رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر اِس موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر شدید بے چینی پیدا کر دی تھی۔ توانائی کی منڈیوں میں ہلچل، تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اور عالمی معیشت پر منڈلاتے سائے اِس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ صورتحال محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ ایسے نازک وقت میں اچانک ایک پیش رفت سامنے آئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پاگئی ہے جو بظاہر ایران کی پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے ایران کو مٹانے کی دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ ختم۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
یہ اعلان بظاہر ایک سادہ سفارتی پیش رفت دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پس منظر میں پیچیدہ مذاکرات، خفیہ رابطے اور عالمی طاقتوں کا دباو کارفرما ہے۔ اس جنگ بندی کو وقتی سکون تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی سیاسی بساط پر چلی جانے والی چال ہے جس کے اثرات آنے والے مہینوں بلکہ برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبہ اس پورے معاملے کا مرکز ہے۔ یہ محض جنگ بندی کی اپیل نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی، عسکری اور اقتصادی خاکہ ہے جس کے ذریعے ایران اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کی پہلی اور بنیادی شق امریکا کی طرف سے عدم جارحیت کی ضمانت ہے جو دراصل ایران کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ اسے مسلسل عسکری خطرات سے نجات حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری برقرار رکھنے پر زور دیا ہے جو اس تنازع کا سب سے حساس اور اہم پہلو ہے۔ یہ بحری راستہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے جہاں سے عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس آبنائے کی بندش نے حالیہ بحران میں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایران نے اپنی تجویز میں نہ صرف اس پر کنٹرول برقرار رکھنے کی بات کی بلکہ ایک منظم اور محفوظ بحری گزرگاہ کا پروٹوکول بھی پیش کیا، جس کے تحت جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی اور اس آمدنی کو انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔
ایران کے اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو اس کا جوہری پروگرام ہے۔ ایران نے واضح طور پر یورینیم افزودگی کے اپنے حق کو تسلیم کروانے کا مطالبہ کیا ہے جو ماضی میں امریکا اور مغربی طاقتوں کے ساتھ سب سے بڑا تنازع رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے کی شرط بھی رکھی گئی ہے جو ایران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی قراردادوں کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس سے ایران خود کو عالمی دباو سے آزاد کروانا چاہتا ہے۔یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ایران کے لیے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ ایک مالیاتی معاملہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ سیاسی اور اخلاقی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ ایران نے براہ راست ہرجانے کے بجائے ایک متبادل راستہ بھی پیش کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو تعمیرنو کے لیے استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں خطے سے امریکی افواج کے انخلا کی شرط بھی شامل ہے جو نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگر یہ شرط پوری ہوتی ہے تو طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو سکتا ہے اور ایران کو خطے میں مزید اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے لیے نوبل پرائز کی تجویز
دسویں نکتے میں ’تمام محاذوں پر جنگ بندی‘ کی بات کی گئی ہے جس میں خاص طور پر لبنان میں مزاحمتی گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کا ذکر ہے۔ یہاں لبنانی ملیشیا کا حوالہ واضح طور پر سمجھا جاتا ہے جو ایران کا ایک اہم اتحادی ہے۔ تاہم قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس پورے منصوبے میں فلسطین یا غزہ کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں جو کہ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایک اہم خلا تصور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ بعض تجزیہ کار ’تمام محاذوں‘ کی اصطلاح کو وسیع معنوں میں لیتے ہوئے فلسطینی محاذ کو بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں، لیکن یہ محض ایک تشریح ہے، اصل متن میں اس کی کوئی صراحت موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے پر تنقید بھی کی جارہی ہے کہ یہ غزہ میں جاری بحران کو براہِ راست ایڈریس نہیں کرتا۔
اس پوری پیش رفت میں پاکستان کا کردار نہایت اہم بلکہ مرکزی رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایک فعال ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان رابطے ممکن ہوئے۔ اسلام آباد میں آئندہ مذاکرات کا انعقاد بھی متوقع ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس قراقجی نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی دفاعی کارروائیاں اُسی وقت روکے گا جب اس کی سرزمین پر حملے بند ہو جائیں گے۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اس جنگ بندی کو ایک مشروط اور عارضی قدم کے طور پر دیکھ رہا ہے، نہ کہ مستقل حل کے طور پر۔
دوسری جانب اسرائیلی موقف اس سے مختلف نظر آتا ہے۔ صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جو اس پورے معاہدے میں ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اختلاف اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں ابھی بھی مکمل ہم آہنگی موجود نہیں اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔جنگ بندی بظاہر دو ہفتوں کے لیے ہے مگر اس کے دوران ہونے والی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا یہ ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔ عالمی طاقتیں خصوصاً امریکا اس موقع کو ایک طویل المدتی حل کی طرف بڑھنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران اسے اپنی شرائط منوانے کے لیے ایک سنہری موقع سمجھ رہا ہے۔عالمی سطح پر اس پیش رفت کو محتاط اُمید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ توانائی کی منڈیاں، جو حالیہ بحران سے شدید متاثر ہوئی تھیں، اب کسی حد تک استحکام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک بنیادی تنازعات حل نہیں ہوتے اس طرح کی جنگ بندیاں محض وقتی ریلیف فراہم کرتی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ جنگ بندی ایک امتحان ہے۔ نہ صرف ایران اور امریکا کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ موقع ایک پائیدار امن کی بنیاد بنے گا یا ایک اور عارضی وقفہ ثابت ہوگا جس کے بعد خطہ دوبارہ اسی کشیدگی کی طرف لوٹ جائے گا جس نے اسے کئی دہائیوں سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

