شاہ ولی اللہ اور علم حدیث

محدثین کرام حدیث میں تین باتیں شامل کرتے ہیں، پوری تعریف یہی ہے ”قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او فعلہ او تقریرہ”۔ لیکن ایک بات اور بھی محدثین نے شامل کی ہے جو عام طور پر ہم ذکر نہیں کرتے۔ کسی صحابی کا قول حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد جو غیر قیاسی ہو، وہ مرفوع حدیث پر محمول ہوتا ہے۔ صحابی نے بات کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد کی ہے، قیاسی نہیں ہے، یعنی اس کا تعلق وحی سے ہے۔ مثلاً کوئی قبر کی بات کرتا ہے، قیامت کی بات کرتا ہے۔ تو صحابی کا وہ قول جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے اور قیاسی نہیں ہے، قیاسی ہو گا تو کسی رائے پر محمول ہو گا۔ غیر قیاسی کو بھی محدثین کس پر محمول کرتے ہیں؟ مرفوع حدیث پہ۔ کوئی صحابی خود غلط بات تو کر نہیں سکتا، یہ تو طے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنی ہے۔ تو حدیث کی تعریف تقریباً محدثین نے یہی کی ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تعریف کے طور پر اسے ہی نقل کرتے ہیںلیکن ایک بات شاہ صاحب کچھ آگے بڑھ کے کہتے ہیں۔

ہمارے ہاں دلائل کی ترتیب میں قرآن پاک، حدیث و سنت، اجماع اور قیاس کے بعد استحسان بھی ہے۔ مالکیہ کے ہاں تعاملِ اہلِ مدینہ ہے لیکن شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث کا ایک اور تعارف بھی ہے، وہ یہ کہ تمام علوم کا ماخذ یہ ہے۔ فرماتے ہیں ”ان عمدة العلوم الیقینیہ راسھا و مبنی الفنون الدینیہ واساسھا ھو علم الحدیث النبوی الشریف”۔ جتنے بھی علومِ یقینی ہیں، یعنی وحی کے علوم اور علومِ دینیہ، دینی علوم کے جو دائرے ہیں، ان کی بنا حدیث پر ہے۔ یہاں شاہ صاحب حدیث بطور ماخذ کے پیش کرتے ہیں۔ اْس تقسیم میں حدیث ایک قسم ہے، چار قسموں میں سے دوسرے نمبر کی دلیل ہے۔ لیکن یہاں شاہ صاحب حدیث کو بطور ماخذ کے پیش کرتے ہیں کہ سب کا ماخذ حدیث ہی ہے۔

مثال کے طور پر قرآن پاک کا ماخذ حدیث ہے۔ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہمیں حدیث سے ملے ہیں، ترتیب بھی حدیث سے ملی ہے، اس کی تفسیر بھی حدیث سے ملی ہے۔ مثلاً قرآن پاک کی پہلی پانچ آیات ہیں، اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرا وربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ پانچ آیتیں ہمیں غارِ حرا سے ملی ہیں۔ غارِ حرا کا واقعہ ہے تو آیتیں بھی ہیں اور اگر غارِ حرا کا واقعہ نہیں ہے تو آیتیں کہاں سے آئیں گی؟ غارِ حرا کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، صحابہ نے روایت کر دیا، یہ حدیث ہے۔ حدیث ہے تو واقعہ بھی ہے، حدیث نہیں تو واقعہ کدھر سے آئے گا؟ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ غارِ حرا ایک افسانوی قصہ ہے، میں نے کہا پھر قرآن ہی افسانوی قصہ ہے۔ کسی دانشور نے پچھلے دنوں پھلجھڑی چھوڑی ہے کہ غارِ حرا افسانوی بات ہے۔ میں نے کہا پھر قرآن سارا افسانوی ہے، قرآن بھی نعوذ باللہ افسانہ ہے۔

لیکن یہ بات کہ یہ پانچ آیتیں ہمیں کہاں سے ملی ہیں؟ غارِ حرا سے۔ اور غارِ حرا کا واقعہ کہاں سے ملا ہے؟ روایت سے۔ روایت ہے تو واقعہ ہے، روایت نہیں ہے تو واقعہ نہیں ہے۔ واقعہ ہے تو یہ آیتیں ہیں، واقعہ نہیں تو یہ آیتیں بھی نہیں ہیں۔ یہ میں نے مثال دی ہے۔ جبکہ عمومی بات یہ ہے کہ قرآن پاک کا کوئی ایک لفظ، کوئی ایک جملہ، کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جو ”رسول اللہ نے فرمایا ہے” کے بغیر قرآن پاک میں درج ہوئی ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ یہ وحی نازل ہوئی ہے، تب وہ درج ہوا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ کوئی لفظ ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے” کے بغیر درج ہو گیا ہے تو کیا قرآن کا لفظ ہے وہ؟ آج ہی بخاری کے سبق میں یہ بات آ گئی کہ حضرت زید نے قرآن پاک جمع کہاں سے کیا ہے؟ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت صدیق اکبر نے حکم دیا قرآن پاک مرتب کرو۔ ”فتتبعت القرآن اجمعہ من العسب واللخاف، وصدور الرجال” (صحیح بخاری) کہتے ہیں میں نے قرآن پاک کا تتبع کیا، کچھ لوگوں کے سینوں سے ملیں، کوئی پتوں پر لکھی ہوئی ملیں۔ ایک صحابی یہ کہے کہ ”میں نے آیت سنی تھی، یہ پتے پہ لکھ لی ہے” یہ کیا ہے؟ حدیث۔ صحابی یہ کہتا ہے میں نے یہ آیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنی ہے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا فلاں سورت میں درج کر لو، یہ کیا ہے؟ حدیث۔ قرآن پاک کا کوئی ایک لفظ بھی ہے جو ”رسول اللہ نے فرمایا ہے” کے بغیر قرآن میں آگیا ہو؟ اور اگر خدانخواستہ کوئی لفظ ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے” کے بغیر آگیا ہے، کیا وہ قرآن کا لفظ ہے؟ اس لیے قرآن پاک کے الفاظ، ترتیب، جمع، ان سب کا بنیادی ماخذ کیا ہے؟ حدیث۔

اسی طرح قرآن پاک کا بیان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے جہاں یہ کہا ”اقرا”، ”لتقراہ علی الناس” (بنی اسرائیل )، ”فاقرئو وا ما تیسر منہ” (المزمل) پڑھ کر سنائیں ان کو۔ وہاں بیان کی ذمہ داری بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہ ہی ہے۔ ”لتبین للناس ما نزل الیھم” (النحل ) قرآن پاک کی قراء ت، الفاظ، ترتیب، یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے، اور بیان کس سے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ڈیوٹی میں ”اقرا” بھی ہے، ”لتقراہ علی الناس” بھی ہے، ”لتبین للناس ما نزل الیھم” بھی ہے۔ قرآن پاک کی اس آیت کا جو مطلب ہے، وہ اللہ پاک کی طرف سے کون بیان کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کیا گیا کہ آپ ساتھ ساتھ نہ پڑھیں، ”لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ” (القیامہ) جبریل علیہ السلام آپ کو وحی سناتے ہیں، آپ ساتھ ساتھ نہ پڑھیں۔ آپ کیوں پڑھتے ہیں، کہ بھول نہ جائے۔ ”نہ پڑھیں” کیوں؟ کہ قرآن پاک کے آداب میں سے ہے ”واذا قرء القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا” (الاعراف) استماع کا تعلق کان سے ہے، انصات کا تعلق کس سے ہے؟ زبان سے۔ کان متوجہ، زبان بند۔ آپ پڑھتے کیوں ہیں؟ ”لا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضیٰ الیک وحیہ” (طہ ) وحی پوری سننے سے پہلے جلدی نہ کریں۔ آپ کے ذہن میں ہو گا، بھول جاؤں گا۔ نہیں۔ تین باتیں اللہ پاک نے اپنے ذمے لی ہیں۔ ”ان علینا جمعہ وقراٰنہ۔ فاذا قرانٰہ فاتبع قراٰنہ۔ ثم ان علینا بیانہ۔ ” (القیامہ) سینے پہ محفوظ کرنا ہمارا کام ہے، زبان سے پورا پڑھوانا ہمارا کام ہے، اس کا مطلب مفہوم دل میں ڈالنا ہمارا کام ہے۔ تین باتوں کی قرآن پاک نے گارنٹی دی ہے ”ان علینا جمعہ و قراٰنہ”۔ آپ کے سینے میں محفوظ کرنا ہمارا کام ہے۔ اور صحیح آپ کی قراء ت کروانا، یہ ہمارے ذمے ہے۔ ”ثم ان علینا بیانہ”، ”لتبین للناس”۔ جو آپ نے مطلب بیان کرنا ہے، وہ ہم ڈالیں گے آپ کے دل میں۔

تو یہ بیان، اس کا ماخذ بھی کیا ہے؟ کسی آیت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشریح فرمائی ہے، یہ کہاں سے ملے گا؟ یا تشریح نہیں فرمائی، اس پر عمل کیا ہے۔ بسا اوقات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کچھ نہیں، عمل کیا ہے۔ یا تو بیان فرمائیں کہ یہ مطلب ہے اس کا۔ بیان نہیں کیا، عمل کیا ہے۔ یہ عمل دلیل ہے کہ اس کا معنی یہ ہے۔ مثال کے طور پہ۔ بہت سی باتیں ہیں، ایک بات عرض کر دیتا ہوں۔ حجة الوادع کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لے گئے، جاتے ہوئے بھی نماز قصر کر رہے ہیں، واپسی پر بھی قصر کر رہے ہیں۔ قرآن پاک میں جہاں قصر کا ذکر ہے نا، ”فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوٰة ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا” (النسائ) قرآن پاک میں قصر کا ذکر ہے تو وہاں شرط ہے ”ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا”۔ یہ قصر حالتِ خوف میں ہے، حالتِ جنگ میں ہے۔ حالتِ امن میں نہیں ہے۔ اب حجة الوادع میں کون سا خوف تھا؟ نہ آتے، نہ جاتے، پورا جزیرة العرب کنٹرول میں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قصر کرتے جا رہے ہیں، قصر کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں۔ حضرت عمر کا ذہن واپسی پر اچانک اس طرف ذہن چلا گیا۔ مفسرین کرام نے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ قرآن پاک تو ”ان خفتم” کی شرط لگاتا ہے جبکہ ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔ قصر کرتے جا رہے ہیں، قصر کرتے آ رہے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ ذہن میں بات آئی، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ فرمایا، کیا ہوا؟ ہم قصر کر رہے ہیں؟ ہاں کر رہے ہیں۔ قرآن پاک نے تو ”ان خفتم” کی شرط لگائی ہے، ہمیں تو کوئی خوف نہیں ہے، یہ قصر کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا دلچسپ جملہ فرمایا: ”اللہ کا صدقہ واپس کیوں کرتے ہو؟” اس کا ترجمہ میں اپنی زبان میں کیا کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے کہا خوف میں قصر کرو، ہم قصر کر رہے ہیں امن میں، بولنا کسے چاہیے، اعتراض کس کو ہونا چاہیے؟ وہ بولا ہے؟ تو کہا، اللہ کا صدقہ ہے۔ بس اتنا ہی کہا۔ حضرت عمر چپ کر کے واپس چلے گئے۔ اور یہ قصر نماز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عمل سے ہے۔ (جاری ہے)