آئی ایم ایف کا اداروں کے سربراہان کی توسیع پر اعتراض

اسلام آباد:پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کے آخری روز آئی ایم ایف مشن نے حکومت کے قول و فعل میں تضاد پر سوالات اٹھا دیے۔

آئی ایم ایف نے ارکان پارلیمنٹ کو اثاثے ظاہر کرنے سے استثنا دینے کے مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کردیا جبکہ چیئرمین نیب سمیت اہم اداروں کے سربراہان کو توسیع نہ دینے اور مزید شفافیت پر زور دیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے گورننس اور اینٹی کرپشن اقدامات مزید مضبوط بنانے، اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے پائیدار اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

حکومت نے مالی ڈسپلن پر عملدرآمد اور 1468ارب پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کا وعدہ کیا، حکومت نے سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے فنانسنگ میں توسیع پر اعتماد میں لیا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو کفایت شعاری اقدامات پر عمل درآمد سے بھی آگاہ کیا۔

آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس اور زرمبادلہ ذخائر میں پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ممکنہ تاخیر کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ فنانسنگ گیپ، ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال پورا کرنے کے معاملے پر مزید مذاکرات ہوں گے۔

حکام وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات تعمیری رہے،اسٹاف لیول معاہدے کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاخیر کی صورت میں مذاکرات کے مزید دور ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانبپاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان موجودہ مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ معاشی اور مالیاتی فریم ورک پر اتفاق رائے قریب آ گیا ہے۔

فریم ورک کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کر کے جون 2026ء تک 134.5 کھرب روپے کر دیا جائے گا۔آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔

ایف بی آر مالی سال 2025ـ26ء کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ جی ڈی پی کے 11 فیصد کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہنے کا خدشہ ہے۔موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 428 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کم رہی ہے۔