واشنگٹن:امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی قیادت ممکنہ جنگ کے واضح اشاروں کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) نے ایرانی قیادت کے اجتماع کا سراغ لگایا جس کے بعداسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے امریکی اور اپنی انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس آپریشن کو عملی جامہ پہنایاجس کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق رات کی تاریکی میں حملہ کرنا تھا لیکن تہران میں حکومتی کمپاؤنڈ میں ہونے والے اجلاس کی اطلاع ملنے کے بعد ہفتے کی صبح حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران پر حملے سے کچھ دیر قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ممکنہ طور پر سب سے اہم ہدف خامنہ ای کی درست نشاندہی کر لی تھی۔آپریشن سے واقف ذرائع کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر نظر رکھے ہوئے تھی اور وقت کے ساتھ اس کی معلومات زیادہ مستند ہوتی گئیں۔
پھر ایجنسی کو اطلاع ملی کہ ہفتے کی صبح تہران کے وسط میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ ایرانی حکام کا اہم اجلاس ہونے والا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سپریم لیڈر بھی اس میں شریک ہوں گے۔اس نئی خفیہ اطلاع کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اپنے مجوزہ حملے کے وقت میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس اطلاع نے دونوں ممالک کو موقع فراہم کیا۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی ہم آہنگی اور انٹیلی جنس شیئرنگ موجود تھی۔دریں اثنائامریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے کمپائونڈ کو عین نشانے پر لگنے والے ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق جدیدترین اوراعلیٰ درستی والے اس ہتھیارکی قیمت تقریباً 10 ملین ڈالر تھی،ایرانی سپریم لیڈرپر حملے میں مہنگے ہتھیاروں کے ساتھ کامی کازی ڈرون بھی استعمال ہوئے،امریکا نے پہلی بار کامی کازی ڈرونز کو میدان جنگ میں استعمال کیا،اس کو ایرانی دفاعی نظام کو دھوکا دینے کے لیے استعمال کیاگیا۔
ادھرامریکی سینٹ کام نے ایران پر حملوں کی ویڈیو جاری کردی۔ امریکی سینٹ کام کی جانب سے 33 سیکنڈز کی ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں امریکی فوج کی جانب سے ایران میں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ روز کیے گئے مشترکہ حملوں میں اب تک ایرانی سپریم لیڈرخامنہ ای اور سپریم لیڈرکے مشیر اعلیٰ علی شامخانی کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں ایک لڑکیوں کے اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں طالبات سمیت 160 سے زائد افراد کی شہادت ہوچکی ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

