آج جمعہ ہے اور 2026 کے اپریل کی 10 تاریخ، آج کے دن کراچی میں نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات شروع ہو ئے ہیں، یہ امتحانات پہلے 7 اپریل کو ہونا تھے ، بلکہ اس سے بھی پہلے 31 مارچ کو ہونا تھے، لیکن بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی جو کچھ سال ہا سال سے کرتا آرہا ہے ۔ اس نے اپنا ریکارڈ سال 2026 میں بھی برقرار رکھا ہے، ویسی ہی غلطیاں ، ویسی ہی بد نظمی، بلکہ پہلے سے بڑھ کے، نئی شان اور نئی آن بان کے ساتھ۔ پرانی غلطیوں کے ساتھ نئی نویلی غلطیوں کی پوری سیریز ،بہترین پیکنگ اور خوبصورت پیشکش کے ساتھ۔ اِس سال کی غلطیوں کیلئے مبینہ طور پر اندرون سندھ سے بہت خاص قسم کے نالائق اہلکار بلائے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے یہ اہلکار پہلے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی بھیجے گئے تھے ،لیکن وہاں کے قانونی افسران نے انھیں لینے سے انکار کیا، چنانچہ نالائقی کے نئے اور خصوصی تجربات کیلئے ان افسر کا قرعہ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کے نام نکلا ۔
٭٭٭
خیال کیا جاتا ہے کہ جناب شان الحق حقی مرحوم نے ایک نظم (بھائی بھلکڑ)جس بچے پر لکھی تھی ، اس جیسے کئی بچے بڑے ہو کر محکمہ تعلیم سندھ میں بھرتی ہوتے ہیں، خاص طور پر بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی میں (حسب حال و قال) اپنی بے مثال ، لاجواب بد نظم حرکتیں انجام دیتے ہیں ، جنھیں لکھنے ، بیان کرنے والے ہی نہیں ان پر کوسنے والے بھی تھک گئے ہیں لیکن نہیں تبدیل ہوا تو بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کا مزاج و نظام ۔
٭٭
ایسا لگتا ہے دو ٹوکریاں رکھی جاتی ہیں، ایک میں سینٹر بنائے جانے والے اسکولوں کے نام پرچیوں پہ لکھ کر ڈالے جاتے ہیں اور دوسری ٹوکری میں ان ا سکولوں کے نام جن کے بچوں نے امتحان دینا ہوتا ہے ۔ ایک ایک پرچی دونوں ٹوکریوں سے اٹھائی جاتی ہے اور جوڑی بنادی جاتی ہے ، مثلا بچہ ناظم آباد 4 نمبر کے اسکول میں پڑھتا ہے۔ اس کا سینٹر پڑ جاتا ہے سرجانی کے کسی اسکول میں اور سرجانی والے کا گلشن اقبال کے کسی اسکول میں ۔ یہی حال پرائیویٹ امتحان دینے والوں کا ہوتا ہے ، امیدوار رہتا صدر میں ہے۔ سینٹر پڑتا ہے لانڈھی میں اور لانڈھی والوں کو گلستان جو ہر بھیج دیا جاتا ہے ۔ قطع نظر اس کے موسم کیا ہے ، حالات کیا ہیں ، کسی امید وار لڑکے لڑکی کے لیے اتنی دور جانا کیسے ممکن ہوگا ، سینٹر تلاش کیسے کریں گے کرایہ کتنا خرچ ہوگا ، پھر جو اس لڑکے ،لڑکی کو لے جائے گا ، اس نے تین گھنٹے بعد اس کو لینے بھی آنا ہے ۔ احساس نام کی کوئی صلاحیت اگر ہوتی ہے تو اسے بھی تھپک کر سلادیا جا ہے ، تاکہ یہ پتا ہی نہ چلے کہ والدین ، اور بھائی بہنو ں کو کیسی کیسی مشکل پیش آئے گی اور جن بچوں کے گھر کوئی صحت مند سرپرست ساتھ جانے آنے والا نہ ہو ان پہ کیا بیتے گی ۔
٭٭٭
سینٹر جہاں بھی ہو ،یہ مشکل بھی اگر بر وقت پتا چل جائے تو پہلے جا کر والدین سینٹر دیکھ آئیں ،کچھ سوچ بچار کر لیں ، جس دن امتحان ہونا ہوتا ہے کئی امیدواروں کو اس شام بلکہ رات جا کر سینٹر کا پتا چلتا ہے اور کئی ایک کو تو صبح پتا چلتا ہے ، ایڈمٹ کارڈ آخری دن تک جاری ہوتے رہتے ہیں کئی بار کئی اسکولوں کے بچوں کو امتحانی سینٹر میں پہنچنے کے بعد ایڈمٹ کارڈ ملتا ہے ۔ کبھی کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے کہ اس کا ایڈمٹ کارڈ امتحان کے دوران تبدیل ہوتا ہے ، ایسا بھی ہوتا ہے ایڈمٹ کارڈ پہ سینٹر اور جگہ ہے اور حقیقت میں سنٹر کسی اور جگہ ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ امتحانی سنٹر پہ پرچہ کوئی اور پہنچتا ہے اور جاری کی گئی ڈیٹ شیٹ میں اس روز کے لیے کسی اور پرچے کا ذکر ہوتا ہے ۔ باقی پرچے لیک ہونا، نقل ہونا ، پیسے لے کر نقل کرنا اور کروانا ۔ یہ تو خیر معمولی کیس ہے ۔ اسلحے کے زور پر نقل چلنا ، اساتذہ کو یرغمال بنا لینا اور خنجر ،پستول چلنا بھی کراچی کے معمولات میں شامل رہا ہے ۔یہاں بابائے قوم کے نام پر (اللہ نام پر نہیں)نالائق بچوں کو اونچے گریڈ میں کامیابی کی سہولت بھی دستیاب ہے اور لائق بچوں کے حل شدہ پرچوں کو کسی نالائق کے پرچے سے تبدیل کر کے اس کی لیاقت کا خون کیا جاتا ہے۔ اگر ا س بچے کی پہنچ ہے بورڈ کو چیلنج کر نے کی تو سب کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں ۔ باقی حضرت قائد اعظم کی خدمات حاصل کرکے من مرضی کے نتائج جاری کروانے کی خبریں تو آتی ہی رہتی ہیں۔
٭٭٭
اس مرتبہ ڈیٹ شیٹ تبدیل ہوئی لیکن اکثر اسکول اپنے طلبہ کو نئی ڈیٹ شیٹ کا پرنٹ نہیں دے سکے۔ آئی ٹی ماہرین نے جو پورٹل تیار کی اور جس سے ایڈمٹ کارڈ یا ڈیٹ شیٹ حاصل کرنا تھے اس کا نظام بیٹھ گیا ،جیسے 2018 کے انتخابی نظام کا نظام بیٹھ بلکہ لیٹ گیا تھا۔سال 2026 میں بد نظمیوں کے جو نئے ریکارڈ قائم ہو ئے اور ہوتے چلے جا رہے ہیں، ان سے لگتا ہے بد نظمیوں نے خود کو اپ گریڈ کیا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے جراثیم علاج دریافت ہونے کے بعد اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہیں اور علاج کے طور پر بنائی گئی دوا پیچھے رہ جاتی ہے جراثیم آگے نکل جاتے ہیں۔

