غزہ پرصہیونی حملے،رفح بارڈربند،لبنان میں17جاں بحق

غزہ/بیروت:غزہ شہر میں الجلا اور العیون شاہراہوں کے سنگم کے قریبی علاقے پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ منگل کی صبح قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے غزہ شہر میں الجلا اور العیون شاہراہوں کے جنکشن کے قریب فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوئے جن میں سے بعد ازاں ایک کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی۔

علاوہ ازیں قابض فوج کے توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقوں میں پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔

ادھرغزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے ان بڑھتے ہوئے اشاروں پر گہری تشویش اور خدشات کا اظہار کیا ہے جو قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ایک غیر اعلانیہ اور نرم جبری بے دخلی کی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ پالیسی سفر کے لیے فراہم کی جانے والی ایسی مبہم سہولیات اور انتظامات کے ذریعے اپنائی جا رہی ہے جن میں شفافیت کا فقدان ہے اور جو کسی واضح فریم ورک کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب سنگین طبی حالات سے دوچار ہزاروں مریضوں کو سفر کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے مرکز نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے قابض اسرائیل کے کوآرڈینیٹر برائے حکومتی سرگرمیاں کے اس اعلان کا بغور جائزہ لیا ہے جس میں کہا گیا کہ 44 ہزار افراد مختلف زمینی گزرگاہوں کے ذریعے غزہ کی پٹی سے تیسرے ملک روانہ ہوئے۔

اس کے مقابلے میں رفح گزرگاہ کے ذریعے رخصت ہونے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی تعداد محض 2000 کے لگ بھگ رہی۔

مرکز نے اشارہ کیا کہ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک طرف تو ان مریضوں کے سفر میں منظم طریقے سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جن کے ہاں سفر میں تاخیر اور سفری اجازت نہ ملنے کے باعث روزانہ کی بنیاد پر اموات ہو رہی ہیں ۔

دوسری طرف غیر واضح طریقہ کار کے تحت مخصوص افراد اور خاندانوں کو تیسرے ممالک بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جو کسی بھی آزادانہ نگرانی یا اعلانیہ معیار کے تابع نہیں ہیں۔حقوقِ انسانی کے مرکز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب بھی تقریباً 18 ہزار مریض اور زخمی ایسے ہیں جنہیں بیرون ملک علاج کے لیے فوری سفر کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ ہزاروں دیگر افراد کو بھی خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے کیونکہ قابض اسرائیل کے براہ راست حملوں اور طویل محاصرے کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کا طبی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں ایک نئے طبی بحران کے سر اٹھانے پر خبردار کیا ہے، جہاں پوری پٹی میں پھیلے ہوئے گنجان آباد پناہ گزین کیمپوں میں جلدی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، جبکہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ صورتحال مزید سنگین ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور بحالی کے ذمہ دار اقوام متحدہ کے ادارے (انروا)کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جلدی انفیکشن کے کیسز میں گذشتہ مہینوں کے دوران3گنا اضافہ ہوا ہے، درجہ حرارت میں اضافے، پناہ گزینوں کے بے پناہ اژدہام، صفائی کے نظام کی ابتری اور صاف پانی کی قلت نے خارش، چیچک اور دیگر جلدی امراض کے پھیلائو کے لیے سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے جس سے خاص طور پر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

دریں اثناء جنوبی لبنان پر تازہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم 17 افراد جاںبحق ہو گئے جو جنگ بندی کے آغاز کے دو ہفتے سے زائد عرصے بعد کے سب سے خونریز دنوں میں شمار ہوتے ہیں۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 110 ہو چکی ہے۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے لبنان میں شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لبنانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شہریوں اور جنگجوئوں میں فرق نہیں کیا گیا، تاہم وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ جاںبحق ہونے والوں میں دو بچے شامل تھے، جبکہ 14 زخمی بھی بچے ہی ہیں۔

تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں اس کے 17 فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور اس نے حزب اللہ پر سینکڑوں راکٹ اور ڈرون حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

حزب اللہ نے بھی متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب واقع ناقورہ میں اسرائیلی فوجیوں پر ڈرون حملے اور ملک کے جنوب مشرقی علاقے قنطارہ میں فوجی اہداف پر راکٹ داغے جانا بھی شامل ہیں۔

تنظیم کی جانب سے اسے جوابی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ادھر بنت جبیل کے علاقے کفرا میں قابض اسرائیل کی جانب سے ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں لبنانی فوج کا ایک افسر اور سپاہی معمولی زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے مزید چھ دیہات کے باسیوں کو نئے حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے گھر بار چھوڑنے کے انتباہ جاری کیے ہیں۔ اس کے جواب میں حزب اللہ نے 11 فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے جن میں قابض اسرائیل کے اجتماعات اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔