موسمِ سرما اپنی ٹھنڈی ہواوں، مختصر دنوں اور طویل راتوں کے ساتھ جہاں زندگی میں سستی اور کاہلی لے آتا ہے وہیں اللہ تعالیٰ کی ایک بے حد قیمتی نعمت دھوپ بھی عطا کرتا ہے۔
سردیوں کی دھوپ محض جسم کو حرارت دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت، توانائی اور ذہنی سکون کا خزانہ ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس نعمت سے پورا فائدہ نہیں اٹھاتے۔ سردیوں میں دھوپ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم کو وٹامن ڈی فراہم کرتی ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی، دانتوں کی صحت اور پٹھوں کی کارکردگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی جوڑوں کے درد، کمزوری اور تھکن کا باعث بن سکتی ہے۔ روزانہ چند منٹ دھوپ میں بیٹھنا ان مسائل سے بچاو کا آسان اور قدرتی ذریعہ ہے۔
٭…. ذہنی سکون اور تازگی: دھوپ صرف جسم کو نہیں ذہن کو بھی راحت پہنچاتی ہے۔ سرد موسم میں اکثر اُداسی، بوجھل پن اور چڑچڑاپن محسوس ہونے لگتا ہے۔ دھوپ میں گزارا گیا وقت ذہنی دباو کم کرتا ہے، موڈ کو بہتر بناتا ہے اور دل کو خوشی و اطمینان بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھوپ میں بیٹھ کر مطالعہ یا ذکر و فکر کرنا دل و دماغ دونوں کے لیے مفید ہوتا ہے۔
٭…. بچوں، بزرگوں کےلئے خاص اہمیت: بچوں کی نشوونما اور بزرگوں کی صحت کے لیے دھوپ بے حد ضروری ہے۔ بچوں کی ہڈیوں کی مضبوطی اور بزرگوں میں ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچاو میں دھوپ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ گھروں میں بچوں اور بزرگوں کو روزانہ مناسب وقت دھوپ میں بٹھایا جائے۔
٭….سستی اور کاہلی کا علاج: موسمِ سرما میں لحاف اور گرم کمروں سے نکلنے کو دل نہیں چاہتا، نتیجتاً سستی اور کاہلی بڑھ جاتی ہے۔ دھوپ میں کچھ وقت گزارنا اس کا بہترین علاج ہے۔ یہ جسم میں حرارت اور توانائی پیدا کرتی ہے اور انسان کو دوبارہ متحرک بنا دیتی ہے۔
قارئین کرام! بے شک دھوپ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جس پر شکر ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ اس سے فائدہ اعتدال کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔ نہ بہت زیادہ دیر اور نہ ہی بالکل نظرانداز کرنا بلکہ روزانہ چند منٹ باقاعدگی سے دھوپ میں بیٹھنا صحت مند زندگی کی علامت ہے۔ موسمِ سرما میں دھوپ کو محض ایک معمولی چیز سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ یہ قدرت کی وہ نعمت ہے جو صحت، سکون اور توانائی تینوں ایک ساتھ عطا کرتی ہے۔ اس لیے اپنی روزمرہ زندگی میں یہ عادت شامل کریں کہ سردیوں میں کچھ نہ کچھ وقت ضرور دھوپ میں گزاریں۔ یہ جسم کے لیے بھی مفید ہے اور روح کے لیے بھی باعثِ راحت ہے۔ (عبدالعلیم زہری)

