اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کو دور کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات کے فروغ پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں برآمدات میں اضافے کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں جولائی تا دسمبر 2025ء تک کے تجارتی اعداد و شمار پیش کئے گئے جبکہ ہائی ویلیو سیکٹر، جیسا کہ انجینئرنگ، ادویات میڈیکل ڈیوائسز اور پراسیسڈ فوڈ کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی برآمدات کو گلوبل ویلیو چین کا حصہ بنانے کے حوالے سے بھی کام کیا جا رہا ہے جبکہ برآمد کنندگان کو سہولت دینے کے حوالے سے ملک میں پورٹس اور لاجسٹکس کے نظام میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات کے حوالے سے کئی ممالک سے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جائے جبکہ ایکسپورٹرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے کیا جائے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی۔
دریں اثناء نئے کاروبار، چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو مالی معاونت سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے ودرمیانے درجے کے کاروباراور چھوٹے کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان شعبوں کو آسان قرضوں کی فراہمی، معاشی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینک قرضوں کے طریقہ کار کو مزید سادہ اور مؤثر بنائیں تاکہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔

