مدارس کے نظام کو کمزور نہ ہونے دیا جائے!

پاکستان بھر میں الحمدللہ ہزاروں دینی مدارس دہائیوں سے خاموشی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم و اشاعت میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ وہ ادارے ہیں جہاں نہ سرمایہ دارانہ چمک دمک ہے، نہ جدید تعلیمی کیمپسوں جیسی آسائشیں، مگر ان کے در و دیوار سے وہ چراغ روشن ہوتے ہیں جن کی روشنی نسلوں تک پھیلتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہی مدارس پوری دنیا میں پاکستان کی شناخت بھی ہیں۔ ایسے وقت جب ملکی نظام تعلیم مکمل تباہی سے دوچار ہے اور تعلیمی اداروں کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا، یہ پاکستان کے دینی مدارس ہیں، جہاں دنیا بھر سے طالب علم قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، جو پاکستان کے دینی مدارس کے اعلیٰ معیارِ تعلیم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

افسوس کہ آج انہی مدارس کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی انہیں معاشرے پر بوجھ قرار دیا جاتا ہے، کبھی فرسودہ نظام کا نمائندہ کہا جاتا ہے اور کبھی ان کی خدمات کو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو تحقیر اور تقصیر کی ایسی فضا پیدا کی جاتی ہے گویا یہ ادارے کسی مثبت کردار سے یکسر محروم اور سراپا شر ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آج دنیا میں دینِ اسلام کی تعلیمات اپنی اصل، خالص اور مستند صورت میں محفوظ ہیں، اگر قرآن مجید اسی ترتیب، اسی لہجے اور اسی سند کے ساتھ پڑھایا جا رہا ہے، اگر احادیثِ نبویہ اپنی اسنادی شان کے ساتھ موجود ہیں، تو ظاہری اسباب کے درجے میں اس کا سہرا انہی مدارس اور ان کے بوریا نشین علماء و طلبہ کے سر جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شہرت کے بغیر خدمت کو اختیار کیا، وسائل کے بغیر اپنا نظام بہت ہی سادہ طریقے سے چلایا اور مخالفتوں کے باوجود اپنے مشن کو ترک نہ کیا۔ ان کے شب و روز کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی الحمدللہ مساجد آباد ہیں، جمعے کے خطبات قائم ہیں، نکاح و طلاق کے مسائل حل ہوتے ہیں اور عام مسلمان کو دین کے بنیادی احکام کی رہنمائی ملتی ہے۔ اگر یہ طبقہ نہ ہو تو ہمارا معاشرہ محض نام کا مسلمان رہ جائے۔

برصغیر کے عظیم مفکر شاعر علامہ محمد اقبال نے اسپین کا حال دیکھ کر جو درد بھرا پیغام دیا تھا، وہ آج بھی ہمارے لیے تنبیہ کا درجہ رکھتا ہے۔آپ نے کہا تھا کہ ”ان مدارس کو ان کی حالت پر رہنے دو۔ اگر یہ مدارس اور ان کی ٹوٹی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر علم حاصل کرنے والے درویش نہ رہے تو یاد رکھنا تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو اندلس اور غرناطہ میں مسلمانوں کا ہوا۔” علامہ اقبال کا یہ فرمان محض شاعرانہ مبالغہ نہ تھا، بلکہ تاریخ اور زمانے کے مشاہدے پر مبنی ایک فکری انتباہ تھا۔ جب قومیں اپنے علمی مراکز سے بے اعتنائی برتتی ہیں، تو ان کی تہذیبی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ مسلم اندلس کی سرزمین کبھی علم و حکمت کا گہوارہ تھی، مگر جب وہاں کے علمی مراکز کمزور ہوئے، جب دینی روح ماند پڑی اور جب نئی نسل کا تعلق اپنے مصادرِ علم سے ٹوٹا، تو سیاسی زوال بھی ناگزیر ہو گیا۔ پھر آسمان نے دیکھا کہ کیسے اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ آج اگر ہم نے مدارس کے نظام کو کمزور کرنے، انہیں نظر انداز کرنے یا ان سے بے رخی اختیار کرنے کی روش اختیار کرلی تو درحقیقت ہم اپنی ہی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیں گے اور اس کا نقصان آج نہیں، تو کل ہماری نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ خدانخواستہ ہمارے عدم تعاون، بے رخی اور بداعتمادی کی پالیسی کے باعث مدارس مالی یا سماجی طور پر کمزور پڑ گئے، تو اس کا نقصان محض چند اداروں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا۔ دینی رہنمائی کا خلا پیدا ہوگا، مذہبی شعور سطحی ہوتا جائے گا اور آنے والی نسلیں اپنی دینی شناخت سے دور ہوتی چلی جائیں گی۔ ایسا نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا اور عنداللہ ہم سب اس کیلئے جواب دہ ہوں گے کہ جب دین کے قلعے کمزور ہو رہے تھے تو ہم نے کیا کردار ادا کیا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تنقید کی بجائے اصلاح کا راستہ اختیار کریں، بے اعتنائی کی بجائے تعاون کی فضا قائم کریں اور بدگمانی کی بجائے اعتماد کو فروغ دیں۔ مدارس بھی یقیناً نظم و نسق، شفافیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے میدان میں بہتری لا سکتے ہیں، مگر یہ بہتری باہمی احترام اور خیرخواہی کے ماحول میں ہی ممکن ہے، تحقیر اور طعن و تشنیع سے نہیں۔

ہمیں یہ احساس تازہ کرنا ہوگا کہ اہلِ علم کا احترام دراصل علم کا احترام ہے اور علم کا احترام دین کی بقا کی ضمانت ہے۔ جو قوم اپنے علماء کی قدر کرتی ہے وہ فکری طور پر زندہ رہتی ہے اور جو ان سے بے زاری اختیار کرتی ہے وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ مدارس ہماری تہذیبی شناخت، دینی روایت اور روحانی تسلسل کا اہم ستون ہیں۔ ان کی حفاظت، تقویت اور اعانت دراصل اپنے ایمان اور اپنی آئندہ نسلوں کی حفاظت ہے۔ رمضان المبارک میں بطور خاص دینی مدارس کے ساتھ تعاون کی کوشش کریں۔ ملک بھر سے اس ماہ مقدس میں مدارس کے سفرا چندوں کیلئے شہروں کا رخ کرتے ہیں، ان کی تحقیر اور تذلیل کی بجائے تصدیق کے بعد ان سے تعاون کریں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں عزت دیں۔ یقینا یہ وہ لوگ ہیں جو دین کی نسبت سے ہمارے پاس آتے ہیں، ایسے میں دین کی نسبت کی لاج رکھنا ہمارا فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی ہر قسم خدمت کیلئے قبول فرمائے، آمین۔