اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کو اپنے قدموں میں جھکانے اور وہاں قیادت کی تبدیلی کے لیے شروع کی گئی جنگ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔امریکی و اسرائیلی جہازوں سے ایران پرشدید فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب اعلیٰ ترین قیادت کے کام آ جانے کے باوجود ایران کی جانب سے زبردست مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ گویا تمام خطہ اس وقت جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ ایرانی میزائل دہشت گردی کے عالمی مرکز اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں سمیت بعض عرب ریاستوں میں قائم امریکی اڈوںپر برس رہے ہیں۔ عالمی برادری، انصاف پر یقین رکھنے والی اقوام اور امریکا کی عالمی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے دعوے دار ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور امریکا اور اسرائیل سے پوچھا جائے کہ مذاکرات اور بات چیت کے لیے سازگار ماحول کے باوجود ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ نے طاقت کے بے دریغ استعمال سے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ عالمی قوانین، انصاف کے معیارات، سفارتی آداب اور اخلاقی اصولوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، وہ عقل ومنطق کی بجائے صرف طاقت کے استعمال ہی کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں یہ قطعی ضروری نہیں کہ کسی ریاست یا اس کے رہنماؤں اور عوام سے امریکی اور دہشت گردی کے عالمی مرکز اسرائیل کے مفادات کو حقیقی خطرات یا تحفظات ہی لاحق ہوں! دراصل اسرائیل اور امریکا توسیع پسندانہ عزائم اور وسائل پر قابض ہونے والے جارح مزاج عناصر کا اتحاد ہیں اور یہی حرص، لالچ، غرور، حسد اور فساد ان کی کل دانش کا منبع ہے جس کے تحت وہ خود کو طاقت کے استعمال میں آزاد سمجھتے ہیں جبکہ عالمی سفارتی اصول اور قوانین کمزوروں پر طاقت وروں کی اجارہ داری کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔
ایران پر حملے کے بعد اب صہیونی لابی کی وجہ سے عالمی نشریاتی حلقوں میں ترکیہ اور پاکستان کے ناموں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ان حالات میں ایک ریاست کے طورپر اپنی آزادی اور سا لمیت کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی زیر سربراہی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جس میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سمیت سیاسی و عسکری قائدین شریک ہوئے، ملک کو درپیش تازہ ترین صورت حال اور متوقع خطرات کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔ پاکستان کی قیادت نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ اس کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوں گے جیسا کہ افغانستان کی طالبان رجیم کے خلاف افواجِ پاکستان کے عملی اقدام سے اس کی مثال قائم ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان پر طالبان کے حملوں کے جواب میں افواج پاکستان کا جواب دنیا کے لیے غیر متوقع تھا۔ شاید ہی کسی نے یہ سوچا ہوکہ پاکستان طالبان کی عسکری طاقت کو اس قدر تیزی سے بکھیر کر رکھ دے گا۔ نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ بگرام سمیت کوئی ایک بھی ہوائی اڈہ یا کوئی بڑا دفاعی مرکز پاکستان کے حملوں سے بچ نہیں سکا۔ بگرام ہوائی اڈے کو تباہ کر کے طالبان رہنماؤں کے اس پروپیگنڈے سے بھی ہوا نکال دی گئی کہ پاکستان کا اقدام کسی بیرونی خواہش کا نتیجہ ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ افغان طالبان یکایک پاکستان پر کیوں ٹوٹ پڑے تھے؟ انھیں ان دہشت گرد تنظیموں کا بھرپور ساتھ میسر تھا جو پاکستان کی سلامتی کی دشمن اور اکھنڈ بھارت کے منصوبے میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ مسلمانوں کے قتل کو درست اورکفار و مشرکین کے ہاتھ مضبوط کرنے والے ان خوارج نے اپنے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دی۔ پاکستان نے اپنے عوام کے تحفظ کی خاطر ان دہشت گرد گروہوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا جو موجودہ عالمی حالات میں بالکل صائب نظر آ رہا ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا احمقانہ اقدام کسی جنون کا نتیجہ نہ ہو تو اس کا منطقی سبب یہی ہو سکتا ہے کہ طالبان نے کسی بیرونی اشارے، اعانت کے وعدے اور خفیہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان پر یلغار کی تاہم یہ کوشش خود انہی پر الٹ گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو نہ صرف اس کھیل کی خبر تھی بلکہ افواج پاکستان نے جوابی حکمتِ عملی بھی نہایت پیشہ ورانہ انداز میں مرتب کر رکھی تھی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے خیال میں افغان طالبان کی بساط الٹنے کے لیے پاکستان کو اپنی دفاعی قوت کا دو فیصد بھی استعمال نہیں کرنا پڑا۔ موجودہ عالمی صورت حال میں جب کہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور اسی کے زیرِ اثر جغرافیائی حدود اور علاقائی سیاست میں بھی رد و بدل کے امکانات نمایاں ہو چکے ہیں، پاکستان کا عمل دفاعی قوت، عسکری طاقت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا عکاس ہے اور مسلم امہ کو اس مہارت سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے صرف عسکری قوت ہی سے کام نہیں لیا بلکہ سفارت کاری، دنیا کے ساتھ روابط اور مسلسل بات چیت کے ذریعے اپنا موقف بھی واضح کیا کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو کسی بھی علاقائی ملک کو امن، سلامتی اور استحکام کی حالت میں نہیں رہنے دے گا اور اس ناسور کی افزائش طالبان کی قیادت کر رہی ہے لہٰذا اسے اپنی اصلاح کرنا ہوگی بصورتِ دیگرآپریشن ناگزیر ہوگا۔
ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جارحیت پاکستان کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ جنگ اور مزاحمت کے آغاز ہی میں قیادت کی قربانی ایران کے لیے شدید دھچکا ہے تاہم امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایرانی مزاحمت میں مزید شدت پیدا ہو چکی ہے۔ ایران کے عوام ثابت قدم رہے تو امریکا اور اسرائیل زیادہ دیر تک اس جنگ کو شاید جاری نہ رکھ پائیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس لمحے روس اور چین کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ اسلامیانِ پاکستان کو بھی اس وقت تدبر اور ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ پاکستان بہرصورت حالتِ جنگ میں ہے۔ بھارتی پراکسی کا کردار ادا کرنے والے افغان طالبان کا بڑی حد تک تدارک ہو چکا لیکن قیادت کی تبدیلی کے نام پر ایران کی طرف سے پیش قدمی کرنے والے اسرائیل اور بھارت کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستیں مل کر ایک مضبوط دفاعی بلاک قائم کریں تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر عالمِ اسلام کو گھیرے میں لینے کی سازشیں ناکام ہو جائیں۔ جنگ کا دائرہ جوں جوں وسیع ہو رہا ہے، عالم اسلام کے اتحاد کی ضرورت اسی قدر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

