سوالیہ پرچے کا افشا، وفاق المدارس کا سخت ایکشن، دو نگران اعلیٰ اور کئی طلبہ نااہل

کراچی(اسلام نیوز)وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی امتحانی کمیٹی کا اہم اجلاس دارالعلوم کراچی میں ہوا جس میں سالانہ امتحان 2026 کے سوالیہ پرچے افشا کرنے والے افراد کے بارے میں درج ذیل فیصلے کئے گئے۔
ضلع چکوال کے دونوں مسئولین کتب۔بنین و بنات کو وفاق المدارس کی مسئولیت سے سبکدوش کر دیا گیا۔
حفیظ الرحمن عثمانی ولد عبد الرحمن ضلع چکوال کو مرکزی مجرم قرار دیتے ہوئے تمام اسناد وفاق منسوخ کی گئیں۔ جس ادارے میں مدرس ہے وہ اس کو فی الفور فارغ کرے گا اور وفاق سے ملحق کسی بھی مدرسہ میں اس کو مدرس نہیں رکھا جائے گا۔ سوالیہ پرچے کے افشا کی تحقیقات اور اسی طرح سوالیہ پر چوں کی طباعت پر جو اخراجات آئے ہیں وہ سب حفیظ الرحمن عثمانی سے وصول کیے جائیں گے۔
عدنان ولد اللہ داد ضلع چکوال کی بھی تمام اسناد وفاق منسوخ کی گئیں اور عالمیہ سال دوم کا موجودہ امتحان کالعدم کیا جائے گا۔ جس ادارہ سے اس کا عالمیہ سال دوم کا داخلہ کیا گیا اس ادارہ کا الحاق بھی کالعدم کیا جائے گا۔ اسے ہمیشہ کے لیے وفاق کے امتحان میں شرکت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا۔ بطور ایجنٹ اس نے سوالیہ پر چوں کے افشا سے جتنی رقم کمائی وہ وصول کی جائے گی۔
اسامہ اد ریس ولد محمد اد ریس ضلع چکوال کی بھی تمام اسناد وفاق منسوخ کی گئیں۔ اور عالمیہ سال دوم کا موجودہ امتحان کالعدم کیا جائے گا۔ بنات کے جس ادارہ سے اس کا عالمیہ سال دوم کا داخلہ کیا گیا اس ادارہ سے الحاق بھی کا لعدم کیاجائے گا۔ اسے ہمیشہ کے لیے وفاق کے امتحان میں شرکت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا۔

محمد اد ریس دلد امیرحسین ضلع چکوال کی تمام اسناد وفاق منسوخ کی گئیں۔ جس ادارہ میں یہ مدرس ہے وہ ادارہ اس کوفی الفور ملازمت سے فارغ کرے گا۔ وفاق سے ملحق کسی بھی ادارے میں اس کے تدریس کرنے پر پابندی ہوگی۔
محمد عادل سرخیلی، احمد سلطان ، اسامہ بن منظور حسین ، سعد الحق ، عبداللہ اور عبدالباسط کا نتیجہ کا عدم اور آئندہ تین سال کے لیے نا اہل قرار دیا گیا۔
محمد شفیق ، محمد اسامہ اعوان ، ضیا الرحمن ، محمد محسن ، عبد القدوس ، انعام دائود ، اسامہ رشید ، عنایت الرحمن ، محمد رضوان ، عبداللہ   سرفراز ،فہد،حنظلہ ، راحت لیاقت ، فتح اللہ ، عبداللہ جان ، ذاکر خان ، عطاء اللہ حقانی ، نعمان احمد، فضل الریحان، فرحان عباسی ، عبداللہ کا موجودہ امتحان کا نتیجہ کالعدم اور آئندہ ایک سال کے لیے نااہل قرار دیا گیا ۔

 محمد احمد ، حماد سعید بن محمد ، عرفان ولد محمد اسماعیل ، محمد بلال شاہ نواز ۔ ان چاروں طلبہ نے مسلم شریف کا پرچہ ہونے کے بعد دو پہر ایک بجے مسلم شریف کے سوالیہ پرچے اچھا کرٹک ٹاک بنا یا اور وفاق کی بدنامی کی ، ان کا موجودہ امتحان کا نتیجہ کا لعدم قرار دیا گیا
تلہ گنگ چکوال کے امتحانی مرکز کے نگران اعلیٰ کو سوالیہ پرچے کاتھیلا کھلا ہوا ملا جو کہ انہوں نے نظر انداز کیا اور کوئی اطلاع نہیں دی۔ اس کے نگران اعلیٰ کو وفاق کے امتحانات میں نگرانی کے لیے ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دیا گیا ۔
فیصل آباد کے ایک امتحانی مرکز کے نگران اعلیٰ نے مسلم شریف کے پرچے مکمل ہونے کے بعد دو پہر ایک بجے مسلم شریف کے بقیہ سوالیہ پرچے مسجد کے محراب میں رکھے ، ان سوالیہ پر چوں کا طلبہ نے ناک بنا کر مذاق اڑایا۔ اس مرکز کے مکمل نگران عملہ کو بھی ہمیشہ کے لیے وفاق کے امتحانات میں نگرانی کے لیے نااہل قرار دیا گیا ۔