اسلام آباد:مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب پر خودکش حملے میں شہداء کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات محض ایک سماجی تقریب پر حملہ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی احساسات پر گہرا اثر ڈال جاتے ہیں جس سے سوسائٹی سسک کے رہ جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہماری ریاستی مشینری اورفورسز قیام امن کے لیے اپنی کوششوں اور قربانیوں کا ذکر تو نہایت زورو شور سے کرتے ہیں لیکن عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کے مصداق بدامنی اور تشدد کی لہریں بدستور بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔
شہری سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بے پناہ وسائل اور لامحدود اختیارات کے باوجود دن بدن حکومتی رٹ محدود اور گورننس کا بحران کیوں بڑھ رہا ہے؟۔مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ریاست عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ کرنے کا فرض کیوں نہیں نبھاسکتی۔
سیکورٹی کے نام پر شہریوں کی نقل و حمل کی آزادی محدود اور بنیادی انسانی حقوق سلب کر لینے کے باوجود دہشت گردی کیوں شہر کے دروازے پر دستک دینے لگی ہے۔

