔ دلیل کے ساتھ، منطق کے ساتھ، یہ بھی ضروریات میں سے ہے۔

قرآن پاک نے جہاں دعوت کی بات کی ہے وہاں مکالمہ و مجادلہ کی بات بھی کی ہے: ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسن وجادلھم بالتی ھی احسن (النحل) قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ لوگوں کو دین کی طرف دعوت دو حکمت کے ساتھ اور نصیحت کے انداز میں۔ وجادلھم بالتی ھی احسن۔ مجادلہ یعنی گفتگو اور مکالمہ، جس کا آخری اسٹیج مناظرہ ہوتا ہے۔ مجادلہ اچھے طریقے سے، حسن نہیں احسن طریقے سے۔ اس دور کا جو سب سے بہترین اسلوب ہو اس اسلوب میں مجادلہ کرو، دلائل دو، دلائل کا جواب دو، مباحثہ کرو۔ یہ بھی قرآن پاک کا دعوت کے ساتھ دعوت کا تقاضا ہے۔ دعوت جب دیں گے تو کسی بات پہ بحث بھی ہو گی۔ قرآن پاک نے دعوت کی بات بھی کی ہے اور مجادلہ کی بات بھی کی ہے۔ اور بالتی ھی احسن۔ احسن طریقے سے۔ قرآن پاک نے اچھے اسلوب میں اچھے سلیقے کے ساتھ مباحثے کا ماحول قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک بات تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جو بھی ہمارے دور کا ابلاغ کا ذریعہ ہے، اسے حلال حرام کا فرق رکھتے ہوئے اختیار کیا جائے۔ یہ میں ضرور عرض کروں گا کہ حلال حرام کا فرق قائم رکھتے ہوئے ہم آج کے جدید ذرائع کو جتنا بھی اچھے طریقے سے بہتر اسلوب سے استعمال کر سکتے ہیں وہ ہمیں کرنا چاہیے۔اس سلسلہ میں اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمت اللہ علیہ کا ایک ارشاد نقل کرنا چاہوں گا جو اکثر ہمیں وہ فرمایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ دعوت ہو یا مباحثہ، اپنا موقف مضبوط رکھو اور زبان و لہجہ جتنا بھی لچکدار رکھ سکو۔ موقف میں لچک نہ ہو لیکن زبان اور لہجہ جتنا لچکدار رکھ سکو۔ وہ ایک بات فرمایا کرتے تھے کہ جس سے آپ بات کر رہے ہیں اگر وہ یہ محسوس کرے کہ آپ اس کی ہمدردی میں بات کر رہے ہیں، خیر خواہی میں بات کر رہے ہیں، تو وہ آپ کی سخت بات بھی سن لے گا لیکن اگر اس کو یہ اندازہ ہو جائے گفتگو میں کہ آپ اس کی ہمدردی میں نہیں بلکہ اس کو ہدف بنانے کے لیے، لاجواب کرنے کے لیے بات کر رہے ہیں، تو وہ آپ کی اچھی باتیں بھی نہیں سنے گا۔ موعظہ کا مطلب یہی ہے کہ نصیحت کے ساتھ، سننے والے کو یہ محسوس ہو کہ یہ صاحب میرے ساتھ میری خیرخواہی میں بات کر رہے ہیں، میرے بھلے میں کر رہے ہیں، مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

والد صاحب ایک مثال بھی دیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے، دیکھو، بات کرنے میں، گفتگو کرنے میں، دعوت دینے میں، مباحثہ کرنے میں، قرآن پاک نے کونسا اسلوب بتایا ہے؟ فرماتے تھے، اللہ رب العزت نے موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا۔ جانے والے داعی موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام ہیں۔ اور جس سے بات کرنی ہے وہ فرعون ہے، وقت کا سب سے بڑا متکبر آدمی، جو اپنے بارے میں کہتا تھا: ما علمت لکم من الہ غیری (القصص) انا ربکم الاعلیٰ (النازعات) دونوں بھائیوں کو اللہ پاک نے بھیجا: اذھبا الی فرعون انہ طغیٰ(طہ)فرعون سرکش ہو گیا ہے، آپ دونوں بھائی اس کے پاس جائیں، اس کو تبلیغ کریں، لیکن قولا لہ قولا لینا۔ بات نرمی سے کرنا۔ یہ کس کو تلقین ہو رہی ہے؟ موسی علیہ السلام کو اور ہارون علیہ السلام کو۔ اور کس سے بات کرنے کی؟ فرعون سے بات کرنے کی۔ لعلہ یتذکر او یخشیٰ۔ شاید مان جائے، شاید سمجھ جائے، شاید اللہ سے ڈر جائے۔ اللہ کو تو پتہ تھا کہ نہیں مانے گا، اللہ سے زیادہ فرعون کو کون جانتا تھا؟ لیکن داعی کو یہ بات کہی جا رہی ہے کہ بھئی آپ نے بات اس نیت سے کرنی ہے کہ شاید مان جائے، شاید سمجھ جائے۔ یہ اللہ رب العزت نے موسی علیہ السلام کو اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا۔ اس وقت کی سب سے بہترین دو شخصیتوں کو اس وقت کے متکبر ترین شخص کے پاس بھیجا اور ہدایت یہ دی قولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی(طہ)

اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ لہجہ نرم ہو، الفاظ نرم ہوں، موقف مضبوط ہو۔ اس پر ایک بزرگ مجھے یاد آگئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمت اللہ علیہ ہمارے اکابر میں سے تھے اور میں نے جن بزرگوں سے تربیت حاصل کی ہے، ان میں سے ایک بزرگ وہ بھی ہیں، ان سے استفادہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہ مثال دے کر بات کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ایک ہی بات مختلف لہجے میں کی جائے تو نتیجہ مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دی، فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ تمہارے والد صاحب میرے پاس تشریف لائے تھے، اس پر اس کا تاثر مختلف ہو گا۔ یہی بات اگر وہ اس لہجے میں کرے کہ تیرا باپ میرے پاس آیا تھا، اس کا تاثر مختلف ہو گا۔ اور یہی بات تیسرے لہجے میں کرے کہ تیری ماں کا خصم میرے پاس آیا تھا، تو وہ گریبان سے پکڑے گا اور الٹے ہاتھ کی منہ پہ مارے گا کہ کیا بکواس کر رہے ہو۔ جملے کا مطلب ایک ہی ہے، الفاظ مختلف ہیں۔ تو میں یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ خطابت ہو یا مباحثہ ہو، گفتگو، لہجہ، زبان، اسلوب عمدہ ہو، اتنا عمدہ کہ قرآن پاک اسے بالتی ھی احسن کہہ رہا ہے۔ وقت کے بہترین اسلوب میں بات کرو تاکہ آپ اپنی بات سمجھا سکیں اور اپنی بات کا قائل کر سکیں۔ وہ قائل ہو یا نہ ہو، آپ کی نیت یہ ہو کہ یہ قائل ہو جائے۔اس کے ساتھ مولانا سعید احمد شاہ کاظمی نے مجھے فرمایا ہے کہ اسلام کا نظام، اسلامی نظام کے معاشرے پہ اثرات، اور مختلف طبقات کے حوالے سے اسلام کیا سہولتیں دیتا ہے، اس پر بھی کچھ عرض کروں۔ یہ بہت لمبا موضوع ہے لیکن میں صرف آج کے حالات کے تناظر میں ایک دو باتیں عرض کروں گا۔ (جاری ہے)