گل پلازہ مخدوش،مشکوک ڈیوائس برآمد،میونسپل کمشنر فارغ،ابتدائی رپورٹ تیار(ڈی سی کا80اموات کا دعویٰ)

کراچی:سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے آگ سے متاثرہ گْل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا۔جمعرات کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا۔

دورے کے بعد تکنیکی کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا۔کمیٹی نے سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریشن کے بعد گرادیا جائے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل پلازہ ہے،گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا۔

ایس بی سی اے نے بتایا کہ گل پلازہ سے متصل عمارتوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔دریں اثناء آتشزدگی کے چھٹے روز بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری رہا اور اس دوران مزیدایک شخصکی باقیات برآمد کرلی گئی۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ گل پلازہ میں تلاش کا عمل جاری ہے جو ایسوسی ایشن کی مدد سے کی جا رہی ہے عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

ریسکیوحکام نے مزید بتایا کہ پلازہ کی چھت سے 61 میں سے 16 موٹرسائکلیں اتار لی گئی ہیں ۔جاں بحق 26 افراد میں سے 13 لاشوں کی شناخت ہوگئی، ایکلاپتہ فہرست میں شامل تھا۔ادھر تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے تیار کرلی۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی، دکان میں موجود بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ لگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی۔

آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔ذرائع نے کہا کہ عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں، عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی، آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ۔

سول اسپتال ڈی این اے لیب کے شناخت پروجیکٹ کے انچارج عامر حسن نے گل پلازہ سے ملنے والی باقیات سے متعلق دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔انچارج شناخت پروجیکٹ سول اسپتال ڈی این اے لیب عامر حسن نے کہا ہے کہ گْل پلازہ سے آنے والی باقیات کی حالت انتہائی خراب ہے، ڈی این اے کیلئے سیمپل بھی نہیں لیے جاسکتے۔

عامر حسن کا کہنا تھا کہ ثابت لاشیں صرف 6 جبکہ خراب حالت میں ایک لاش ملی تھی، مجموعی طور پر اب تک صرف 15 افراد کی شناخت ہوسکی ہے، جو بھی باڈیز مل رہی تھی وہ باقیات کی صورت میں تھی۔

انچارج شناخت پروجیکٹ کا کہنا تھا کہ اب جو باڈیز مل رہی ہیں وہ مکمل طور پر جلی ہوئی ہیں،سیمپل کے لیے جب باقیات کو ہاتھ لگاتے ہیں تو وہ پاؤڈر بن جاتی ہیں، ڈی این اے سیمپل لیے جارہے ہیں، شناخت کا عمل جاری ہے۔

عامرحسن نے بتایا کہ اب تک 50کے قریب بیگز ہم نے بنائے ہیں، شناخت کے لیے ہم دیگر طریقہ کار کا استعمال بھی کریں گے، آخری لوکیشن کا ڈیٹا بھی حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اعضاکاکون سا حصہ یا باقیات کہاں سے اٹھائی گئی ہم یہ بھی دیکھیں گے، ہم اس سے اندازہ لگالیں گے کہ جو باقیات اٹھارہے ہیں وہ کس کی ہے۔

ادھرمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے متاثرین رحمان، حسام اور سرفراز کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں،متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

میئر کراچی نے متاثرہ خاندان کے کاروبار کی بحالی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ حکومت سندھ متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، ہماری کوشش ہے کہ متاثرین کے پیاروں کو جلد از جلد ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔

دریں اثناء ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، مکمل تحقیقات ہوں گی، تقریباً 80 افراد جاں بحق ہوئے، 86 افراد لاپتا ہیں۔

جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں،مشینری کو اس لیے روک رہے ہیں کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے،عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہ کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کونسے دروازے بند تھے کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریباً 80 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 86 افراد کے ناموں کا اندراج کرایا گیا ہے، اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 14 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جس میں ڈی این اے سے 8 افراد کی شناخت ہوئی ہے، 48 افراد کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے ملبہ کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے جن عمارتوں میں فائر کے انتظامات نہیں ان کو نوٹس جاری کررہے ہیں، چھ عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔

علاوہ ازیں آتشزدگی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں جن کے مطابق آگ نے عمارت کے پچھلے حصے سے اگلے حصے تک پہنچنے میں صرف 11 منٹ لیے۔ یہ معلومات اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے تیار کی گئی ٹائم لائن سے حاصل ہوئی ہیں جسے تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ گل پلازہ کے پچھلے حصے میں رات 10 بج کر 7 منٹ پر آگ لگی۔ ایک منٹ بعد، یعنی 10 بج کر 8 منٹ پر عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا واضح طور پر نظر آنے لگا۔ چند ہی منٹ میں آگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور 10 بج کر 12 منٹ پر شعلے دکھائی دینے لگے جس کے بعد امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور ایمبولینسز موقع پر پہنچنا شروع ہو گئیں۔

مزید بتایا گیا کہ ایم اے جناح روڈ کی جانب واقع پلازہ کے اگلے حصے میں آگ 10 بج کر 18 منٹ پر نظر آئی۔اسی دوران فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی علاقے میں پہنچتی دکھائی دیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ فوٹیج کے مطابق آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور مختصر وقت میں عمارت کے بڑے حصے کو متاثر کر دیا۔

دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈی سی آفس کے ساتھ لگے سی سی ٹی وی کیمرے خراب تھے، ذرائع کے مطابق کیمرے حادثے کے دن لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ پہلے سے خراب تھے۔جب کہ گل پلازہ میں آگ لگنے سے چند روز قبل نیا سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا تھا، ویڈیو میں گل پلازہ میں لگے درجنوں کیمروں کی مانیٹرنگ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کیمروں کے ساتھ ڈی وی آر بھی نصب تھا۔ نئے سی سی ٹی وی کیمرے تمام فلورز پر موجود تھے اور میئر کی ہدایت کے بعد کیمروں کی مرمت کے لیے مینٹی ننس ٹیم پہنچی تھی۔ذرائع نے بتایا سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر آگ لگنے اور پھیلنے کے تمام مراحل کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی وجوہات اور حالات کا درست تعین کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

دوسری جانب سانحہ گل پلازہ پر میونسپل کمشنر کے ایم سی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹادیا گیا۔چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق افضل زیدی کو سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 19 گریڈکی ایکس پی سی ایس افسر سمیراحسین کو میونسپل کمشنر کے ایم سی کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔سابق میونسپل کمشنرافضل زیدی 30 نومبر کو 3 سالہ ابراہیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد سے تنقید کی زد میں تھے۔

ذرائع سندھ حکومت کے مطابق گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی میں بھی افضل زیدی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔گزشتہ ماہ افضل زیدی کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا تھا۔امیگریشن ذرائع کے مطابق میونسپل کمشنر افضل زیدی ترکیے جانے کے لیے کراچی ائیرپورٹ پہنچے تھے تاہم اسٹاپ لسٹ میں نام ہونے کے سبب انہیں آف لوڈ کیا گیا۔

ادھرجلنے والی گل پلازہ کی عمارت کے اندر سے مشکوک چیز برآمد ہوئی ہے۔ڈیوائسز کو ڈی سی آفس منتقل کر دیا گیا، مشکوک چیز سینٹرل اے سی کا ریڈی ایٹر ہے یا کوئی اور چیز، تحقیقات کے دوران معلوم ہوگا۔عمارت کے گرے ہوئے حصے سے ملبہ ہٹانے کے دوران ریسکیو حکام کو مشکوک چیز ملی۔