ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں برینڈ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس کی قیمت بھی 5 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جو حالیہ ہفتوں میں ایک دن کے اندر ہونے والے بڑے اضافوں میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ تیزی مشرق وسطیٰ میں نئی فوجی کشیدگی، ایران تنازع اور سفارتی مذاکرات میں تعطل کے باعث سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات کے نتیجے میں دیکھی گئی ہے
امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی، جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ اس بیان نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد قیمت دوبارہ کم ہو کر 98.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور عالمی معاشی نمو کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

