انسانی جسم اللہ تعالی کی کیاحیرت انگیز صناعی کا شاہکار ہے۔ایسی مشینری جو عموما ہمہ دم مستعد،ہر دم رواں دواں رہتی اور جس کے مختلف اعضا میں ایک شاندار ربط و یکسانی پائی جاتی ہے۔ انسان اگر غور کرے تو حیران ہو کر خود سوال کر اٹھتا ہے کہ ایسی کار گزاری بھی یا رب کیا اپنی ہستی میں ہے؟ ایک ہمہ دم متحرک اور تادم ِ آخر کبھی نہ رکنے اور بند ہونے والایہ کارخانہ جو انسان اپنے ساتھ صبح و شام ، جلوت و خلوت ا ور اندر و باہر، ہر جگہ ساتھ لئے پھرتا ہے۔ نسو ں سے نسیںلگاتار ملی ہوئی،ہڈی پر ہڈی کا کامل جو ڑ بیٹھا ہوا ،ایک بازو دوسرے بازو کے بالکل یکساں نظر آتا ہوا،ایک ٹانگ دوسری ٹانگ کے ٹھیک عین مطابق۔ آنکھیں خوبصوررت،روشن، اور چمکدار، اور ناک سونگھنے کی ہر قسم کی صلاحیتوں سے مالا مال۔ بے شک ہمارے رب نے ہمیں ایک خاص تناسب ہی سے پیدا کیاہے۔ خلقہ فقدرہ۔ یہ آیت ہمارے رب نے ہمارے ہی بارے میں نازل کی تھی۔ پھر ان سب میں بھی سب سے زیادہ چشم کشا وہ لاجواب لہو ہے جو سرخ سرخ اور گرم گرم ہمارے جسم کے اندر یہاں سے وہاں تک میلوں دور دوڑتا رہتاہے۔ یہی وہ سرچشمہ ہے جس سے جاوداں ، پیہم رواں ،ہر دم جواں ہے زندگی اور یہی و ہ سر چشمہ ہے جس کے بارے میں ہم اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ لہو سے زندگی بنتی ہے جامد بھی ، متحرک بھی…
زندگی کا سر چشمہ ظاہری طور پر اگر پانی ہے تو باطنی طور پرخون ہے ۔ وہی خون جو بقول شاعر اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے اوروہی لہو جس کے بارے میںکہا جاتاہے کہ مثلا فلاں نے اپنا لہو سفید کر لیاہے اور وہی لہو جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا کہ رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا ، تو پھر لہو کیا ہے!
انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے رب ِ کائنات نے اپنے کلام میں جا بجا دعوت ِ فکرو تدبر دی ہے ۔کہا گیا ہے کہ اے میرے بند و ،تم ذرا اپنے جسموں میں اتر کر تو دیکھو ، ذرا اپنے اس قدو قامت کا جائزہ تولواور کبھی اپنے ان ہا تھ پائوں کے جوڑوں اور بندوں کو تو جھانک کر دیکھو، تمہیںوہاں ہمارا ایک حیرت انگیز نظام ِ کارکردگی جاری و ساری دکھائی دے گا جس کا مشاہدہ کر کے تم بے ساختہ اقرار کراٹھو گے کہ اے ہمارے ر ب ،بے شک یہ جسم وجاں تیرے ہی بنائے ہوئے ہیں اور کوئی بھی شریک اس کام میںتیرانہیں پایا جاتا۔بے شک لا شریک لک لبیک۔ کہا اللہ تعالی نے کہ تمہارے جسموں میں بھی تمہارے لئے نشانیاں رکھی گئی ہیں۔
اس موقع پر ایک واقعہ بھی ہم آپ کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک بیماری کے سبب ہم سے خون کے مختلف ٹیسٹس کروائے گئے کہ ہماری درست تشخیص کا انحصار انہی ٹیسٹس کے نتائج پر تھا ۔تب ہمیںیہ جان کر اچنبھا ہوا کہ کئی اجزا انسانی خون میں ایسے ہیں جن کا خصوصی تعلق خاص مٹی سے ہے۔ وہی اجزا جو ایک طرف ہماری مٹی میں پائے جاتے ہیں، دوسری طرف انسانی جان میں بھی دوڑتے پھرتے نظر آتے ہیں۔یعنی فاسفورس، گندھک ، لوہا ، چونا، دھات ، جست ، شکر،آئیو ڈین،اور نمکیات وغیرہ ، بلکہ خود ہمارایہ پانی بھی!
مٹی میں پائے جانے والے یہ تمام وہ عناصر ہیں جو ہمارے خون میں چوبیس گھنٹے گردش میں مصروف رہتے ہیں۔تب ہی ایک بندہ مومن حیرت سے پکا ر اٹھتا ہے کہ واقعی ۔یہ انسان بھی اسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے خدایا۔ جسم کے یہ کیمیائی اجزا پکا ر پکار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان کی تخلیق فی الاصل مٹی ہی سے کی گئی ہے۔ بیشک بظاہر وہ گوشت پوست اور ہڈیوں کا چلتا پھرتا مجسمہ نظر آتاہے،لیکن اگر توڑ پھوڑ کراسے دیکھا جائے تو سوائے ایک مشت ِ خاک کے اندر سے وہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔لے کے ایک مشتِ خاک ،ہوا نے اسے اڑادیا۔ قادرِ مطلق نے کہیں اولین انسان حضرت ِ آدم کو براہ راست مٹی سے پیدا کیا تھا ۔ خلقناہ من طین بلکہ من طین ِلازِب۔ جس کے باعث شیطان نے انہیں سجدہ کرنے میں سبکی بھی محسوس کی تھی مگر آج کوئی ایک لاکھ نسل انسانی کے دنیا میں جنم لے لینے اور پھر واپس اپنے مالک ِ کائنات کے پاس جاپلٹنے کے، اس الہیاتی حقیقت میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے کہ انسان کی پیدائش ایک کھنکتی ہوئی مٹی سے کی گئی تھی۔قرآن پاک ہمیں یاد دہانی کراتاہے کہ لوگو مٹی ہی سے تم پیدا کیے گئے تھے ، مٹی ہی میں تمہیں واپس لوٹایا جائے گا اور مٹی ہی سے تمہیں دوبارہ بر آمد کیا جائے گا۔منھا خلقناکم، وفیھا نعیدکم، ومِنھا نخرجکم تارة اخری ۔ یہی وہ مٹی ہے جسے میر تقی میر نے بھی کبھی اس طرح سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ
نہیں ہے مرجع ِ آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے یہ قدِ خم ہمارا؟
یعنی انسان کا آغاز و انجام اگر مٹی نہیں ہے تو پھر کمر خمیدہ ہمارا یہ جسم آخر زمین ہی کی طرف کیوںجھکاچلا جارہا ہے؟ اس طرح دراصل انہوں نے ایک بہت صحیح بات لوگوںکے سامنے رکھنے کی کوشش کی تھی۔پھر بات صرف یہی نہیں ہے کہ انسانی جسم ان خاکی اجزا کا مرکب ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ چشم کشا حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ تمام اجزا ،ایک خاص تناسب یا ایک خاص انداز ے کے حساب سے جسم کے اندر رکھے گئے ہیں ، جو (تناسب)اگر وہاں برقرار نہ رہ سکے تو جسم یکایک بدنظمی کا شکا ر ہونے لگتاہے ۔ سر درد شروع ہوجاتاہے ، متلیاں آنے لگتی ہیں، جسم کی سرخی گھٹنے لگتی ہے، خون کا دبائوالٹ پلٹ ہوجاتا ہے اور بھوک ختم ہوجاتی ہے۔ یہی نہیںبلکہ اس کے علاوہ تھکن بھی طاری ہو نے لگتی ہے ، دل ڈوبنے لگتا ہے، پیاس بڑھ جاتی ہے، چکر آنے شروع ہوجاتے ہیں، دل کے حملوں کا امکان پیدا ہوجاتا ہے ، مایوسی اورگھبراہٹ سوِا ہوجاتے ہیں، تشنج کے جھٹکے لگنے لگتے ہیں، پیلیا در آنے لگتا ہے، قبض کی شکایت جنم لینے لگتی ہے اور پیٹ کا درد راستہ بنانے لگتاہے وغیرہ وغیرہ۔بغیر ڈاکٹری پڑھے ہوئے بھی اتنی ساری تکالیف تو ہم نے محض چٹکیوں میں آپ کو گنوادیں جو اگر ڈاکٹر حضرات سے معلوم کی جائیں تو شاید اس سے بھی دگنی فہرست وہ ہمیں مزیدتھمادیں، مثلاً ابھی حال ہی میں ایک طبی سیمینار میں لاہور کے ڈاکٹروں نے شرکا کو آگاہ کیا ہے کہ(صرف) زِنک، جست کی مناسب مقدار ہی اگر جسم کو نہ ملے تو انسان کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ (بحوالہ روزنامہ جنگ کراچی)
وجہ ان ساری تکالیف کی عموما بس ایک ہی سامنے آئے گی کہ جسم میں موجود مٹی کے یہ عناصر ضرور کہیں اتھل پتھل ہوئے ہیں! ان کا نظام ِ ترتیب لازما کہیں گڑ بڑ ہوا ہے! ٹھیک ہی تو کہا تھا شاعر نے کہ
زندگی کیا ہے ؟ عناصر میں ظہور ِ ترتیب
موت کیا ہے؟ انہی اجزا کاپریشاں ہونا
مذکورہ شعرا نے اگرچہ اپنے دور میں جدید سائنس کی الف بے بھی نہیں پڑھی تھی ، لیکن قدرت و صناعی قدرت پر ان کا بن دیکھے ایمان ضرور موجودتھا ۔ (جاری ہے)

