باڑہ سیاسی اتحاد کے شرکا نے تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی، ہمدردی اور بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔باڑہ سیاسی اتحاد کے تیراہ کے معاملے پر ہونے والے اہم جرگہ سے قبائلی مشران نے اہم خطاب کیا۔
جرگے کے شرکا نے کھل کر امن کے حق میں آواز بلند کی جبکہ تیراہ متاثرین کے لیے مختص فنڈز میں صوبائی حکومت کی نااہلی اور کرپشن پر شدید تنقید کی۔ جرگہ مشران نے کہا کہ تیراہ متاثرین میں 4ارب روپے کی تقسیم میں کرپشن اور سیاسی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔
قومی جرگے کا ایجنڈا سابق چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی نے پیش کیا۔سابق چیئرمین باڑہ سیاسی اتحاد حاجی شیریں آفریدی ہم نے خوارج کے ساتھ دو مرتبہ جرگہ کیا، اس کے بعد جرگے کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور تیراہ کے مشران کو سونپ دی، مگر دونوں جرگے ناکام رہے۔
جرگہ مشران نے کہا کہ متاثرین تیراہ کے مسائل کسی ایک علاقے یا قبیلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ برداشت ہے، آبادی کے عارضی انخلا کے تمام مراحل اور بات چیت کے دوران صوبے کی اور بالخصوص ضلع خیبر کی سیاسی قیادت موجود تھی جن سے مشاورت کے بعد ہی آبادی کے عارضی انخلا کا فیصلہ کیا گیا۔
جرگہ مشران کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔ خوارج کی جانب سے تیراہ میں جاری فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر حملے اور کواڈ کاپٹر گرانے جیسے اقدامات کو فوری طور پر بند کیا جائے کیونکہ یہ عمل عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے، اور متاثرین سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری اور عملی طور پر تسلیم کر کے نافذ کیا جائے۔ متاثرین کے گاڑیوں کے واجب الادا بقایاجات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔
جرگہ مشران نے کہا کہ اگر ادائیگی نہ کی گئی تو ہم ان گاڑیوں کو جلوس کی شکل میں پشاور لے جائیں گے اور بھرپور احتجاج کریں گے۔ متاثرین تیراہ کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

