غزہ میں ایندھن،بجلی ناپید،ڈرون حملے میں3شہید

غزہ /قاہرہ/واشنگٹن:غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملوں میں تین فلسطینی شہید ہو گئے جن میں دو کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے شمالی غزہ میں مختلف مقامات پر کیے گئے۔

غزہ کے سول ڈیفنس ادارے کے مطابق ایک اسرائیلی ڈرون حملہ بیت لاہیا میں کمال عدوان اسپتال کے قریب کیا گیا جس کے نتیجے میں دو فلسطینی لڑکے جاں بحق ہو گئے۔ الشفا اسپتال نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 13اور 15سال تھیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں لڑکوں نے اس کے اہلکاروں کے لیے فوری خطرہ پیدا کیا تھا۔ایک الگ واقعے میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اسرائیلی کوآڈ کاپٹر ڈرون نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی جاں بحق اور متعدد شہری زخمی ہوگئے۔

اس واقعے میں جاں بحق شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 477فلسطینی اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، تاہم میڈیاپر پابندیوں کے باعث ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

ادھرامریکی حکومت نے اٹلی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں بانی رکن کے طور پر شامل ہو۔

علاوہ ازیںامریکی اعلیٰ سفارتی نمائندوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد و مشرقِ وسطیٰ کے مشیر جیرڈ کشنر سے ملاقات کی تاہم ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔امریکا چاہتا ہے کہ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ آگے بڑھے لیکن نیتن یاہو کو اندرونی دبائو کا سامنا ہے کہ وہ اس وقت تک اگلے مرحلے میں نہ جائیں جب تک حماس غزہ میں موجود آخری یرغمالی کی باقیات واپس نہ کرے۔

غزہ میں متوقع آئندہ ٹیکنوکریٹ حکومت کے سربراہ علی شعث نے جمعرات کو کہا تھا کہ رفح کراسنگ آئندہ ہفتے دونوں اطراف کے لیے کھول دی جائے گی۔

تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی اور کہا گیا کہ اس معاملے پر رواں ہفتے غور کیا جائے گا۔ اس وقت رفح کراسنگ کے غزہ والے حصے پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔ادھر ران گیولی کے خاندان جن کی لاش اب تک غزہ میں ہے نے حماس پر مزید دبائو ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

خاندان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اس ہفتے ڈیووس میں واضح طور پر کہا کہ حماس کو بخوبی معلوم ہے کہ ہمارا بیٹا کہاں رکھا گیا ہے۔ حماس عالمی برادری کو دھوکا دے رہی ہے اور ہمارے بیٹے کی باقیات واپس کرنے سے انکار کر رہی ہے جو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے ٹرمپ کے نئے بورڈ آف پیس اِن غزہ کے سربراہ اور بلغارین سفارتکار نکولے ملادینوف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور رفح بارڈر کراسنگ کو فوری طور پر کھولنے پر زور دیا۔

مصری وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد، بین الاقوامی مانیٹرنگ فورس کی تعیناتی، رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا پر تبادلہ خیال ہوا۔

مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے پر عملدرآمد غزہ کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے کلیدی نکتہ ہے۔ بیان میں زخمیوں اور مریضوں کے انخلا یا مسافروں کی آمدورفت کے لیے کراسنگ کھولنے کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

ادھر غزہ میں ایندھن اور بجلی کی شدید قلت کے باعث لوگ لکڑی، کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک جلانے پر مجبور ہیں تاکہ کھانا پکایا جا سکے اور سردی سے بچا جا سکے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں سے غزہ میں مرکزی بجلی کی فراہمی بند ہے اور جنریٹرز کے لیے ایندھن نایاب ہے۔

ہزاروں خاندان خیمہ بستیوں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ ہفتوں میں شدید سردی کے باعث کم از کم 9 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔