اسلام آباد:وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ 14 ماہ کی مدت میں وزارتِ خزانہ نے مارکیٹ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو واجب الادا 3654 ارب روپے کا ملکی قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا ہے، قرضہ کی قبل از وقت ادائیگی کے ذریعے عوامی مالیات کو مضبوط بنانے،مالی ساکھ کی بحالی، اورسٹیٹ بینک کے قرضوں میں نمایاں کمی میں مددملی۔
سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پرجاری بیان میں خرم شہزادنے کہاکہ دسمبر 2024 میں ایک ہزارارب روپے، جون 2025میں 1160ارب روپے، اگست 2025 میں 1160 ارب روپے، اکتوبر 2025 میں 200 ارب روپے، دسمبر 2025میں 494 ارب روپے اورجنوری 2026میں 300 ارب روپے کے قرضہ جات کی ادائیگی کی گئی۔
جاری مالی سال (جولائی تا جنوری) میں ہی 2150 ارب روپے سے زائد کا قرضہ قبل از وقت ادا کیا جا چکا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔قرض کا حجم تقریباً 5500 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 3,000 ارب روپے رہ گیا، وہ قرض جو 2029 میں واجب الادا ہونا تھا وہ کئی سال پہلے ادا کر دیا گیا۔
خرم شہزادنے کہاکہ قبل از وقت ادا کیے گئے مجموعی قرضہ میں سٹیٹ بینک کا تناسب 65 فیصد ، ٹریژری بلز30فیصد،اورپاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کاحصہ 5فیصدہے،قرضوں میں کمی کایہ رجحان مجموعی سرکاری قرض میں بھی واضح ہے جو جون 2025 میں 80.5 ٹریلین روپے سے زائد تھا اور نومبر 2025 تک کم ہو کر تقریباً 80 ٹریلین روپے رہ گیا۔
انہوں نے کہاکہ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کاحجم مالی سال 22 میں تقریباً 74 فیصد تھا جواب کم ہو کر تقریباً 70 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ نظم و ضبط پر مبنی قرضہ حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ مالی بنیادوں میں مجموعی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
مشیرخزانہ نے کہاکہ فی کس قرض کی سنسنی خیزی محض شور پیداکرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اوراس سے حقیقت کی درست عکاسی نہیں ہوتی۔ اگر یہی درست پیمانہ ہوتا تو دنیا کی کئی ترقی یافتہ معیشتیں محض فی کس زیادہ قرض کی وجہ سے مستقل بحران کا شکار ہوتیں۔
جاپان میں فی کس قرضہ کی شرح 95 ہزار ڈالر سے زائد،امریکا 80 ہزار تا ایک لاکھ ڈالر،اٹلی 70ہزارڈالر، کینیڈا 60 ہزار ڈالر، جرمنی 55 ہزار ڈالر،اور فرانس 50 ہزار ڈالر ہے۔
انہوں نے کہاکہ قرضہ کے بہترانتظام وانصرام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے ملکی قرض کی اوسط مدت 2.7 سال سے بڑھ کر 4 سال سے زائد ہو گئی۔ یہ ایک ہی سال میں ہونے والی سب سے بڑی بہتری ہے۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے مالی سال 25 میں 850 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوئی جبکہ جاری مالی سال کے دوران مزید 800 ارب روپے سے زائد بچت کی توقع ہے۔

