عارضی سیز فائر مسترد کرنے کا ایرانی فیصلہ، امریکا مشتعل، پاکستانی ثالثی جاری

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ پاکستان، مصر اور ترکیہ کی ثالثی کے باوجود فوری جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی پیشکش پر دونوں فریقوں کا مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران نے تجویز مسترد کرتے ہوئے اسے عارضی اور غیر موثر قرار دیا، جبکہ امریکا نے اسے اہم مگر ناکافی قدم قرار دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان دو مرحلوں پر مشتمل “اسلام آباد اکارڈ” پیش کیا، جس میں پہلے 45 روزہ عارضی جنگ بندی اور بعد میں مستقل معاہدے کی تجویز شامل ہے۔ تاہم ایران نے مستقل جنگ بندی اور سیکیورٹی ضمانتوں کے بغیر معاہدے سے انکار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف فوری کارروائی کر سکتا ہے، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پورے ایران کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی دھمکی دی کہ ایران کے جواب پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے “آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت خلیج فارس اور ملحقہ علاقوں میں متعدد امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں 25 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل میں بھی ایرانی میزائل حملوں میں شہری اور صنعتی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا، اور کئی افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے۔

لبنان، اردن اور خلیج فارس میں بھی حملوں اور دفاعی کارروائیوں کے باعث شہری علاقوں میں خوف اور تباہی کا ماحول ہے۔ متحدہ عرب امارات اور کویت کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا۔

عالمی ذرائع کے مطابق ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی اور بعد میں مستقل معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا واحد موقع ہو سکتا ہے، لیکن اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات محدود ہیں۔