صہیونی لابی کی خواہش پر چھیڑی گئی جنگ

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے آغاز کو چار دن گزر چکے ہیں، سو سے زائد معصوم بچیوں سمیت کم از کم ایک ہزار کے قریب افراد ابھی تک اس بے مقصد اور بلاجواز جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جنگ کے شعلے ایران سے نکل کر پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، خلیج کی وہ ریاستیں جہاں کئی عشروں سے بے امنی کا تصور بھی نہیں کیا جاتا ہے، بارود کی بارش کی زد میں ہیں۔ بحیرہ عرب اور خلیج فارس سے چلنے والی عالمی تجارت کے راستے مسدود ہوچکے ہیں، پوری دنیا کی معیشت و اقتصاد کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے اور دنیا کے ہر باشعور انسان کی زبان پر یہ سوال ہے کہ یہ جنگ کس مقصد کے تحت چھیڑی گئی ہے، اس کا ہدف کیا ہے اور انجام کیا ہوگا؟

مگر جن لوگوں نے یہ جنگ چھیڑی ہے وہ دنیا کو اور خود اپنے عوام کو جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کی وجوہات سے امریکی عوام کو آگاہ کرنے کے لیے کسی براہِ راست اور عوامی خطاب میں 48 گھنٹوں سے زیادہ تاخیر کی۔ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں فوجیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر حملہ شروع کرنے کی وجوہات پر گفتگو کی، تاہم ان کی گفتگو میں جنگ کا جو مقصد بیان کیا گیا وہ اس بیان سے مختلف تھا جو انہوں نے جنگ کے آغازپر سوشل میڈیا پیغام کی صورت میں جاری کیا تھا جس میں ایران میں رجیم چینج کو حملے کا ہدف بتایا گیا تھا۔ اس سے پہلے کے دو دنوں میں ٹرمپ نے دو پہلے سے ریکارڈ شدہ بیانات جاری کیے، جو ان کے میڈیا ادارے کی ملکیت سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ پر نشر کیے گئے۔ اس ابلاغی حکمتِ عملی کے باعث ٹرمپ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ انہوں نے جنگ کی منطق اور مقاصد کو خاطر خواہ انداز میں واضح نہیں کیا، حتیٰ کہ امریکی فوج کو ابتدائی جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ امریکی میڈیا کی سروے رپورٹوں کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت ایران پر حملے کی مخالف ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے بیشتر ارکان ایران کے خلاف جنگ کوبلاجواز مہم جوئی قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کو مطمئن کرنے میں بھی ناکام ہے۔ امریکی وزیر دفاع اور چیف آف اسٹاف نے دوسرے دن جنگ کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ایران سے امریکا کی سلامتی کو خطرہ تھا جس کے باعث امریکی صدر کو یہ اقدام کرنا پڑا جبکہ چند گھنٹے بعد خود امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ ایران سے امریکا کو کوئی براہ راست خطرہ موجود نہیں تھا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر کسی ملک پر حملہ کرنے کی صرف اس صورت میں اجازت ہوتی ہے جب ملک کی سلامتی کو کوئی فوری اور براہ راست خطرہ درپیش ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب خود امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے جواز پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس خود سری کی قیمت اگلے وسط مدتی انتخابات میں ہزیمت کی صورت میں ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جنگ نیتن یاہو کی خواہش پر چھیڑی ہے اور نیتن یا ہو اس کے ذریعے اپنی سیاست کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جو حالیہ سروے رپورٹوں کے مطابق اگلے الیکشن میں دفن ہونے والی ہے۔

امریکا میں بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکا کے غیر متوازن ذھنی افتاد رکھنے والے صہیونیت نواز صدر ٹرمپ نے ایسپسٹین فائلز کے شرم ناک انکشافات سے توجہ ہٹانے اور ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے کر دیگر ممالک کو اقتصادی بلیک میل کرنے کی مضحکہ خیز پالیسی کی ناکامی چھپانے کی خاطر نیتن یاہو کے ساتھ مل کر یہ ایڈونچر کیا ہے اور بظاہر یہ مہم جوئی اب ان کے گلے پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ جنگ کے ابتدائی تین دنوں کے نتائج ٹرمپ اور نیتن یاہو کی شیطانی جوڑی کے حسب منشا نہیں آئے،ایران نے اپنی اعلیٰ ترین قیادت کے کام آجانے کے باوجود جھکنے سے انکار کردیا ہے اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ خوش فہمی ہوا ہوگئی ہے کہ سیاسی قیادت کے راستے سے ہٹ جانے کے بعد ایران میں رجیم چینج کا مشن پایہ تکمیل سے پہنچے گا۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایران کے زوردار جوابی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے اڈے چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ ایران میں رجیم چینج کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ عسکری ماہرین کے مطابق ایران کے پاس بلیسٹک میزائلوں کا اتنا ذخیرہ موجود ہے کہ وہ جنگ کو مہینوں تک نہیں تو کئی ہفتوں تک طول دے سکتا ہے اوریہی امریکا اور اسرائیل کی اصل پریشانی ہے۔ ادھر مشرق وسطیٰ میں امریکا کے حلیف عرب ریاستوں کے لیے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے چھیڑی گئی یہ جنگ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے، یہ ریاستیں بھی شاید اس جنگ کا بوجھ زیادہ دیر تک اٹھانے کی متحمل نہیں ہوں گی۔ تیسری جانب جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں روس اور چین جیسی طاقتیں بھی اپنی تزویراتی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آسکتی ہیں اور امریکا کو دلدل میں پھنسانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ اگرچہ امریکی وزیر جنگ ہیگستھ نے اپنی پریس بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران کی جنگ عراق کی طرح لمبی نہیں ہوگی تاہم ان کی بدن بولی سے جھنجھلاہٹ اور پریشانی واضح تھی۔ انہوں نے متعد د سوالات کا جواب نہیں دیا اور جنگ کی ضروری تفصیلات اور اہداف جاننے کے خواہش مند صحافیوں کو ”احمق” قرار دیا اور کہا کہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مقررہ مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے بعض صحافیوں پر ذاتی حملے بھی کیے۔ ماضی کی پینٹاگون بریفنگز کے برعکس، اس بار صحافیوں کو مخصوص نشستیں دی گئیں اور ٹرمپ کے حامی اداروں کے نمایندوں کو اگلی قطار میں بٹھایا گیا۔ عالمی میڈیا کے نمایندوں نے اس پر احتجاج کیا اور اسے فسطائیت سے تعبیر کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ حالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ صہیونی لابی کے ہاتھوں بری طرح ٹریپ ہوچکی ہے اور اس کے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔ اس بات کا خدشہ البتہ موجود ہے کہ ایرانی مزاحمت سے بوکھلاہٹ کے شکار امریکی صدر ٹرمپ ایران پر مزید سفاکانہ حملے کروا سکتے ہیں۔ لیکن کیا اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے مقاصد حاصل ہوجائیں گے؟ تاریخ کی روشنی میں جواب نفی میں ہے۔