رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے اندر ایک امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد ایک نہایت پیچیدہ اور جرات مندانہ ریسکیو آپریشن انجام دیا گیا، جس کے نتیجے میں طیارے کے دوسرے پائلٹ کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ’ایف 15 ای‘ طیارہ ایرانی فضائی حدود میں ایک مشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کا نشانہ بنا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس کی دفاعی فورسز نے طیارے کو جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا جس کے بعد طیارے کے دونوں اہلکار پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اُترنے پر مجبور ہوئے۔ ابتدائی طور پر امریکا نے اعلان کیا کہ عملے کے ایک رکن کو فوری طور پر نکال لیا گیا ہے جبکہ دوسرا اہلکار ایرانی سرزمین کے اندر لاپتہ ہوگیا۔ بعدازاں امریکی میڈیا خصوصاً ایکسیوس، نیویارک ٹائمز اور ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ کیا کہ یہ دوسرا اہلکار جو اسلحہ جاتی نظام کا ماہر اور کرنل کے عہدے پر فائز تھا، ایک دشوارگزار پہاڑی علاقے میں اترنے کے بعد شدید زخمی حالت میں کئی گھنٹوں تک چھپا رہا۔ اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز اس کی تلاش میں متحرک رہیں اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی 8 بحری گزرگاہوں سے بین الاقوامی تجارت کا 80 فیصد گزرتا ہے
ایرانی عوام سے بھی تلاش کی اپیل کی گئی مگر کامیابی نہیں مل سکی۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ افسر نے اپنی بقا کی تربیت کے مطابق خود کو چھپائے رکھا اور جدید انکرپٹڈ مواصلاتی آلات کے ذریعے امریکی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ رابطہ قائم رکھا۔ اس نے طیارے سے ایجیکٹ ہونے کے فوراً بعد ہنگامی سگنل بھیجا جس کی مدد سے امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اس کی درست لوکیشن کا تعین کیا، حالانکہ ایرانی فورسز مسلسل اس کی تلاش میں تھیں اور علاقے میں گشت کررہی تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس ریسکیو مشن کے لیے سینکڑوں اسپیشل آپریشنز فورسز کے اہلکاروں، درجنوں جنگی طیاروں، بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور سیٹلائٹ نگرانی کے نظام کو بروئے کار لایا گیا۔
ہفتہ کی شب کیے گئے اس آپریشن میں ہیلی کاپٹروں نے انتہائی نچلی پرواز کرتے ہوئے پہاڑی علاقے میں داخل ہوکر پائلٹ تک رسائی حاصل کی۔ اس دوران انہیں ایرانی زمینی فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اطلاعات کے مطابق ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچا، تاہم وہ مشن مکمل کرنے میں کامیاب رہا۔ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ امریکی فضائیہ نے ان ایرانی یونٹس پر فضائی حملے کیے جو پائلٹ کے قریب پہنچنے کی کوشش کررہے تھے تاکہ ریسکیو ٹیموں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی اور محدود حملے کیے گئے۔ بالآخر ریسکیو ٹیم پائلٹ کو لے کر بحفاظت ایرانی فضائی حدود سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق اس آپریشن کے دوران امریکی فورسز کو کچھ مادی نقصان بھی اٹھانا پڑا جن میں دو ٹرانسپورٹ طیاروں کا خراب ہوجانا شامل ہے۔ ان طیاروں کو دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے خود امریکی فورسز نے انہیں تباہ کردیا۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے اس دوران ایک امریکی ڈرون مار گرایا جبکہ بعض ہیلی کاپٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم امریکا نے ان دعوو¿ں کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس آپریشن کو ’امریکی تاریخ کے سب سے جرا¿ت مندانہ ریسکیو مشنز میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے کسی بھی فوجی کو میدان میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بچایا گیا افسر محفوظ ہے اور اس وقت طبی امداد حاصل کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خشک زمینوں پر زندگی کی واپسی، بارش کے بعد سعودی صحرا سیاحوں کا مرکز بن گئے
دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب میزائل حملے کیے گئے جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایران کے صوبہ اردبیل میں بمباری کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جس سے خطے میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ توانائی کے مراکز، خصوصاً بجلی گھروں اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے دھمکیوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کردی ہے۔ یہ صورتحال ایک بڑے علاقائی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ایک طرف براہ راست عسکری کارروائیاں جاری ہیں تو دوسری طرف سفارتی اور میڈیا جنگ بھی اپنے عروج پر ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی حکام کے دعوے کو درست مانا جائے تو یہ واقعہ جدید جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو واضح کرتا ہے جہاں ایک پائلٹ کی بازیابی کے لیے پوری عسکری مشینری متحرک ہوجاتی ہے۔ یہ نہ صرف امریکا کی عسکری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس کے اس اصول کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو کسی بھی قیمت پر واپس لانے کی کوشش کرتا ہے۔
طیارہ ہٹ ہونے کے بعدکا پروٹوکول
ایران میں امریکی طیارے کو نشانہ بنائے جانے کی روشنی میں جنگی حالات میں اپنائے جانے والے پروٹوکول کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔ اس پر الجزیرہ نے ایک جامع رپورٹ بنائی ہے۔ جب کسی ملک کا لڑاکا طیارہ دشمن کی حدود میں گرایا جاتا ہے تو سب سے پہلا مرحلہ سرچ اینڈ ریسکیو (SAR) کا ہوتا ہے۔ اگر پائلٹ زندہ ہو تو فوری طور پر (RASC) Combat Search and Rescue یونٹس متحرک کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد پائلٹ کو دشمن کے ہاتھ لگنے سے پہلے محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہوتا ہے۔ پائلٹ کو ہنگامی صورت میں ایجیکٹ (Eject) کرنے کے بعد اپنی لوکیشن خفیہ رکھنی ہوتی ہے۔ ریسکیو سگنلز صرف مخصوص فریکوئنسی پر بھیجنے ہوتے ہیں۔ دشمن سے بچنے کے لیے (SERE) Ecape، Resistance ، Evasion، Survival یعنی ”زندہ رہنا، چھپ کر بچنا، ڈٹ جانا، فرار و نکل جانا“ ٹریننگ پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ پھر گرے ہوئے طیارے میں موجود جدید ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور خفیہ ڈیٹا دشمن کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے بعض طیاروں میں Self-Destruct Mechanism یا حساس آلات کو ناکارہ بنانے کا نظام موجود ہوتا ہے۔ ورنہ اگر ممکن ہو تو فضائی حملے کے ذریعے ملبہ تباہ کردیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد میڈیا کو محدود معلومات دی جاتی ہیں تاکہ دشمن کو فائدہ نہ ہو۔ بین الاقوامی سطح پر سفارتی رابطے تیز کیے جاتے ہیں خاص طور پر اگر پائلٹ قید ہوجائے۔

