اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور بیماری کی روک تھام کیلئے ادویات کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ سے برآمدات کے قابل اشیاء کی تیاری کیلئے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زرعی شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کیلئے تحقیق پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماہی گیری اور پھلوں و ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کیلئے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کئے جائیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان کی موجودہ فی ایکڑ اوسط پیداوار کو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے بڑھایا جائے گا جس کے لیے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی، پالیسی اقدامات اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون سے مؤثر ایکسٹینشن سروسز فراہم کرے گی اور کسانوں کو جدید خطوط پر زرعی طریقہ کار سے روشناس کرایا جائے گا۔
شرکا کو مزید بتایا گیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے وفاقی حکومت سرٹیفکیشن رجیم پر کام کرے گی جو زرعی اجناس اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں قدر میں اضافہ یقینی بنا کر کسانوں کے منافع میں اضافے کا باعث بنے گا۔

