ملک کے طول و عرض میں وفاق المدارس العربیہ کے تحت جاری سالانہ امتحانات کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے جبکہ مدارس میں اب تعطیلات ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امتحانات کے بعد مدارسِ دینیہ کے طلبہ کے لیے یہ مرحلہ محض وقتی فراغت یا تفریح کا نہیں بلکہ اپنی ذات کی تعمیر اور علم کی پختگی کا نہایت اہم دور ہوتا ہے۔ امتحانات کے بعد مدارسِ دینیہ کے طلبہ کے لیے یہ مرحلہ محض وقتی فراغت یا تفریح کا نہیں بلکہ اپنی ذات کی تعمیر اور علم کی پختگی کا نہایت اہم دور ہوتا ہے۔ درسِ نظامی، حفظِ قرآن اور علمِ تجوید سے وابستہ تمام طلبہ اگر اس عرصے میں اپنے وقت کو نظم و ضبط کے ساتھ گزاریں تو یہ تعطیلات اُن کے تعلیمی سفر میں سنگِ میل بن سکتی ہیں۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ طالب علم قرآنِ کریم سے روزانہ کا تعلق قائم رکھے؛ تلاوت، دہرائی اور اصلاحِ قرات کو معمول بنایا جائے، کیونکہ قرآن سے جڑا ہوا وقت کبھی ضائع نہیں جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ امتحان کے دوران سامنے آنے والی علمی کمزوریوں کی اصلاح، مشکل اسباق کی تکرار اور بنیادی علوم جیسے نحو، صرف، فقہ اور اُصول کی مشق آئندہ سال کی مضبوط تیاری کا ذریعہ بنتی ہے جبکہ حفظ کے طلبہ اپنے اسباق کو مضبوط کریں اور تجوید کے طلبہ مخارج و صفاتِ حروف کو عملی طور پر بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔ یہ دور اِصلاحی اور فکری مطالعے کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔ سیرتِ رسول اکرم، صحابہ کرامؓ، اسلاف و اکابر علماءکے واقعات اور اخلاق و تزکیہ نفس پر مبنی کتب کا مطالعہ طلبہ کے اندر عاجزی، اخلاص اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح مساجد اور محلوں میں بچوں کو ناظرہ، بنیادی دینی تعلیم اور دعائیں سکھانا، بڑوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھنا عملی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اساتذہ کی خدمت اور والدین کی اطاعت علم میں برکت اور کامیابی کی کنجی سمجھی جاتی ہے جبکہ وقت کی پابندی، زبان کی حفاظت اور اچھا اخلاق ایک دینی طالب علم کی پہچان ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں :
سوالیہ پرچے کا افشا، وفاق المدارس کا سخت ایکشن، دو نگران اعلیٰ اور کئی طلبہ نااہل
مزیدبرآں، موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کو اپنی تحریری اور ابلاغی صلاحیتوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ صاف اور موثر اُردو تحریر، عربی عبارت فہمی اور جدید ذرائع جیسے کمپیوٹر یا موبائل کا مثبت اور دینی استعمال، دعوت و تعلیم کے میدان میں اُن کے کام کو مزید موثر بناسکتا ہے۔ اگر امتحانات کے بعد کا یہ وقت خالص نیت، مسلسل محنت اور دعا کے ساتھ گزارا جائے تو یہی تعطیلات مستقبل کے ایک باعمل عالم، مضبوط حافظ اور خوش الحان قاری کی تیاری کا سبب بن سکتی ہیں جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے علم و ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔ (مولانا فاروق بشیر کاانتخاب)

