سانحہ گل پلازہ، نامعلوم افراد کیخلاف درج مقدمہ سیل، تاجر برس پڑے

کراچی: سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔مقدمہ نبی بخش تھانے میں درج کیا گیاجس میںغفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیںجس میں بتایا گیا ہے کہ سانحے کے وقت عمارت میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔

ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322، 337 ایچ (ون)، 436 اور 427 دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔مقدمے کے مطابق عمارت کی لائٹس اور دروازے بند تھے جس کی وجہ سے آگ بھڑکنے کے بعد بڑی تعداد میں مالی اور جانی نقصان ہوا۔

ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات کے بعد باقاعدہ ذمہ داروں کے نام شامل کیے جائیں گے۔ایف آئی آر میں تاحال کسی ایک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے، ایف آئی آر کاٹنے کے بعد سیل کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب حکام کا بتانا ہے کہ سانحے میں جاں بحق71 افراد میں سے 20 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ۔حکام کے مطابق متاثرین کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور لاپتا افراد کی تازہ فہرست آویزاں کی گئی ہے۔

فہرست میں 82 لاپتا افراد کے نام شامل ہیں جن کی عمریں 11 سے 70 سال کے درمیان ہیں۔ فہرست میں نام، گھرکا پتا اور دکان نمبر درج ہیں۔ لاپتا افراد کی تصاویر اور شناختی کارڈ کی تصاویر بھی فہرست میں شامل ہیں۔

ادھر پولیس کو آگ کے شروعاتی مقام کی تلاش ہے، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے ایک بچے کے ہمراہ عمارت کے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔

تحقیقاتی ٹیم نے گل پلازہ میں پھولوں کی دکان کے مالک سے سوالات کیے، پھولوں کی دکان کے مالک کی مدد سے عمارت کے مختلف حصوں کو بھی چیک کیا گیا، دکان کے مالک کا آٹھ سے نو سال کا بیٹا بھی ہمراہ تھا، بچے کو بھی عمارت کے مختلف حصوں میں لے جایا گیا۔

دریں اثناء تباہ شدہ عمارت میں تلاش کا عمل تقریباً 90 فی صد مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کیلئے ٹیکنیکل و تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ کلا دورہ کیا ۔تحقیقاتی ٹیم نے ڈپٹی کمشنر جنوبی کے ہمراہ گل پلازہ کے گرائونڈ فلور کا جائزہ لیا اور گل پلازہ کی عمارت کے اندرونی حصوں کی صورت حال دیکھی، کمیٹی ارکان نے آتش زدگی کی نظر ہوئے سامان اور دکانوں کا بھی جائزہ لیا۔

کمانڈر ریسکیو 1122 حمیر واحد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ ساری رات سرچ آپریشن جاری رہا لیکن کوئی لاش نہیں ملی، عمارت کے گرنے والے مقام اور بیسمنٹ پر جانا تاحال مشکل ہے۔کمانڈر ریسکیو 1122 نے کہا کہ سرچ آپریشن مکمل کرنے کے حتمی وقت کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔

عمارت میں اب تک جہاں سرچنگ مکمل کرلی ہے وہاں لاشیں یا اعضا موجود نہیں، سرچنگ کے دوران ملنے والی رقم اور قیمتی اشیا کو انتظامیہ کے سپرد کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی کے تین اضلاع میں عمارتوں کا سروے شروع کردیا۔سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے شہر کے تین اضلاع میں عمارتوں کے سروے میں 90 فیصد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ضلع شرقی، وسطی اور جنوبی میں رہائشی و تجارتی عمارتوں کا فائر آڈٹ شروع کیاگیا اور ایس بی سی اے نے 300 سے زائد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے پر نوٹسز جاری کردیے۔نوٹسز میں عمارتوں میں تین روز کے دوران فائرسیفٹی انتظامات مکمل کرنے کا وقت دیاگیا ہے۔

ایس بی سی اے حکام کے مطابق چند عمارتوں میں فائرسیفٹی کے آلات ناکارہ حالت میں پائے گئے اور بیشتربلندعمارتوں میں ہنگامی اخراج موجود نہیں جبکہ چند عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے بند پائے گئے۔

ایس بی سی اے حکام نے بتایاکہ سروے میں ایس بی سی اے کی خصوصی ٹیم کے ہمراہ فائر بریگیڈ عملہ بھی موجود ہے، نوٹسز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ایس بی سی اے حکام کے مطابق تین روز میں فائر سیفٹی اقدامات نہ کرنے پر عمارتوں کو سیل کیا جائیگا۔

مالکان اور یونینز کو فائرسیفٹی اقدامات کے ساتھ فائر بریگیڈ کا این او سی بھی لینا ہوگا، عمارتوں کا سیل کیے جانے کا کام ضلعی انتظامیہ کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔

ادھر گل پلازہ یونین کے صدر تنویرپاستا کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سانحے میں دس سے پندرہ ارب کا نقصان ہوا ہے تاہم حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تنویر پاستا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے گل پلازہ میںامدادی کاموں سے مطمئن ہیں۔

سندھ حکومت نے چیمبر آف کامرس کو ضامن بنایا ہے، زبیر موتی والا، جاوید بلوانی، ادریس اور مجید ماکڑا متاثرین کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا بولٹن مارکیٹ کے واقعے میں بھی اسی طرز پر امداد تقسیم کی گئی تھی، جہاں حکومت کی جانب سے دی جانے والی رقم چیمبر کے ذریعے متاثرین تک پہنچی تھی۔

صدر گل پلازہ یونین نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو فارم فراہم کر دیے گئے ہیں، دکاندار فارم پْر کر کے چیمبر کو جمع کروائیں گے جس کے بعد امداد جلد تقسیم کر دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی رقم بھی چیمبر آف کامرس کے ذریعے ہی تقسیم کی جائے گی۔

تنویر پاستا کے مطابق صدر ورلڈ میمن آرگنائزیشن کی جانب سے پانچ سے چھ ارب روپے قرض دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، تاہم اگر حکومت کی امداد بروقت فراہم ہو جاتی ہے تو قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ سانحے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے بھی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے ۔

آل کراچی تاجر الائنس کے رہنما عتیق میر نے گل پلازہ آتشزدگی پر حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگومیں تاجر رہنما عتیق میر نے کہا کہ چھوٹے مقامات پر بھی حکمران ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں جبکہ فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھنے کا انتظار کررہا تھا۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی ہیلی کاپٹر آیا آگ بجھانے، قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے۔

تاجر الائنس کے چیئرمین حکیم شاہ نے کہا کہ اول دن سے کے ایم سی اور حکومت سندھ کی نااہلی دیکھی، حکومت کہہ رہی ہے 90 فیصد کام مکمل ہوا ہے جبکہ اب تک کچھ ہی فیصد کام ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست والے لوگ سیاست ہی کررہے ہیں، تاجروں کو حق دینے والا کون آئے گا، اس سانحے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ذمہ داران کو ہی کمیٹی میں شامل کیا ہے لیکن ہمیں جہاں جانا پڑا جائیں گے۔1990ء کے نقشے نکال کر سیاست کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو جو تاجر متاثر ہوا ہے اس کی مدد کی جائے اور یہ معاوضہ سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں دیا جائے، اگر یہ نہیں کیا گیا تو اس کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے۔

اگر پورے پاکستان کی بھی دکانیں بند کرنا پڑیں تو وہ بھی کریں گے۔تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ ایک ہفتے سے زائد کا وقت گزر گیا ہے لیکن اب تک ملبہ نہیں اٹھایا گیاجبکہ متاثرین در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہی نامعلوم کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے، نامعلوم ہمیشہ نامعلوم ہے معلوم ہونا چاہیے۔