علمِ حدیث کا ایک عہد تمام ہوا

علم کی بستی اُداس، کراچی کی فضائیں سوگوار اور جامعہ بنوری ٹاون کے در و دیوار غم زدہ ہیں۔ عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ کے شیخ الحدیث، محدثِ جلیل اور ہزاروں علماء و تلامذہ کے شفیق، مربی اور اُستاد حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون، رحمة اللہ علیہ رحمةً واسعةً! آپ ؒ کی رحلت سے علمِ حدیث کا ایک روشن چراغ تو بجھ گیا مگر اس کی کرنیں آنے والی نسلوں کو منور کرتی رہیں گی۔
سفرِ آخرت کا مبارک آغاز
کہا جاتا ہے کہ انسان جس حال میں جیتا ہے اُسی حال میں اسے موت آتی ہے۔ حضرت قاری صاحب ؒکی پوری زندگی قرآن و حدیث کی خدمت میں گزری اور آخری لمحات بھی اسی نور سے منور رہے۔ ہسپتال میں زیرِ علاج ہونے کے باوجود نمازِ فجر کے بعد آپ کا تلاوتِ کلامِ الٰہی اور اذکار میں مشغول ہونا اِس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا تعلقِ مع اللہ کتنا مضبوط تھا۔ ذکرِ الٰہی کی اسی خوشبو میں بسے ہوئے وہ لمحات آپ کی زندگی کے آخری لمحات ثابت ہوئے اور آپ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے۔
عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم : درسِ بخاری کا مقدمہ
ہم طالبات نے پردے اور حجاب کے مکمل شرعی اہتمام کے ساتھ آپ سے علم حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حاصل کیاہے، اس کے باوجود کبھی بھی بوریت کا احساس نہیں ہوا۔ آپ کا اندازِ تدریس روایتی خشکی سے کوسوں دور اور قلبی سوز سے لبریز تھا۔ اُستادِ محترم جب صحیح بخاری کا سبق شروع فرماتے تو سب سے پہلے دلوں کی بنجر زمین میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیج بوتے ہوئے یہ شعر پڑھا کرتے تھے:
بنا عشقِ مصطفی کے جو پڑھتا ہے بخاری
آتا ہے بخار اُس کو، آتی نہیں بخاری
علمی ابحاث اور شعری جمالیات
آپ ؒکا درسِ حدیث محض الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ معرفت کا ایک بہتا ہوا دریا تھا۔ جب دورانِ درس ’نزولِ وحی‘ کی کیفیات کا تذکرہ آتا تو آپ ایک خاص وجدانی لہجے میں یہ اشعار پڑھتے تھے:
کر غور ذرا دِل پر، کچھ جلوہ گری ہوگی
یہ شیشہ نہیں خالی، دیکھ اس میں پری ہوگی
ساقی تیرا مستی سے، کیا حال ہوا ہوگا
جب مئے اس ظالم نے، شیشے میں بھری ہوگی
اِن اشعار کے ذریعے آپ وحی کی لطافت اور اس کی سنگینی کو اتنے عام فہم اور دل نشین انداز میں سمجھاتے کہ گھنٹوں کا سبق منٹوں میں گزرتا محسوس ہوتا۔ پردے کے اس پار بیٹھ کر جب ’قال اللہ وقال الرسول‘ کی صدائیں ہمارے کانوں میں پڑتیں تو ہم علم کی ان آبشاروں میں ایسی غوطہ زن ہوتیں کہ وقت اور گرد و پیش کا ہوش ہی نہ رہتا۔
علامہ بنوری ؒ کا فیض اور تصنیفی ذوق
آپ رحمہ اللہ محدثِ عصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے اُن تلامذہِ خاص میں سے تھے جنہوں نے اپنے شیخ کے علمی وقار کو زندگی بھر برقرار رکھا۔ تدریس کے ساتھ ساتھ آپ کا قلمی سفر بھی جاری رہا۔ آپ ؒنے حدیث کے پیچیدہ مسائل اور ابحاث کو جس سہل انداز میں تحریری صورت دی، وہ طلباءو طالبات اور محققینِ علم کے لیے ایک گراں قدر علمی اثاثہ ہے۔ آہ! الوداع استادِ محترم! آپ کے درس کا اختتام ہمیشہ ایک مخصوص عارفانہ رنگ میں ہوتا، جب آپ یہ شعر پڑھ کر کتاب بند فرماتے:
لطفِ سجن دم بدم، قہرِ سجن گاہ گاہ
ایں بھی سجن واہ واہ، اوں بھی سجن واہ واہ
آج استادِ محترم خود اِس دنیا کی کتاب بند کرکے اپنے ’حقیقی سجن‘ (ربِ کریم) کے پاس چلے گئے ہیں۔ علم و حیا کا وہ پیکر اب ہمارے درمیان نہیں رہا مگر اُن کے سکھائے ہوئے اسباق اور اُن کی شفقتیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ حضرت استادِ محترم کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں مقامِ عالی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین! (اُم محمد حامد۔ کراچی)