کراچی:سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 23 جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی۔
نجی نیوزچینل کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری ہے، آج مزید ایک لاش کی شناخت ڈی این اے کی مدد سی ہوئی ہے۔
انچارچ شناخت پروجیکٹ سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق شناخت ہوئی لاش عبدالحسیب نامی شخص کی ہے، اب تک 23 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے جس میں 16 لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی جس کے بعد تاحال جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی ہے۔
عامر حسن کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دو افراد کی باقیات ملی تھیں۔
ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا
دریں اثنا گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ دہلی کالونی عید گاہ گراؤنڈ میں ادا کردی گئی جس میں رشتے داروں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ نماز جنازہ میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، منعم ظفر، نجمی عالم سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
ایدھی حکام کے مطابق 4 میتوں میں 2 بہنیں اور ایک بھائی شامل ہیں۔ دہلی کالونی کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، متاثرہ خاندان کے خاتون سمیت 2 افراد کی شناخت ہونا باقی ہے، متاثرہ خاندان شاپنگ کے لیے گل پلازہ گیا تھا۔
شہری محمد شیث کی نماز جنازہ گارڈن کشتی والی مسجد میں ادا

سی طرح سانحہ گل پلازہ میں شہید محمد شیث کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ شہید محمد شیث کے والد نے پڑھائی جو کہ گارڈن کشتی والی مسجد میں ادا کی گئی۔ بعدازاں شیث کو گارڈن میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
تحقیقات کے لیے لاہور سے ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچ گئی
سانحہ گل پلازہ میں تحقیقات کے لیے لاہور سے ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچی جس نے مختلف مقامات کا جائزہ لیا۔ ٹیم میں لاہور سے آئے فارنزک ٹیم کا عملہ بھی موجود ہے جسے پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مختلف مقامات کا معائنہ کرایا۔
اربن سرچنگ آپریشن ٹیم کی جانب سے مختلف مقامات پر مارکنگ کردی گئی۔ اربن سرچنگ ٹیم کے مطابق جہاں سرچنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے وہاں مارکنگ کی جا رہی ہے، گل پلازہ کے مختلف مقامات پر H کا نشان مارک کیا گیا ہے، H نشان کا مطلب خطرے کی نشاندہی، عمارت گرنے کا خدشہ ہے۔
گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری
ریسکیو 1122 اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تاحال متاثرہ عمارت کے ملبے میں موجود انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں۔

