وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ….

حضرت مولانا پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ اُن ہستیوں میں سے تھے جن کی موجودگی خود اللہ تعالیٰ کا ایک پیغام ہوتی تھی۔ جہاں بھی وہ قدم رکھتے فضا بدل جاتی، بات کم مگر اثر گہرا اور دیرپا ہوتا۔ اُن کے سامنے بیٹھنے والا محسوس کیے بغیر نہ رہتا تھا کہ وہ کسی رسمی بزرگ کے سامنے نہیں بلکہ ایک ایسے مخلص اور خیرخواہ کے پاس ہے جو دل کی بات دل تک پہنچانے کا فن جانتا ہے۔
میرا اُن سے عقیدت مندانہ تعلق قدیم ہے۔ مجھے پہلی بار اُن کے بیانات سننے اور استفادے کا شرف تب حاصل ہوا جب میں چوتھی جماعت کی طالبہ تھی۔ اُن کی تعلیمات و ارشادات سے مستفید ہو کر میرے دل میں دین کی محبت کی ایک گہری تڑپ اور لگن پیدا ہوئی۔ تب حالات ایسے نہیں تھے کہ کوئی براہِ راست بیعت یا روحانی تعلق قائم ہوپاتا اور نہ ہی انٹرنیٹ کی آسان رسائی موجود تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے 2019ء میں جب میں نے ادارہ ’ابراہیم اکیڈمی‘ جو کہ اب ادارہ ’ای الکہف فار سسٹرز‘ ہے، جوائن کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس ادارے کے سربراہ حضرت حافظ محمد ابراہیم نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ، حضرت پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے قریبی خلفاء میں سے ہیں۔ یہ جان کر دل خوشی سے بھر گیا کہ اللہ نے مجھے اس توسط سے ان بزرگانِ دین کے قریب کیا اور میرے دل کی آرزو کو عملی صورت دی۔ یہ میرے لیے ایک عظیم سعادت اور اللہ کی خاص عنایت ہے۔ 22 جمادی الثانیہ 1447ھ ، بمطابق 14 دسمبر 2025ء بروز اتوار، وہ ساعت تھی جب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کا یہ روشن چراغ اپنے رب کے حضور حاضر ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ محض ایک فرد کی رحلت نہیں بلکہ ایک عہد کی تکمیل تھی جس نے لاکھوں دلوں کو اللہ کی طرف مائل کیا …. وہ جو بیچتے تھے دوائے دل …. وہ دُکان اپنی بڑھا گئے!
حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ یکم اپریل 1953ء کو جھنگ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتداءً انہوں نے عصری تعلیم حاصل کی۔ الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری لے کر مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اس دوران دیگر کئی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کیں مگر دل کے اندر ایک اور سفر بھی چل رہا تھا، دینی علوم کی طرف رغبت بڑھتی گئی۔ قرآن حفظ کیا، ابتدائی دینیات، فارسی اور عربی کی کتابی پڑھیں، جھنگ اور لاہور میں درس نظامی کی کتب بخاری شریف تک پڑھیں اور اکابر علماءسے اجازتِ حدیث کا اعزاز ملا۔ علم ان کے لیے محض کتابی ذخیرہ نہیں بلکہ عمل کی روشنی تھا۔ان کی زندگی کا اہم موڑ حضرت سید زوّار حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ سے نسبت قائم ہونا تھا جن سے انہوں نے حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے مکتوبات کا درس لیا۔ بعدازاں حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی رحمہ اللہ سے علمی فیض حاصل کیا جنہیں وہ اپنی اصل تربیت کا مرکز قرار دیتے تھے۔ اکابر دیوبند سے محبت اور احترام ان کی صحبت فیض اثر کا نتیجہ تھا۔
شیخ ثانی مرشد عالم ، حضرت پیر حافظ غلام حبیب نقشبندی قدس سرہ سے خلافت و اجازت ملنے کے بعد حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ اصلاح و ارشاد کے منصب پر فائز ہوئے مگر ہمیشہ اسے خدمت کی ذمہ داری جانا اور رضائے الٰہی کا راستہ سمجھا۔ ان کی اصلاح کا طریقہ نرم تھا، بات دل کو چھو جاتی تھی، سختی نہیں۔ وہ خود بھی سیکھنے والے تھے، مریدوں سے علم لیتے، تصوف کو قلب کی صفائی اور عمل کی سچائی سمجھتے، خانقاہ کو گوشہ نشینی نہیں بلکہ خدمت کا مرکز جانتے تھے۔ گویا وہ جلوت میں خلوت کا ہنر جانتے تھے، اسی فکر کا عملی مظہر جھنگ میں معہدالفقیر الاسلامی اور جامعہ عائشہ للبنات جیسے ادارے ہیں جو آج بھی اُن کے اخلاص و فکر اور جہد مسلسل کے عکاس ہیں۔
اُن کے بیانات میں حکمت و موعظت، درد و سوز، قرآن و حدیث کی روشنی اور عملی تجربات کا حسین امتزاج ملتا تھا۔ ان کی وفات پر لاکھوں عقیدت مند اور سینکڑوں اکابر و مشائخ جامعہ معہدالفقیر میں جمع ہوئے، جو اُن کے دلوں میں زندہ مقام کی دلیل تھی۔ ان کی وفات کا دن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن سے ہم آہنگ ہونا بھی ایک علامتِ الہیہ ہے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں مگر ان کی تعلیمات، ان کی نسبت اور ان کے قائم کردہ ادارے زندہ ہیں۔ حضرت پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ جیسے لوگ یادوں میں اور دلوں میں مزید گہرے ہوجاتے ہیں۔ حضرت پیر صاحب نوراللہ مرقدہ کی وفات پر اُن کے خلیفہ، حضرت حافظ محمد ابراہیم نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ کے جو الفاظ تھے، وہ انتہائی دردِدل سے لبریز اور گہرے اثرات رکھنے والے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:
”آج دنیا ایک ایسی خاموشی میں ڈوب گئی ہے جس کی گونج صدیوں تک سنائی دی جائے گی۔“
یہ الفاظ نہ صرف حضرت پیر صاحب کی شخصیت کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اُن کی زندگی کے اثرات کی گہرائی و گیرائی اور پائیداری کو بھی بیان کرتے ہیں، جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکر آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے اہل خانہ، خلفاءاور محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین! (وجیہہ محمد عثمان)