امریکا، ایران 38 روزہ جنگ کے نقصانات و اثرات

رپورٹ: علی ہلال
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملے سے شروع ہونے والی جنگ 7 اور 8 اپریل کی درمیانی شب پاکستان کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں عارضی جنگ بندی پر اختتام کو پہنچ گئی۔
دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر تینوں ممالک رضامند ہوگئے ہیں۔ اس جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات تین بجے کر 32 منٹ پر کیا‘ جب ایران کو دی جانے والی مہلت میں صرف ڈیڑھ گھنٹے کا وقت باقی تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے کی جانے والی پوسٹ اس پوسٹ میں دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں‘۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ اب 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔جمعہ سے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوں گے جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں
38روز پر محیط اس جنگ نے مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک کو براہ راست جانی ومالی طور پر متاثر کیا جبکہ اس جنگ سے پیدا ہونے والے بحران کے اثرات، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور اشیائے خوردونوش سمیت صنعتی سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا سمیت کئی ممالک میں سمارٹ لاک ڈاون بھی لگانا پڑا۔ یہ جنگ براہ راست تین ممالک امریکا‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان تھی جس میں لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے بھی شمولیت اختیار کی تھی جبکہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکری الائنس ’الحشد الشعبی‘ نے بھی عراق میں امریکی تنصیبات پر حملے کرکے اس جنگ میں حصہ لیا۔ ایران زخمی اور جاںبحق افراد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے۔

جنگ نے دنیا بھر کو متاثر کیا، تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا

انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبررساں ایجنسی ’ہرانا‘ جس کا صدر دفتر امریکا میں ہے، نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران میں جنگ کے آغاز سے اب تک 3636 افراد جاںبحق ہوچکے ہیں جن میں 1701 شہری شامل ہیں، جبکہ ان میں کم ازکم 254 بچے بھی شامل ہیں۔ ایجنسی کے مطابق وہ اپنے اعداد و شمار میدانِ جنگ کی رپورٹوں، مقامی، طبی اور امدادی ذرائع، سول سوسائٹی کی تنظیموں، اوپن سورس مواد اور سرکاری بیانات سے جمع کرتی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی فیڈریشن برائے ریڈ کراس اور ہلالِ احمر سوسائٹیز نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں کم ازکم 1900 شہری جاںبحق جبکہ 20 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق ایران اور لبنان کی جانب سے داغے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوئے جبکہ فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے 10 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ امریکی مسلح افواج کے 13 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان میں سے 6 اہلکار عراق میں ایک فوجی ایندھن بردار طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے جبکہ باقی 7 اہلکار ایران کی سرزمین پر فوجی کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔ مزیدبرآں، ایک امریکی عہدیدار نے گزشتہ جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب میں قائم پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے سات ممالک میں امریکی فوج کے تقریباً 300 اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے۔
اس جنگ میں عراق میں 117 عام شہریوں کے جاںبحق ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں 12 افراد نشانہ بنے جن میں دو فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ قطری وزارتِ دفاع کے مطابق 22 مارچ کو ایک معمول کی پرواز کے دوران فنی خرابی کے باعث ایک ہیلی کاپٹر قطری علاقائی پانیوں میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں سات افراد جاںبحق ہوئے۔ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ فوت ہونے والوں میں چار قطری مسلح افواج کے اہلکار، ایک قطری‘ترک مشترکہ دستے کا ترک شہری اور دو تکنیکی ماہرین شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران میں تباہ ہونے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کی کہانی
اسرائیلی قبضے میں موجود مغربی کنارے میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں چار فلسطینی خواتین جاں بحق ہوئیں۔شامی عرب خبر رساں ایجنسی کے مطابق 28 فروری کو جنوبی شہر السویداءمیں ایک عمارت پر ایرانی میزائل گرنے سے چار افراد جاںبحق ہوگئے۔ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ ایران سے منسوب دو الگ الگ حملوں میں دو افراد ہلاک ہوئے جن میں آخری حملہ دارالحکومت منامہ میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ 13 مارچ کو سلطنت عمان کے علاقے صحار کے ایک صنعتی علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے جو اس ملک میں پہلی ہلاکتیں ہیں جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک آئل ٹینکر چلانے والی کمپنی کے مطابق مسقط کے ساحل کے قریب ایک گولہ لگنے سے زخمی ہونے والا ایک شخص بعدازاں دم توڑ گیا۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے جنوب مشرق میں واقع شہر الخرج کے ایک رہائشی علاقے میں گولہ گرنے سے دو افراد جاںبحق ہوگئے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق شمالی عراق میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے جہاں وہ انسدادِ دہشت گردی کی تربیت فراہم کررہے تھے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے آغاز کے بعد تقریباً 1530 افراد شہید ہوچکے ہیں۔ شہداءمیں 130 بچے، 102 خواتین اور 57 طبی عملے کے افراد شامل ہیں جبکہ 4812 افراد زخمی ہوئے ہیں۔شہری ہلاکتوں میں تین صحافی بھی شامل ہیں جو جنوبی لبنان میں اپنی گاڑی کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی فضائی کارروائی میں شہید ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے جنوبی لبنان (یونیفل) نے اپنے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ لبنانی فوج کے مطابق اس کے نو اہلکار نشانہ بنے جن میں سے ایک دورانِ ڈیوٹی تھا۔ ادھر حزب اللہ نے اپنے جنگجوو¿ں کے جانی نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں کم ازکم 1900 شہری جاں بحق ہوئے

اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو 17 جہازوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ترک خبررساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا اور اسرائیل کی 146 مختلف اقسام کی ڈرون طیارے مار گرائے ہیں جن میں ”MQ-9، ہرمیس، ہیرون اور اوربیٹر“ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بعض جنگی طیارے بھی نشانہ بنائے گئے۔ ایران نے دو ’ایف35‘ لڑاکا طیارے گرانے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیانات کے مطابق صرف ایک طیارہ متاثر ہوا جو ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہوا اور واشنگٹن نے بڑے نقصانات کی تردید کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی‘ اسرائیلی اتحاد کو مجموعی طور پر 17 فوجی طیاروں (جن میں لڑاکا، ٹرانسپورٹ اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں) اور 146 مختلف ڈرونز کا نقصان ہوا۔ ایران میں امریکی فوجی کارروائی کی لاگت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ایران وار کاسٹ ٹریکر‘ کے مطابق اس کارروائی کے آغاز سے 37 دنوں میں اخراجات 42 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز ایران کے خلاف جنگ کی مجموعی لاگت 42.1 ارب ڈالر سے بھی بڑھ گئی۔